03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کنایہ الفاظ سے طلاق دینے کا حکم
76057طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

سوال:کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور عامر اکھٹے ہوئے(بذریعہ سوشل میڈیا) باتوں باتوں میں زید نے عامر سے پوچھا گھریلو زندگی کے بارے میں۔۔۔ تو عامر نے جواب دیا کہ میری ایک بیوی تھی جو مجھے چھوڑ کر چلی گئی زید نے عامر سے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے طلاق دی تو عامر نے کہاکہ نہیں، جو میری زندگی سے گیا دفع ہوجائے۔ چند روز بعد دوبارہ زید اور عامر کا آن لائن رابطہ ہوا اور زید نے دوبارہ عامر سے وہی پوچھا کہ کیا بنا آپ کا۔۔۔۔؟اور ساتھ میں زید نے بھی یہ کہاکہ میں تم دونوں کے درمیان صلح کرنا چاہتا ہوں تم صلح کرلو یہ بہترلیکن عامر نے پھر وہی جملہ دہرایاکہ جو میری زندگی سے گیا دفع ہوجائے، جب زید نے عامر کو مزید کریداکہ اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے؟ تو عامر نے جوابا کہا کہ میں طلاق چاہتا ہوں ، تو زید نے عامر سے کہا کہ اپنی بیوی سے رابطہ کرکے اسے طلاق دے دو تو عامر نے کہا میرا ان سے رابطہ نہیں ہے تو زید نے عامر سے کہا کہ ان کے بھائیوں کو بتادو تو عامر نے کہا کہ میں تو ان کو دس بار کہہ چکا ہوں، اب سوال یہ ہے کہ آیا طلاق واقع ہوئی ہے  یا نہیں۔۔۔؟براہ کرم تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

وضاحت:طلاق دینے والے شخص سے براہ راست رابطہ نہیں ہوپا رہا ہے بلکہ ان کے کسی دوست کے ذریعے  یہ سوالنامہ موصول ہوا ہے ، اس لئے اس مسئلے کا جواب مذکورہ سوال کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا جارہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤولہ میں عامر کا حالت مذاکرہ طلاق میں یہ کہنا کہ" جو میری زندگی سے گیا دفع ہوجائے"  الفاظ کنایہ میں سے ہے، اس لئے ان الفاظ میں طلاق اس وقت واقع ہوگی جب کہنے والے کا ان الفاظ سے طلاق دینے کا ارادہ ہو، مسئلہ ہذا میں جب عامر نے زید کے ان الفاظ کی وضاحت طلب کی تو عامر نے کہا   میں طلاق چاہتا ہوں، چونکہ عامر کے یہ الفاظ طلاق کی نیت پر صراحتا دلالت نہیں کررہے، اس لئے ان الفاظ سے طلاق کا واقع ہونا عامر کی نیت پر موقوف ہے، اگریہ الفاظ بولتے وقت عامر کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگر یہ الفاظ بولتے وقت اس کی نیت طلاق کی تھی تو اس صورت میں صرف ایک طلاق بائن واقع ہوگی جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں رضامندی سے اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔  

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 217)

والكنايات ثلاثة أقسام قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح ردا ولا شتما وهي ثلاثة ألفاظ أمرك بيدك اختاري واعتدي ومرادفها وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح ردا وهي خمسة ألفاظ خلية برية بتة بائن حرام ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وردا ولا يصلح سبا وشتيمة وهي خمسة ألفاظ اخرجي واذهبي اغربي قومي تقنعي ومرادفها۔

الدر المختار (3/ 296)

باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب۔

الأصل للشيباني ط قطر (4/ 579)

وإذا قال لها: أنت طالق إن أحببت، فقالت: قد شئت الطلاق، فإنه يقع عليها؛ لأن المشيئة والمحبة سواء. ولو قال لها: أنت طالق إن شئت، فقالت: قد أحببت الطلاق، أو هويت الطلاق، أو أعجبني الطلاق، أو أنا أريد الطلاق، فهذا كله سواء لا يقع به؛ لأن هذا ليس عين المشيئة.

محمدنصیر

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

  19، رجب المرجب،1443ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نصیر ولد عبد الرؤوف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب