021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا شادی کے مصارف والدین کے ذمہ ہیں؟
76490نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیا والدین اپنے بالغ بچوں سے كہہ سکتے ہیں كہ رشتہ ڈھونڈنا ہمارا كام ہے، البتہ!شادی خرچ تم خود برداشت كرو گے، كیا والدین کا اپنے بچوں كو اس طرح كہنا شرعًاجائز ہے؟

o

بالغ اولاد کی شادی کے مصارف والد پر نہیں، لڑکی کی شادی پر تو کوئی خرچ ہے ہی نہیں، اس لیے کہ اس پر شادی کی وجہ سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی،بلکہ اس کے اپنے مصارف بھی شوہر کے ذمہ واجب ہوجاتے ہیں، لوگوں نے نام ونمود کے لیے لڑکیوں کی شادی کے مصارف کا عذاب اپنے سر لے رکھا ہے، البتہ لڑکے کی شادی کے مصارف ہیں، جن میں سے مہر اور بیوی کا نفقہ واجب ہے اور ولیمہ حسب استطاعت سنت ہے، ان میں سے کوئی خرچ بھی والد کے ذمہ نہیں، لہذا والدین کا یہ کہنا درست ہےکہ"رشتہ ڈھونڈناہمارا كام ہے،البتہ!شادی خرچ تم خودبرداشت كرو گے۔"(احسن الفتاوی:ج۵،ص۴۶۳)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 612)
(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر،۔۔۔۔۔۔۔ (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 614)
(قوله ومن يلحقه العار بالتكسب) كذا في البحر والزيلعي. واعترضه الرحمتي بأن الكسب لمؤنته ومؤنة عياله فرض فكيف يكون عارا، الأولى ما في المنح عن الخلاصة إذا كان من أبناء الكرام ولا يستأجره الناس فهو عاجز. اهـ ومثله في الفتح وسيأتي تمامه.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸شعبان۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔