021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سورہ تراویح کا حکم
76498نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

ہماری مسجد میں تراویح كے اندر قرآنِ كریم كا ختم نہیں كیا جاتا، بلكہ سورۂتراویح بلا عذر کے پڑھی جاتی ہے، اس كا شرعًا كیا حكم ہے؟

o

بلا عذرمحض سستی اور کاہلی کی وجہ سے محض سورتوں سے تراویح پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ ہے،بلکہ محرومی وبد نصیبی کی علامت ہے البتہ جہاں کوئی معقول عذر ہو تو ایسی صورت  میں سورتوں سے بھی تراویح پڑھنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 118)
والناس في بعض البلاد تركوا الختم لتوانيهم في الأمور الدينية ثم بعضهم اختار {قل هو الله أحد} [الإخلاص: 1] في كل ركعة وبعضهم اختار قراءة سورة الفيل إلى آخر القرآن وهذا أحسن القولين؛ لأنه لا يشتبه عليه عدد الركعات ولا يشتغل قلبه بحفظها، كذا في التجنيس.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۰شعبان۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔