021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیشنل سیونگ کے سرٹیفکیٹ کی رقم اورمنافع پرزکوۃ کاحکم
76421جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

سوال:مجھے2007  میں حکو مت کی طر ف سے سکا لر شپ ملا معاہدہ یہ تھا کہ اگر میں نے PhD مکمل نہ کی تو% 25 جرمانے کے ساتھ پوری رقم لوٹانی ہوگی،میں نے رقم سے نیشنل سیونگ کےسرٹیفیکیٹ لےلیے،تاکہ اگر میں PhD  مکمل نہ کر سکا تو رقم  واپس لوٹاسکوں،میری ڈگری 2020  میں مکمل ہوگئی، رقم کے ساتھ منافع بھی جمع ہوتا ر ہا۔ میں نے رقم اما نت کے طور پر جمع کی تھی کہ اگر میں ڈگری مکمل نہ ہوسکی تورقم واپس   لوٹانی ہوگی۔اب رقم میری ہے۔اس پر زکوۃ کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ کیا پچھلے 13 سال کی زکوۃ بھی ادا کرنی ہے؟ یا صرف 2020 سے زکوۃ  کی ادائیگی لاگو ہوگی؟

 

o

نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ میں رقم جمع کرواکراس سےفائدہ اٹھاناشرعاجائزنہیں،اس سےحاصل ہونےوالےمنافع سودہونےکی وجہ سےحرام ہوتےہیں،لہذاان کااستعمال بھی شرعاجائزنہیں ہوگا۔

حرام کمائی کاحکم یہ ہےکہ اس کوبلانیت  ثواب صدقہ کیاجائے ،صورت مسئولہ میں نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ  سےحاصل شدہ نفع کامکمل اندازہ لگاکراس کےبقدررقم کوبلانیت ثواب صدقہ کرناضروری ہے۔

البتہ اصل جمع شدہ رقم کودیگراموال میں جمع کرکےزکوۃ نکالی جائےگی،اگرسابقہ سالوں میں بھی صاحب نصاب ہوں توگزشتہ سالوں کی بھی زکوۃ اداء کرنی ہوگی ،ورنہ جس سال صاحب نصاب ہو،صرف اسی سال کی زکوۃ دینالازم ہوگاباقی سالوں کی نہیں ۔

گزشتہ سالوں کی زکوۃ اداء کرنےکاطریقہ  یہ ہوگاکہ پہلےسال میں جس قمری تاریخ کونصاب کےمالک بنےتھے،اگلےسال اس تاریخ کوزکوۃ کااندازہ لگایاجائےگا،اورگزشتہ سال کی زکوۃ یعنی مجموعی مالیت کاچالیسواں حصہ(ڈھائی فیصد)اپنےذمہ واجب الاداء سمجھیں گے،پھراگلےسال اگراسی تاریخ کوآپ صاحب نصاب تھےتواس وقت کی مجموعی رقم  سےگزشتہ سال کی واجب الاداء رقم منہاکرکےبقیہ مال کےچالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد)کی ادائیگی اپنےذمہ لازم سمجھیں گے،اسی طرح آپ جس سال بھی اس تاریخ کوصاحب نصاب ہونگےتومذکورہ بالاطریقےکےمطابق زکوۃ کاحساب لگائیں گے۔آخرمیں جتنی رقم واجب الاداء ہوجائےتوہ اداء کردیں۔(بحوالہ تبویب سابقہ فتوی 64916/58)

مثلااگرہم یہ فرض کریں کہ 2008 میں آپ نے5 لاکھ  روپےکےسرٹیفکیٹ خریدے،اس پرسال گزرااورکچھ اضافہ بھی ہوا(نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ پرملنےوالےنفع کےعلاوہ آپ کےدیگراموال میں کچھ اضافہ ہوا)مثلا ساڑھےپانچ لاکھ ہوگئے،اب ساڑھےپانچ لاکھ کاچالیسواں حصہ نکالاجائےجو13750روپےبنتےہیں،یہ 1428 ھج کی زکوۃ کی رقم ہوگی،پھراگلےسال 1429ھج میں جس تاریخ کوصاحب نصاب ہو،اس وقت جتنامال ہو،اس میں سےگزشتہ سال کے13750منہاء کرکےبقیہ رقم کاچالیسواں حصہ نکالاجائے،پھراس چالیسویں حصہ کی رقم کواگلےسال 1430 ھج کی مجموعی رقم سےمنہاء کرکےزکوۃ نکال لی جائے،اسی طرح ہرسال حساب لگالیاجائے،آخری سال کی جورقم واجب الاداء ہے وہ اداء کردی جائے،توتمام سالوں کی زکوۃ اداء ہوجائےگی،اس کےبعد ہرسال پابندی سےزکوۃ اداء کی جائے۔

حوالہ جات

" رد المحتار"20 / 93:مطلب : كل قرض جر نفعا حرام ( قوله كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ۔
"المبسوط لشمس الدين السرسخي" 7 / 27:
والنقود لاتتعين في عقود المعارضات بالتعيين عندنا
"المبسوط لشمس الدين السرسخي"7 / 24:
 لان النقود عندنا لاتتعين في العقود والفسوخ ألا ترى انهما بعد التقابض لو  تفاسخا العقد لم يجب على واحد منهما رد المقبوض من النقد بعينه ولكن ان شاء رده وان شاء رد مثله۔
"رد المحتار"26 / 453:
لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔
 

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

15/شعبان   1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔