021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق سے متعلق ایک صورت کا حکم (شوہر کا حلفا یہ کہنا کہ طلاق دیتے وقت اس کے ذہن میں ایک یا تین کی تعیین نہ تھی اور وہ بالکل خالی الذہن تھا)
76422طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

حضرت میں آپ سے طلاق کے مسئلہ سے متعلق رہنمائی کا طالب ہوں۔ طلاق کے بعد اس مسئلہ کی مندرجہ ذیل وضاحت اور تفصیلات سامنے آئیں۔ ان تفصیلات کے بعد شریعت کے حکم کی وضاحت فرما دیجئے۔ طلاق کے پس منظر اور وجوہات کو اگر ایک طرف رکھیں اور چند اصولی سوالات کو زیر بحث لائیں تو مسئلہ کی مندرجہ ذیل شکل سامنے آتی ہے۔

1۔ شوہر نے طلاق کا لفظ تین یا چار بار دہرایا لیکن حلفاً کہتا ہے کہ نیت میں ایک یا تین کی تعین شامل نہیں تھی۔

2۔ بیوی حلفاً کہتی ہے کہ "میں نے اپنے کانوں سے صرف ایک بار طلاق کا لفظ سنا کیوں کے میں فوراً ڈر کے کمرے سے بھاگ گئی تھی"۔

3۔ شوہر طلاق کے مسائل سے اس حد تک لاعلم تھا کہ اسے نہیں معلوم تھا کہ رجعی، بائن اور مغلظہ کا کیا فرق ہوتا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  دامت  برکاتہم العالیہ نے اور ہمارے حنفی دیوبندی علما ہی میں سے بعض حضرات نے یہ بات لکھی ہے کہ اگر لفظ طلاق کے ساتھ عدد کی صراحت موجود نہ ہو اور شوہر کی نیت بھی تین طلاق کی نہ ہو بلکہ ایک طلاق کی تاکید کی نیت ہو یا بالکل نیت ہی نہ ہو تب دیانتاً ایک طلاق ہی شمار ہو گی اور مفتی دیانت کے حکم پر ہی فتویٰ دے گا، اور دوسری بات یہ کہ اگر عورت خود اپنے کانوں سے تین مرتبہ طلاق کا لفظ سن لے تب عموماً یہی فتویٰ دیا جاتا ہے کہ "المراۃ کالقاضی" کے اصول کے پیش نظر عورت قضاء کے حکم کی پابند ہو گی اور شوہر کی نیت کا اعتبار نہ ہو گا۔ جب کے مذکورہ بالا صورتحال میں عورت نے طلاق کا لفظ خود صرف ایک بار سنا ہے لہذا یہاں دیانت کے حکم پر عمل کرنے میں یہ رکاوٹ بھی نہیں بنتی۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ میں جلد از جلد شریعت  کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

o

سوال میں موجود صورت کے  متعلق حکم بیان کرنے سے قبل    طلاق سے متعلق چند اہم باتوں کو ذیل میں بیان  کیا گیا ہے۔ چنانچہ فقہاء کے ذکر کردہ اصولوں کے مطابق جن الفاظ سے طلاق واقع کی جاتی ہے ان کی دو قسمیں ہیں۔

(1)صریح الفاظ اور(2) کنائی الفاظ

(1) صریح الفاظ سے طلاق دینے کا  مطلب یہ ہے کہ ایسے الفاظ کے ذریعے طلاق دی جائے جو طلاق ہی کیلئے وضع کئے  گئے ہوں، یعنی ان کے ذریعے طلاق دینے کے بعد کسی قسم کا ابہام  باقی  نہ رہے اور نہ یہ جاننے کی ضرورت رہے کہ شوہر نے یہ لفظ بولتے ہوئے طلاق کی نیت کی تھی یا نہیں۔ جیسے: عربی کا لفظ طلاق، اردو کا جملہ ’تجھے طلاق ہے‘۔ ان الفاظ سے طلاق دینے میں نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا یعنی جتنی بار طلاق کا لفظ ادا  کیا ہے اتنی بار ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

(2) الفاظ کنایہ سے طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے الفاظ سے طلاق دی جائے جو کہ طلاق دینے کیلئے موضوع نہیں، جیسے: تم آزاد ہو، تم  فارغ ہو وغیرہ۔ کنایہ الفاظ سے طلاق کا فیصلہ کرنے کے لیے بولنے والے کی نیت یا قرینہ (صورتحال) معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر کنایہ کا لفظ طلاق کی نیت سے بولا گیا ہو یا طلاق کا قرینہ پا یا جائے تو طلاق واقع ہو گی ورنہ نہیں۔

مذکورہ تفصیل کے بعد یہ بھی واضح رہے کہ طلاق کے  وقوع کیلئے عورت کا یا کسی اور کا سننا ضروری نہیں بلکہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے شوہر کا بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق دینا کافی ہوتا ہے، اور پھر نسبت کرنے میں بھی عموم ہے کہ چاہے نام لیکر طلاق دے یا اشارہ  کر کے یا کوئی ایسا قرینہ موجود ہو کہ جس سے بیوی کی طرف طلاق کی نسبت ثابت ہو جائے یعنی صراحتا ًنسبت یا اس کی طرف اضافت بھی ضروری نہیں ، لہذا  بیوی کا سننا یا اس کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔ چنانچہ اگر شوہر اس بات کا اقرار کرتا  ہے کہ اس نے طلاق دی ہے تو پھر طلاق واقع ہو جائے گی۔

درج بالا تفصیل کے بعد یہ سمجھیے کہ صورت  مسئولہ میں  چونکہ شوہر نے تین طلاقیں صریح الفاظ میں دی ہیں تو قضاءً و دیانتاً دونوں طرح بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوں جائیں گی  اور اس سلسلے میں شوہر کی نیت کا  اعتبار نہ ہو گا ، پھر چاہے  بیوی نے خود سنا ہو یا نہ  سنا ہو  اور بغیر حلالہ وہ دوبارہ شوہر سے نکاح کرنے کی اہل نہ ہو گی، یہی عمومی صورت ہے اور عام  حالات  میں فتویٰ بھی  اسی حکم کے مطابق دیا جاتا ہے،   البتہ اگر شوہر  حلفاً اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ طلاق دیتے وقت  اس  کے ذہن  میں ایک یا تین کی تعیین نہ تھی اور وہ بالکل خالی  الذہن تھا  یعنی کوئی نیت مستحضر ہی نہ تھی (جیسا کہ مذکورہ صورت میں ہے )  یا پھر دوسری اور تیسری  بار طلاق کے الفاظ پہلی طلاق کیلئے بطور تاکید کہے تھے  تو ان دونوں  صورتوں  میں اگر بیوی نے تین کے الفاظ سنے  ہوں تو طلاقیں المراة كالقاضي کے اصول کے تحت تین واقع ہوں گی   (اور یہ حکم قضاء سمجھا جائے گا)ورنہ  (یعنی جب عورت نے تین کے الفاظ نہ سنے ہوں اور شوہر بھی خالی الذہن  یا تاکید کی نیت کا مدعی ہو تو)دیانتاً صرف ایک طلاق  رجعی واقع  ہو گی اور فتویٰ بھی دیانتاً اسی قول پر دیا جائے  گا ۔

حوالہ جات

سنن أبي داود، (ص۳۰۶، ط: المکتبة الأشرفیة، دیوبند):
عن سھل بن سعد قال: فطلقھا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وکان ما صنع عند النبي صلی اللہ علیہ وسلم سنة  ۔
المصنف - ابن أبي شيبة (10/ 133 ت الشثري):
حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة قال: ‌سألت ‌الحكم ‌وحمادا عن رجل قال لامرأته: (أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق) ونوى الأولى قالا: هي واحدة، (وكذلك إذا قال: اعتدي، اعتدي)۔
ألدر المختار وحاشية ابن عابدين  :(3/ 247)
(قوله ما لم يستعمل إلا فيه) أي غالبا كما يفيده كلام البحر. وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلا نية، وأراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة۔
(قوله كنايته عند الفقهاء) أي كناية الطلاق المرادة في هذا المحل وإلا فمعناها عندهم مطلقا كالأصوليين: ما استتر المراد منه في نفسه قال في النهر: وخرج بالأخير ما استرد المراد في الصريح بواسطة نحو غرابة اللفظ أو انكشف المراد في الكناية بواسطة التفسير۔۔۔۔
(قوله ما لم يوضع له إلخ) أي بل وضع لما هو أعم منه ومن حكمه لأن ما سوى الثلاث الرجعية الآتية لم يرد به الطلاق أصلا، بل هو حكمه في البينونة من النكاح؛ وعليه ففي قوله واحتمله تساهل، والمراد احتمله متعلقا لمعناه۔
و فیه أيضا : :(3/ 293)
في ألدر المختار: [فروع] ‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق ‌وقع ‌الكل، وإن نوى التأكيد دين.
وفي حاشيته :  (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا أطلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد.
الفتاوى التاتارخانية،  ط: مكتبة زكريا (4/429):
وفى الخانية : رجـل قـال لامرأتـه " أنت طالق أنت طالق أنت طالق “ وقال : عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها ! صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر :(1/ 188)
ولو كرر لفظ الطلاق فإن قصد الاستئناف وقع الكل، أو التأكيد فواحدة ديانة، والكل قضاء وكذا إذا أطلق. قال الشيخ الحموي تحت قوله(وكذا  إذا أطلق):  يعني لو كرر لفظ الطلاق ولم ينو الاستئناف ولا التأكيد يقع الكل قضاء؛ لأنه يجعل تأسيسا لا تأكيدا؛ لأنه خير من التأكيد كما سيأتي.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية :(1/ 3)
المراد من قولهم يدين ديانة لا قضاء أنه إذا استفتى فقيها يجيبه على وفق ما نوى ولكن القاضي يحكم عليه بوفق كلامه ولا يلتفت إلى نيته إذا كان فيما نوى تخفيف عليه.
وفيه أيضا (1/37):
(سئل) ‌في ‌رجل ‌قال ‌لزوجته روحي طالق وكررها ثلاثا ناويا بذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان؟
(الجواب) : لا يصدق في ذلك قضاء لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان لأن روحي طالق رجعي كما في الفتاوى الخيرية والتمرتاشي وغيرهما وأما روحي فقط فإنه كناية إذ هو كاذهبي كما صرح به صاحب البحر لكن لا يصدق أنه قصدا لتأكيد إلا بيمينه لأن كل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قوله مع يمينه كما في الزيلعي وأفتى بذلك التمرتاشي.
وقال في الخانية لو قال أنت طالق أنت طالق أنت طالق وقال أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا. اهـ. ومثله في الأشباه والحدادي وزاد الزيلعي أن المرأة كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لأنها لا تعلم إلا الظاهر. اهـ

محمد انس جمیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

11، شعبان المعظم 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے