021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کا طریقہ اور اس کی عدت کا حکم
75898طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

خلع کا شرعی طریقہ کیا ہے اور اس کی عدت کتنے دن کی ہے؟

o

اگر میاں بیوی میں کسی طرح ساتھ رہنا ممکن نہ ہو سکے اور مرد طلاق بھی نہ دیتا ہو تو عورت کے لیے جائز ہے کہ کچھ مال دے کر یا اپنا مہر دے کر یا  اپنا مہر معاف کرکے مرد سے خلاصی حاصل کرے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت مرد سے کہے کہ اتنا روپیہ لے کر مجھے چھوڑ دو یا یوں کہے کہ جو میرا مہر تیرے ذمہ ہے، اس کے عوض مجھے چھوڑ دو، اور اس کے جواب میں اسی جگہ بلا کسی تعطل کے مرد کہے کہ میں نے چھوڑ دیا تو اس سے عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے اور اس کے بعد مرد کو رجوع کا اختیار نہیں رہتا اور اس طرح نکاح ختم کرنے کو شریعت میں" خلع" کہا جاتا ہے۔

خلع میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی رضامندی کے بغیر بیوی خلع حاصل نہیں کر سکتی  اور نہ ہی عدالت شوہر کی اجازت اور مرضی کے بغیر شرعا یک طرفہ خلع کرا سکتی ہے۔ البتہ یہ بات واضح رہے کہ اگر معاملات کی خرابی اور قصور شوہر کا ہو تو اس کیلئے بدل خلع لینا اور پھر استعمال کرنا دونوں ناجائز  ہوں گے ۔

جب خلع واقع ہو جائے تو عورت بائنہ ہو جاتی ہے اور اس  کا نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اس پر عدت گزارنا لازم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اگر عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہواری  ہو گی،  یعنی تین حیض کی مدت تک اس کی عدت رہے گی اور اگر کسی بھی وجہ سے حیض آنا بند  ہو گیا ہو تو پھر عدت تین مکمل مہینے  ہو گی۔ اگر عورت خلع کے وقت حاملہ ہو تو اس کی عدت  بچے کی پیدائش تک ہو گی۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [البقرة: 229]:
﴿وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾
صحيح البخاري (7/ 47 ط السلطانية):
عن ‌ابن عباس «أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتردين عليه حديقته؟ قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌اقبل ‌الحديقة وطلقها تطليقة.»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين :(3/ 445)
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.
 (قوله: وكره تحريما أخذ الشيء) أي قليلا كان، أو كثيرا.والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا{فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20]إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث، وتمامه في الفتح۔
الفتاوى العالمكيرية : (1/ 526)
إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.
والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية وكذا لو رأت دما يوما، ثم لم تر فعدتها بالشهور هو الصحيح ولو رأت ثلاثة دما، ثم انقطع فعدتها بالحيض، وإن طال إلى أن تيأس كذا في العتابية. وفي جوامع الفقه فيما دون الثلاثة تعتد بالشهور وهو الصحيح وفي الثلاثة بالحيض كذا في غاية السروجي. وكذا إذا كانت صغيرة تعتد بالشهور فحاضت بطل حكم الشهور واستقبلت العدة بالحيض كذا في السراج الوهاج.
إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولا تحتسب هذه الحيضة من العدة كذا في الظهيرية.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏8، رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔