021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک کو گھر کا مشاع حصہ ہبہ کرنے کا حکم
77009ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

مرحومہ  خاتون کو اپنے شوہر کے انتقال کے وقت ، میراث کا جو 40 فیصد حصہ ملاتھا ، اس میں سے 20 فیصد انہوں نے اپنے لے پالک بیٹے کو  ہدیہ دے دیاتھا، پچھلے سترہ سالوں میں جو بھی جائیداد بیچی یا خریدی گئی اُس میں پانچوں  افراد (والدہ، تینوں بیٹیاں، لے  پالک بیٹا)  کو برابر کا حصہ ملا، نیز کاروبار اور نقدی وغیرہ میں یہی سمجھا گیا کہ اب لے پالک بیٹا 20 فیصد کا شریک ہوگیا۔  لیکن رہائشی گھر میں اس کی وضاحت نہ ہوسکی، ایسی صور ت میں رہائشی گھر میں  بھی لے پالک بیٹا  20 فیصدکا شریک ہوگا ؟

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ مرحومہ نے لے پالک کو جو ٪20 حصہ دیا تھا تو ہر چیز کا الگ الگ  نہیں بتایا تھا، بلکہ ایک ہی دفعہ کہا تھا کہ میں نے اپنا ٪20 حصہ اس کو دیدیا، اس کے بعد جو بھی چیز فروخت ہوئی، یا اجارہ پر دی گئی، اس میں لے پالک کو ٪20 حصہ دیا گیا۔  یہ گھر دو ہزار گز پر مشتمل ہے، اور اس کے چار حصے کیے جاسکتے ہیں، تقسیم کے بعد ہر شخص اپنے حصے میں رہ سکتا ہے، وہ رہائش کے قابل ہوگا۔  

o

قابلِ تقسیم چیز (یعنی وہ چیز جس سے تقسیم کے بعد بھی وہ فائدہ اٹھایا جاسکے جو تقسیم سے پہلے اٹھایا جاتا ہو)  کا ہبہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب ہبہ دینے والا شخص اس کو تقسیم کر کے  موہوب لہ (جس کو ہبہ دیا جا رہا ہو) کو اس کا قبضہ دیدے، صرف زبانی یا تحریری طور پر ہبہ کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا۔  البتہ ناقابلِ تقسیم اشیاء کا ہبہ تقسیم کے بغیر بھی مکمل ہو جاتا ہے۔ 

سوال اور تنقیح میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ مکان قابلِ تقسیم اشیاء میں داخل ہے؛  لہٰذا اگر مرحومہ نے اپنے لے پالک کو اپنے پورے ٪40 حصۂ میراث (بشمول اس گھر)  میں سے ٪20 حصہ دیا ہو تب بھی جب اس نے ٪20 حصہ کی تعیین کر کے اور الگ کر کے لے پالک کو نہیں دیا تو یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا، اور لے پالک گھر میں ٪20 حصے کا مالک نہیں بنا۔ اس لیے اب اس مکان میں مرحومہ کا پورا ٪40 حصہ اس کے ترکہ میں شامل ہو کر اس کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا، لے پالک کو اس میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔  

حوالہ جات

المجلة (ص: 218):
 مادة 1131 : قابل القسمة هو المال المشترك  الصالح للتقسيم بحيث لا تفوت المنفعة المقصودة من ذلك المال بالقسمة.

    عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

28   /شوال/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔