021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کا حکم (طلاق نامہ پر تین طلاق لکھ کر دینے کا حکم)
76104طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

برائے مہربانی درخواست ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے اس طلاق نامہ کے بارے میں بتائیں کہ کیا   اس سے طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟ یہ جب لکھا جا رہا تھا تو لڑکی کی زبان کے مطابق دونوں موجود تھے اور ان کے سامنے یہ معاملہ طے پایا تھا۔

o

صورت مسئولہ میں فریق اول نے جرگہ کے سامنے جو تین طلاقیں دی ہیں، ان سے  عورت پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور ان دونوں  کا نکاح مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ، چنانچہ بغیر حلالہ شرعی کے  عورت  اپنے شوہر سے  دوبارہ نکاح نہیں کر سکتی۔ لہذا اپنی عدت پوری گزارلینے کے بعد عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

 القرآن الكريم :
﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ﴾ [البقرة: 230]۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(3/ 187)
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] بعد قوله {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229] وقالوا: الإمساك بالمعروف هو الرجعة، والتسريح بالإحسان هو أن يتركها حتى تنقضي عدتها۔

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

27، رجب المرجب 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے