021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صف میں اپنی کوئی چیز رکھ کر جگہ متعین کرنے کا حکم
76076جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہماری مسجد میں ایک کمرہ نما جگہ مسجد کے ایک طرف تلاوت قرآن پاک کے لئے مختص کی گئی ہے انتظامیہ کی طرف سے صفوں کے اندر بیٹھے افراد کو تلاوت کلام کی اجازت نہیں تاکہ کسی کی نماز میں خلل نہ ہو اس لئے جو حضرات تلاوت کرنا چاہتے ہیں وہ وہاں بیٹھ کر تلاوت کرتے ہیں۔   کچھ لوگ نماز سے گھنٹہ آدھا گھنٹہ پہلے آ جاتے ہیں دو چار نوافل پڑھ کر تلاوت والی جگہ بیٹھ کر قرآن مجید پڑھتے ہیں مگر اس صورت میں ان کو پہلی صف میں شامل ہونا ممکن نہیں ہوتا بلکہ بعد میں آنے والے دیگر افراد کو با آسانی جگہ مل جاتی ہے،  بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ حضرات سویرے آکر اپنا کپڑا تسبیح یا کوئی اور شے بطور نشانی پہلی صف میں رکھ دیتے ہیں تاکہ تلاوت بھی ہو جائے اور پہلی صف کے ثواب سے محروم بھی نہ ہوں لیکن اس فعل سے لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہوتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اشخاص کا جگہ پکڑنے کے لئے کوئی نشانی رکھنا جو مسجد میں تو پہلے آئے تھے مگر بیٹھے ہوئے دوسری جگہ تھے شرعی طور پر جائز ہے یا ناجائز؟

o

مسجدیں کسی مخصوص شخص کی  ملکیت میں نہیں ہوتیں،   بلکہ ہر مسلمان کا اس میں حق ہوتا  ہے، چنانچہ جو شخص بھی مسجد  میں جلدی  آکر کسی  بھی جگہ پر بیٹھ جائے تو وہ  ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے۔  البتہ جلدی  آنے والے کیلئے اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی کوئی چیز مثلاً : رومال یا تسبیح یا کوئی  کتاب وغیرہ رکھ کر کے   خود مسجد سے باہر نکل جائے اور اپنے کاموں مثلاً:  کاروبار میں یا کھانے  پینے  میں مشغول ہو جائے  یا پھر گھر واپس چلا جائے اور نماز کے وقت میں آکر پھر اس جگہ پر اپنا حق جتائے اور نماز کیلئے اس سے پہلے  آنے والے لوگوں کو  اس جگہ میں نماز پڑھنے سے روکے،  اس لئے کہ ان کاموں میں لگ جانے کی وجہ سے اس کا حق اس جگہ سے ساقط ہو گیا  ہے، چنانچہ کسی کیلئے بھی  ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص مسجد میں جلدی آکر کسی جگہ پر نماز وغیرہ  کی ادائیگی میں مشغول ہو جائے اور پھر وضو کرنے  یا دیوار سے ٹیک لگانے کی غرض سے یا پھر مسجد کے اندر ہی کسی اور  کام کی وجہ سے  اپنی جگہ پر کوئی چیز  مثلاً: مصلی یا تسبیح یا رومال وغیرہ رکھ دے  تو اس صورت میں اس کیلئے ایسا کرنا جائز ہے۔  اس طرح کرنے سے وہ جگہ اس شخص کے لیے مخصوص  ہو جائے گی اور وہی اس کا حقدار رہے گا۔

اس کے بعد یہ سمجھیے کہ  صورت مسئولہ  میں چونکہ جلدی آنے والے حضرات اپنے سامان کو صف میں رکھ کر مسجد سے باہر نہیں جاتے بلکہ  قرآن کریم کی تلاوت کیلئے مسجد ہی میں مقررہ جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں تو بیان کی گئی تفصیل کی روشنی میں  ان کے لئے اپنی جگہ کو برقرار رکھنے کیلئے ایسا کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم(4/ 1715 ت عبد الباقي):
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "إذا قام أحدكم". وفي حديث أبي عوانة "من قام من مجلسه ثم رجع إليه، فهو أحق به"
بذل المجهود في حل سنن أبي داود:(4/ 330)
وفي "النهاية": قيل: معناه أن يألف الرجل مكانا معلوما من المسجد مخصوصا به يصلي فيه، كالبعير لا يأوي عن عطن إلا إلى مبرك دمث قد أوطنه واتخذه مناخا.
قال ابن حجر: وحكمته أن ذلك يؤدي  إلى الشهرة والرياء والسمعة والتقيد بالعادات والحظوظ والشهوات، وكل هذه آفات أي آفات، فتعين البعد عما أدى إليها ما أمكن، انتهى "علي قاري" .
قلت: وعندي في النهي عن توطين الرجل مكانا معينا في المسجد وجه آخر، وهو أنه إذا وطن المكان المعين في المسجد يلازمه، فإذا سبق إليه غيره يزاحمه ويدفعه عنه، وهو لا يجوز لقوله عليه السلام: "لا، مني مناخ من سبق" (4)، فكما هو حكم مني، فهو حكم المسجد، فمن سبق إلى موضع منه فهو أحق به.فعلى هذا لو لازم أحد أن يقوم خلف الإمام قريبا منه لأجل حصول الفضل، وسبق إليه من القوم أحد، لا يزاحمه ولا يدافعه، فلا يدخل في هذا النهي۔
الدر المختار و   حاشية ابن عابدين (662/1):
‌وتخصيص ‌مكان ‌لنفسه، وليس له إزعاج غيره منه ولو مدرسا، وإذا ضاق فللمصلي إزعاج القاعد ولو مشتغلا بقراءة أو درس.
و في حاشيته : (قوله ‌وتخصيص ‌مكان ‌لنفسه) لأنه يخل بالخشوع، كذا في القنية: أي لأنه إذا اعتاده ثم صلى في غيره يبقى باله مشغولا بالأول، بخلاف ما إذا لم يألف مكانا معينا (قوله وليس له إلخ) قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه وقد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية
قلت: وينبغي تقييده بما إذا لم يقم عنه على نية العود بلا مهلة، كما لو قام للوضوء مثلا ولا سيما إذا وضع فيه ثوبه لتحقق سبق يده تأمل. مطلب فيمن سبقت يده إلى مباح وفي شرح السير الكبير للسرخسي: وكذا كل ما يكون المسلمون فيه سواء كالنزول في الرباطات، والجلوس في المساجد للصلاة، والنزول بمنى أو عرفات للحج، حتى لو ضرب فسطاطه في مكان كان ينزل فيه غيره فهو أحق، وليس للآخر أن يحوله، فإن أخذ موضعا فوق ما يحتاجه فللغير أخذ الزائد منه، فلو طلب ذلك منه رجلان فأراد إعطاء أحدهما دون الآخر فله ذلك؛ ولو نزل فيه أحدهما فأراد الذي أخذه أولا وهو غني عنه أن ينزل فيه آخر فلا لأنه اعترض على يده يد أخرى محقة لاحتياجها، إلا إذا قال إنما كنت أخذته لهذا الآخر بأمره لا لنفسي.

محمد انس جمیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

24، رجب المرجب 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے