03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک طلاق کے بعد خاتون کا کہیں اور نکاح کرنا
76961طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہر نے کئی بار لڑائی کے دوران مجھے بولا کہ میں تجھے چھوڑدوں گا۔ ایک بار مجھے کہا کہ تم فارغ ہو۔ میں نے ان سے کہا کہ پہلے تم کہتے تھے کہ تمہیں چھوڑ دوں گا، اب کہتے ہو کہ تم فارغ ہو، اِس طرح میں تم پر حرام ہوجاوں گی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں تم فارغ ہو۔ میں نے یہ سب بات موبائل میں ریکارڈ کر کے سب کو سنادی تھی۔ اِس کے بعد ہم آپ کے پاس آئے تھے اور آپ نے کہا تھا کہ طلاق ہوگئی ہے۔ اور آپ نے اُس موقع پر مجھے اجازت دی تھی کہ میں عدت کے بعد کہیں اور نکاح کرسکتی ہوں۔ میں نے اب نکاح کرلیا ہے اور میرے سابقہ شوہر اب یہ کہہ رہے ہیں کہ نکاح نہیں ہوا، تم ابھی بھی میری بیوی ہو۔ آپ سے سوال ہے کہ میرا دوسرا نکاح صحیح ہوا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی دونوں کا بیان سن کر ایک بار طلاق کے وقوع کا فتوی دیا جاچکا ہے۔ اِسی فتوے کی بنا پر خاتون نے کہیں اور نکاح کیا اور شوہر اِس دوران خاموش رہا۔ اب ایک طویل عرصہ گذرجانے کے بعد شوہر کا یہ دعوی کہ "دوسرا نکاح باطل ہے، میں نے طلاق نہیں دی" کالعدم ہے۔ لہذا خاتون کا دوسرا نکاح درست ہے۔

حوالہ جات

.

طارق مسعود

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

24/شوال 1443ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

طارق مسعود

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب