021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تراویح میں ختم قرآن کے بعد سورتوں سے تراویح کا حکم
76499نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

ایك حافظِ قرآن تراویح میں یومیہ ایك پارہ یا سوا پارہ پڑھتا ہے، اگر وہ اپنی مطلوب منزل چودہ یا سولہ ركعات میں پوری كر دے، تو بقیہ تراویح چھوٹی سورتوں كے ساتھ پڑھا سكتا ہے یا نہیں؟

o

پڑھ سکتا ہے ،لیکن بہتر یہ ہے کہ تمام رکعات میں مساوی مقدار قراءت پڑھی جائے اور ایک ہی رفتار سے پڑھی جائیں، اور ختم ستائیس یا انتیس کی رات کو کیا جائے تاکہ مسجد کی تراویح کی جماعت میں لوگ آخر تک شریک رہیں ورنہ جلدی ختم کی صورت میں لوگ  عموما مسجد کی جماعت اور بعض تراویح پڑھنا بھی چھوڑدیتے ہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 118)
وينبغي للإمام إذا أراد الختم أن يختم في ليلة السابع والعشرين، كذا في المحيط يكره أن يعجل ختم القرآن في ليلة إحدى وعشرين أو قبلها وحكي أن المشايخ - رحمهم الله تعالى - جعلوا القرآن على خمسمائة وأربعين ركوعا وأعلموا ذلك في المصاحف حتى يحصل الختم في ليلة السابع والعشرين وفي غير هذا البلد كانت المصاحف معملة بعشر من الآيات وجعلوا ذلك ركوعا ليقرأ في كل ركعة من التراويح القدر المسنون، كذا في فتاوى قاضي خان.
لو حصل الختم ليلة التاسع عشر أو الحادي والعشرين لا تترك التراويح في بقية الشهر؛ لأنها سنة، كذا في الجوهرة النيرة الأصح أنه يكره له الترك، كذا في السراج الوهاج

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۰شعبان۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔