| 87353 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ابوظہبی،عرب امارات کے ایک فتویٰ کے مطابق صدقۂ فطر تمام مسلمانوں مردوں، عورتوں، بڑوں، اور نوجوانوں پر واجب ہے، جبکہ بچوں کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ہمارے ہاں کیا حکم ہے؟کیا بچوں پر صدقۂ فطر واجب ہے یا نہیں؟
صدقۂ فطر کی مقدار کیاپونے دو کلو گندم ہے؟صدقۂ فطر غریب پربھی واجب ہے یاصرف امیر پرواجب ہوتاہے؟
اگرصدقہ فطرکےلیے "غنی" (مالداری)شرط ہے، توپھرتوبہت سے مرد اور بعض عورتیں بھی اس حکم سے خارج ہو جائیں گی، کیونکہ وہ غریب ہیں۔برائے مہربانی اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نابالغ بچوں کے صدقہ فطر کا حکم یہ ہے کہ اگر ان بچوں کے پاس صدقہ فطر کے نصاب کے برابر مال ہے، تو پھر ان نابالغ بچوں پر صدقہ فطر واجب ہے، اور ان کا ولی (والد وغیرہ) ان کے مال سے ان کا صدقہ فطر ادا کرے گا، اور والد اگر چاہے تو اپنے مال سے بھی ادا کر سکتا ہے۔ اگر نابالغ بچوں کے پاس صدقہ فطر کے نصاب کے بقدر مال نہیں ہے تو پھر والد پر ان کا صدقہ فطر واجب ہوگا، بشرطیکہ والد صاحب نصاب ہوں۔
صدقہ فطر کی مقدار دراصل نصف صاع گندم ہے، مگر گندم کا نصف صاع کتنا ہوتا ہے؟ اس میں علماء کے دو قول ہیں: بعض علماء کے قول کے مطابق پونے دو کلو کا ہوتا ہے، جبکہ بعض علماء… جن میں ہمارے حضرت مفتی رشید احمد صاحبؒ بھی شامل ہیں… کی تحقیق کے مطابق 2249 گرام یعنی تقریباً سوا دو کلو کا ہوتا ہے۔ حضرت والاؒ نے اپنی تحقیق مفصل و مدلل رسالہ ’’بسط الباع لتحقیق الصاع‘‘ (مندرجہ احسن الفتاویٰ، جلد ۴) میں تحریر فرمائی ہے۔ احتیاط اسی میں ہے کہ سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کی جائے، کیونکہ اس میں فدیہ کی ادائیگی یقینی ہے۔ عبادات میں احتیاط پر عمل کرنا چاہیے، تاہم اگر دوسرے علماء کے قول پر عمل کرتے ہوئے کسی نے پونے دو کلو کے حساب سے دے دیا تو اس کا صدقہ فطر بھی ادا ہو جائے گا۔
صدقہ فطر کے لیے بھی غِنی (نصاب) شرط ہے، لہٰذا فطرانہ اسی پر واجب ہوگا جو صاحبِ نصاب ہو۔ البتہ یہ یاد رہے کہ فطرانے کے نصاب اور زکوٰۃ کے نصاب میں فرق ہے۔ صدقہ فطر کے نصاب میں "مالِ نامی" اور "سال گزرنے" کی شرطیں نہیں ہیں، لہٰذا جس بھی مسلمان کے پاس عید الفطر کے دن نقدی، سونا، چاندی ، ضرورت اور استعمال سے زائد اتنا سامان ہو، جسکی مجموعی یابعض کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو اس پر اپنے اور نابالغ بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دینا لازم ہوگا۔ ورنہ لازم نہیں ہوگا۔ لہٰذا جن مردوں اور عورتوں کے پاس نصاب نہ ہو، ان پر صدقہ فطر واجب نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الھدایہ (224/1، ط: مکتبہ رحمانیہ) :
صدقۃ الفطر واجبۃ، علی کل الحر المسلم، إذا کان مالکا لمقدار النصاب، فاضلا عن مسکنہ، و ثیابہ، و اثاثہ، و فرسہ، و سلاحہ، و عبیدہ، و یخرج ذالک عن نفسہ، و عن اولادہ الصغار.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
02/11/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


