021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
روزے میں زائنو سین (Xynosine) سونگھنے کا حکم
76017روزے کا بیانروزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان

سوال

بندہ زائنوسین (Xynosine) سونگھتا ہے، اس کے بغیر سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا رہتا ہے، کیا رمضان میں سانس کے لیے یہ دوائی استعمال کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

o

زائنوسین، انہلر کی طرح سانس لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس کے استعمال سے چونکہ دوائی ناک کے راستے سے جوف کے اندر جاتی ہے؛ اس لیے روزہ کی حالت میں اس کا استعمال درست نہیں، اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ البتہ اگر زائنوسین استعمال کیے بغیر آپ کے لیے رہنا مشکل ہو اور بیماری بڑھنے یا لمبی ہونے کا خطرہ ہو اور روزہ کے اوقات میں اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو پھر آپ اس عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھیں، بعد میں جب صحت ایسی ہو کہ زائنوسین کے بغیر روزے رکھ سکیں تو ان روزوں کی قضا کرلیں، اور قضا روزے لگاتار رکھنا ضروری نہیں، وقفے وقفے سے بھی رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ بیماری ایسی ہو کہ جس سے شفا یابی کی امید نہ ہو تو پھر آپ پر قضا لازم نہیں ہوگی، بلکہ فدیہ دینا ہوگا، ایک روزے کا فدیہ صدقۂ فطر کے برابر ہے۔ تاہم اگر شفایابی کی امید نہ ہونے کی وجہ سے روزوں کا فدیہ دیا، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی تو پھر ان روزوں کی قضا لازم ہوگی، اور جو فدیہ دیا ہوگا وہ صدقہ ہوجائے گا۔  

حوالہ جات

الدر المختار (2/ 395):
لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا لو ذاكرا؛ لإمكان التحرز عنه، فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي.
رد المحتار (2 / 395):
(قوله: لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكراً لصومه أفطر لإمكان التحرز عنه. وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس، ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك؛ لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه، و بين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله، إمداد.
الدر المختار (2/ 427):
( وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي ) وجوبا ولو في أول الشهر، وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا.
رد المحتار (2/ 427):
 قوله ( وللشيخ الفاني ) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت،  نهر. ومثله ما في القهستاني عن الكرماني المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اه،  وكذا في البحر لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر على القضاء . قوله ( العاجز عن الصوم ) أي عجزا مستمرا كما يأتي، أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء، فتح . قوله ( ويفدي وجوبا ) لأن عذره ليس بعرضى للزوال حتى يصير إلى القضاء فوجبت الفدية،  نهر.  

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

    10/رجب /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔