021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر،بیوی کی سوکن،ایک بیٹے اورایک بیٹی میں میراث کی تقسیم
76260میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

تعارف :۱۔میرانام سیدحافظ علی ہے(حیات)

۲۔اہلیہ فوزیہ نہال(مرحومہ بیوی )

۳۔سیدحذیفہ علی ولد سیدحافظ علی (بیٹاحیات)

۴۔جویریہ زوجہ رضوان (بیٹی حیات )شادی شدہ

۵۔فریحہ علی زوجہ سیدحافظ علی (بیوی دوسری حیات)

جائیداد:ایک عدد فلیٹ جوکہ فوزیہ نہال مرحومہ( زوجہ حافظ علی)کی ملکیت تھی،جس کی مالیت تقریبا کم وبیش 50پچاس لاکھ  روپےہے،مرحومہ فوزیہ نہال (زوجہ سیدحاظ علی)کاانتقال 8 جنوری 2018کوہوگیاتھا،ان کی اس جائیداد کی شرعی تقسیم کرنامقصود ہے۔

سوال/ فتوی :مفتی صاحب سوال یہ ہےکہ مذکورہ بالاجائیدادکی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی اورہروارث کاکتناحصہ ہوگا۔؟

 

o

صورت مسئولہ میں میراث کی تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحومہ کےشوہر کوکل میراث کاچوتھائی حصہ ملےگا،باقی میراث  بیٹے بیٹی  میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بیٹےکوبیٹی  کےمقابلےمیں دوگناحصہ ملےگا۔

سوال میں ذکرکردہ فلیٹ کی  مکمل قیمت فروخت  یعنی 50 لاکھ روپےکوچارحصوں میں تقسیم کیاجائے،ایک چوتھائی حصہ شوہر کوملےگایعنی (12,50000روپے)۔باقی تین چوتھائی میں  سےدوحصےبیٹےکوملیں گےیعنی (2500000روپے)اورایک حصہ بیٹی کوملےگایعنی (12,50000روپے)۔

اوراگرفیصدی اعتبارسےتقسیم کی جائےتو25فیصدشوہرکو،25فیصدبیٹی کواور50فیصد بیٹےکوملےگا۔

موجودہ تقسیم میں مرحومہ بیوی کی سوکن  یعنی آپ کی دوسری بیوی کامیراث میں کوئی حصہ نہ  ہوگا۔

حوالہ جات

" الفتاوی العالمگیریة"6 447/ :
ویستحق الإرث بإحدی خصال ثلاث باالنسب وھوالقرابة والسبب وھوالزوجیة والولاء۔         
"تفسير ابن كثير" 2 /  225:فقوله (6) تعالى: { يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين } أي: يأمركم بالعدل فيهم، فإن أهل الجاهلية كانوا يجعلون جميع الميراث للذكور دون الإناث، فأمر الله تعالى بالتسوية بينهم في أصل الميراث، وفاوت بين الصنفين، فجعل للذكر مثل حظ الأنثيين؛ وذلك لاحتياج الرجل إلى مؤنة النفقة والكلفة ومعاناة التجارة والتكسب وتجشم المشقة، فناسب أن يعطى ضعفي ما تأخذه (7) الأنثى۔
"سورۃ النساء" آیت نمبر   12 :{ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ۔۔
"الجامع لأحكام القرآن للقرطبي" 5 / 55 ،75:( قوله تعالى : { ولكم نصف ما ترك أزواجكم } الخطاب للرجال. والولد هنا بنو الصلب وبنو بنيهم وإن سفلوا ، ذكرانا وإناثا واحدا فما زاد بإجماع. وأجمع العلماء على أن للزوج النصف مع عدم الولد أو ولد الولد ، وله مع وجوده الربع۔۔۔۔۔۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

06/شعبان    1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔