021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹیوں، دو بھائیوں، اور تین بہنوں میں میراث کی تقسیم
77006میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک بیوہ  خاتون کا انتقال ہوا اور انہوں نے انتقال کے وقت  درج ذیل  سوگواران چھوڑے: ایک لے پالک بیٹا، 3 بیٹیاں، 2 بھائی، 3 بہنیں۔ شریعت کے مطابق میراث کی تقسیم سے آگاہ فرمائیں۔

o

مرحومہ نجم اقبال صاحبہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں نقدی، سونا، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر اس کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو کچھ بچے، اس کو کل تریسٹھ (63) حصوں میں تقسیم کر کے تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو چودہ، چودہ (14، 14) حصے، دو بھائیوں میں سے ہر ایک کو چھ، چھ (6، 6) حصے، اور تین بہنوں میں سے ہر ایک کو تین، تین (3، 3) حصے دیدیں۔

واضح رہے کہ کسی بچے یا بچی کو بطورِ لے پالک پالنے سے نسب، اور میراث وغیرہ شرعی احکام تبدیل نہیں ہوتے، اور لے پالک صرف لے پالک ہونے کی وجہ سے میراث کا حق دار نہیں بنتا۔ اس لیے صورتِ مسئولہ میں لے پالک بیٹے کو نجم اقبال مرحومہ کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔  

حوالہ جات

القرآن الکریم، [النساء: 11]:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ}.  
السراجی فی المیراث،ص 25:
وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس: ..… ومع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الأنثیین، یصرن به عصبة؛ لاستوائهم فی القرابة إلی المیت.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

28   /شوال/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔