| 76962 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میری شادی کو انیس سال ہوچکے ہیں، میرے تین بچے ہیں۔ ابھی 12 مارچ 2022 کو میری بیوی بچوں سمیت اچانک غائب ہوگئی اور اُس رات میرے واٹس ایپ پر خلع کے کاغذات بھیج دیے، جس کے مطابق 15 دسمبر 2021 کو میری خلع ہوچکی تھی۔ اِس کا مجھے کوئی علم نہیں تھا، نہ ہی مجھے کوئی قانونی نوٹس بھیجا گیا اور نہ ہی اِس میں میری کوئی رضامندی شامل ہے۔ اب میری بیوی نے دوسرا نکاح بھی کرلیا ہے۔ آپ بتائیں کہ کیا اِس طرح خلع صحیح ہوگیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام میں طلاق دینے کا حق صرف مرد کو حاصل ہے۔ اگر بیوی خود سے عدالت جاکر خلع کی ڈگری لے لیتی ہے تو ایسی صورت میں نکاح ختم نہیں ہوگا۔ سوال میں ذکرکردہ صورتحال اگر صحیح ہے تو آپ کا نکاح ابھی برقرار ہے، بیوی کا عدالت جاکر خلع لینے سے نکاح ختم نہیں ہوا اور وہ بدستور آپ کی بیوی ہے۔
حوالہ جات
فی المبسوط للسرخسی:2/202
"(والخلع جائز عند السلطان وغیرہ)لأنہ عقد یعتمدالتراضی کسائر العقود،وھو بمنزلۃ الطلاق بعوض،وللزوج ولایۃ إیقاع الطلاق،ولھا ولایۃ التزام العوض،فلا معنی لاشتراط حضرۃ السلطان فی ھذا العقد".
طارق مسعود
دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
23، شوال، 1443
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | طارق مسعود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


