021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھوٹے دیہات میں جمعہ کی نماز کے قیام کا حکم
76009نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

ہمارے دیہات میں جمعہ نہیں پڑھایا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ وہاں پولیس کا تھانہ، ہائی اسکول اور چوکی بھی ہے اور وہاں دکانیں بھی ہیں جس میں ضروریات کی اکثر چیزیں مہیا ہو سکتی ہیں  مثلاً مرغ، سلنڈر اور ویلڈر   لیکن یہ دیہات ژوب  کے شہر سے 55 میل دور ہے۔ نفوس کی تعداد زیادہ ہیں۔ بات یہ ہے کہ دیہات (مرغہ کبزئی کلی سڑی) میں دور دور گھرانے  آباد ہیں۔ جب کوئی ضرورت کی چیز اٹھاتا ہے تو سب یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں لیکن عصر کے وقت کچھ اور رش زیادہ ہو جاتا ہے۔

تنقیح: گاؤں منضبط نہیں ہے بلکہ گھر دو تین کلو میٹر دور چھوٹی بستیوں میں آباد ہیں اور انہوں نے  وہیں مسجدیں بنائی ہوئی ہیں اور نمازیں بھی وہیں ادا کرتے ہیں ان بستیوں میں افراد کی  کل تعداد تقریباً 2000 ہے۔ ایک سرکاری ہسپتال /کلینک ہے۔ ڈاک خانہ بند ہو چکا ہے اور گاؤں کی اپنی کچہری بھی نہیں ہے۔ مرکزی بازار میں تقریباً 35 دکانیں ہیں، البتہ بہت سی ضروریات کیلئے وہاں کے افراد کو شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے، اس کے علاوہ دکانوں کی نگرانی بھی لیوی فورس (پولیس) نہیں کرتی بلکہ چوکیدار کے ذریعے کی جاتی ہے۔

o

واضح رہے کہ دیہاتوں اور قصبوں میں جمعہ کی نماز کا قیام فقہاء کے درمیان  مجتہد فیہ امر ہے جو کہ زمانہ کے عرف اور دیہات کے حالات پر مبنی ہے۔ چنانچہ فقہاء احناف نے اس سلسلے میں جن باتوں کے وجود کو جمعہ کی نماز کے قیام کیلئے  ضروری قرار دیا ہے وہ  ایک تو یہ ہے کہ بڑ اشہر یا شہر کا مضافاتی علاقہ ہو  جس  سے شہر کی ضروریات پوری ہوتی ہوں یا پھر ایسا  قصبہ اور قصبہ نما بڑا  گاؤں ہو جسے عرف عام میں بڑا گاؤں سمجھا جاتا ہو، جو کم  از کم چار  ہزار کی  منضبط آبادی پر مشتمل ہو، وہاں باقاعدہ بازار ہوں، جن میں عمومی ضرورت کی تمام چیزیں با آسانی دستیاب ہوں، علاج و معالجہ کے لیے ہسپتال و کلینک، ڈاکخانہ، تھانہ یا ثالثی اور پنچایت  کا نظام ہو، متمدن زندگی سے متعلق ضروری پیشوں سے وابستہ لوگ موجود ہوں ،اگر ان میں سے کوئی صورت نہ ہو تو جمعہ قائم کرنا درست نہیں۔

لہذا سائل کی وضاحت اور  دیگر معتبر علماء   سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق آپ کے گاؤں مرغہ کبزئی میں مصر جامع اور  قریہ کبیرہ کی جملہ شرائط نہیں پائی جاتیں۔ چنانچہ وہاں جمعہ کی نماز کا قیام درست نہیں ہے اور گاؤں کے افراد پر اس وقت میں ظہر کی نماز  کا قائم کرنا ہی کافی ہے۔

حوالہ جات

مصنف عبد الرزاق الصنعاني: (3/ 301)
  عن معمر، عن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي قال: لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع.
مصنف ابن أبي شيبة (1/ 439):
عن علي رضی اللہ تعالی عنہ ، قال:لا تشريق، ولا جمعة، إلا في مصر جامع.
الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (2/ 137):
(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء .مجتبى، لظهور التواني في الأحكام،وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض قدر على إقامة الحدود ،كما حررناه فيما علقناه على الملتقى. وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقًا على ما قاله السرخسي، وإذا اتصل به الحكم صار مجمعًا عليه فليحفظ. (قوله: له أمير وقاض).....قال الشيخ إسماعيل: ثم المراد من الأمير من يحرس الناس ويمنع المفسدين ويقوي أحكام الشرع، كذا في الرقائق. وحاصله أن يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم كما فسره به في العناية۔ اھ. (قوله: يقدر إلخ) أفرد الضمير تبعاً للهداية لعوده على القاضي لأن ذلك وظيفته بخلاف الأمير لما مر، وفي التعبير بيقدر رد على صدر الشريعة كما علمته. وفي شرح الشيخ إسماعيل عن الدهلوي ليس المراد تنفيذ جميع الأحكام بالفعل؛ إذ الجمعة أقيمت في عهد أظلم الناس وهو الحجاج وإنه ما كان ينفذ جميع الأحكام، بل المراد - والله أعلم - اقتداره على ذلك اھ.ونقل مثله في حاشية أبي السعود عن رسالة العلامة نوح أفندي......وظاهر ما مر عن القهستاني أن مجرد أمر السلطان أو القاضي ببناء المسجد وأدائها فيه حكم رافع للخلاف بلا دعوى وحادثة. وفي قضاء الأشباه: أمر القاضي حكم كقوله: سلم المحدود إلى المدعي، والأمر بدفع الدين، والأمر بحبسه إلخ وأفتى ابن نجيم بأن تزويج القاضي الصغيرة حكم رافع للخلاف ليس لغيره نقضه (قوله: وإذا اتصل به الحكم إلخ) قد علمت أن عبارة القهستاني صريحة في أن مجرد الأمر رافع للخلاف بناء على أن مجرد أمره حكم.....قوله: (إذن عام) أي لكل خطيب أن يستنيب لا لكل شخص أن يخطب في أي مسجد أراد ح.أقول: لكن لا يبقى إلى اليوم الاذن بعدموت السلطان الآذن بذلك إلا إذا أذن به أيضا سلطان زماننا نصره الله تعالى كما بينته في تنقيح الحامدية وسنذكر في باب العيد عن شرح المنية ما يدل عليه أيضا، فتنبه.
فيض الباري على صحيح البخاري :(2/ 423)
واعلم أن القرية والمصر من الأشياء العرفية التي لا تكاد تنضبط بحال وإن نص، ولذا ترك الفقهاء تعريف المصر على العرف كما ذكره في «البدائع» ، وإنما توجهوا إلى تحديد المصر الجامع، فهذه الحدود كلها بعد كونها مصرا. فإن المصر الجامع أخص من مطلق المصر، فقد يتحقق المصر ولا يكون جامعا. ورأيت في عبارة المتقدمين أنهم إذا ذكروا الاختلاف في حدود المصر يجعلونه في الجامع، ويقولون: اختلفوا في المصر الجامع الخ، فتنبت منه أنهم لا يعنون به تعريف مطلق المصر، والناس لما لم يدركوا أمرهم طعنوا في تلك الحدود.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏11، رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔