021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ،چھ بیٹوں اورتین بیٹیوں کےدرمیان میراث کی تقسیم
76983میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

گزارش عرض ہےکہ ہمیں جائیدادکےحصوں کےحوالےسےرہنمائی چاہیے،جائیدادمیں کسی کابھی لین دین کاکوئی معاملہ نہیں ہے۔مرحوم ابراہیم صدیقی کی ایک جائیدادکےحصےکی تقسیم کاشرعی حکم درکارہے کہ کس وارث کاکتناکتناحصہ بنتاہے۔جائیدادکی قیمت مثلاًپچاس لاکھ ہےتواس میں سےمرحوم کےورثہ کاکیا حصہ بنےگا۔مرحوم ابراہیم صدیقی کےبعدان کی زوجہ کنیزفاطمہ کابھی انتقال ہوگیاہے۔مرحوم ابراہیم صدیقی کےچھ بیٹےاورتین بیٹیاں ہیں،جن میں سےچاربیٹےاوردوبیٹیاں حیات ہیں۔

ابراہیم صدیقی(مرحوم)کےورثہ کی تفصیل:

کنیز فاطمہ (بیوہ)      سلیم(بیٹا)      خالد(بیٹا)      قاسم(بیٹا)     کامران(بیٹا)     عثمان صدیقی مرحوم(بیٹا)              

اسلم صدیقی مرحوم(بیٹا)        خالدہ(بیٹی)      شہناز(بیٹی)         نسرین مرحومہ(بیٹی)

عثمان صدیقی(مرحوم) کے ورثہ کی تفصیل:

رضیہ(بیوہ)                  ارسلان(بیٹا)                فیضان(بیٹا)                 علی(بیٹا)                  نادرہ (بیٹی)    

درخشاں(بیٹی)               نعیمہ(بیٹی)

اسلم صدیقی(مرحوم) کے ورثہ کی تفصیل:

شاہدہ اسلم(بیوہ)            ربیعہ(بیٹی)

نسرین(مرحومہ) کے ورثہ کی تفصیل:

محمود(شوہر)                   مہوش(بیٹی)                            فبیہ(بیٹی(              سدرہ(بیٹی)

تنقیح:درج بالاتینوں مرحومین کاانتقال والد اوروالدہ کےانتقال کے بعدہواہے،جبکہ والدہ(کنیزفاطمہ)کا انتقال والد(ابراہیم صدیقی مرحوم)کےانتقال کےبعدہواہے۔والداوروالدہ کےانتقال کےبعدسب سےپہلےعثمان صدیقی پھراسلم صدیقی اورپھر نسرین صدیقی کاانتقال ہواہے۔

o

۔ابراہیم صدیقی(مرحوم)کےورثہ کےدرمیان جائیدادکی تقسیم:

صورت مسؤلہ میں ابراہیم صدیقی مرحوم کی تمام جائیداد(مثلاًپچاس لاکھ)کو120برابرحصوں میں تقسیم کیا جائےگا،جس میں سے15 حصےبیوہ(کنیزفاطمہ)کو،مرحوم کےبیٹوں میں سےہرایک کو14حصےاورہربیٹی  کو7حصےملیں گے۔

عدد،فیصداوررقم کی لحاظ سےابراہیم صدیقی مرحوم کی جائیداد(پچاس لاکھ)کی تقسیم درج ذیل نقشے کے مطابق ہوگی:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم(پچاس لاکھ)

 کنیزفاطمہ(بیوہ)

15

12.5%

6,25,000

سلیم(بیٹا)

14

11.6666%

583,333.3333

خالد(بیٹا)

14

11.6666%

583,333.3333

قاسم(بیٹا)

14

11.6666%

583,333.3333

کامران(بیٹا)

14

11.6666%

583,333.3333

عثمان صدیقی مرحوم (بیٹا)

14

11.6666%

583,333.3333

اسلم صدیقی مرحوم(بیٹا)

14

11.6666%

583,333.3333

خالدہ(بیٹی)

7

5.8333%

291,666.6666

شہناز(بیٹی)

7

5.8333%

291,666.6666

نسرین مرحومہ(بیٹی)

7

5.8333%

291,666.6666

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

2۔کنیزفاطمہ(مرحومہ)کی جائیداداورابراہیم صدیقی سےملنےوالےحصےکی تقسیم:

صورت مسؤلہ میں کنیزفاطمہ کی ذاتی جائیداداوران کوابراہیم صدیقی(مرحوم)سےملنےوالاحصہ(یعنی رقم)کو15برابرحصوں میں تقسیم کیاجائےگا،جس میں سےدو،دوحصےہر بیٹےکو،اورایک، ایک حصہ ہربیٹی کودیا جائےگا۔ عدد،فیصداوررقم کےلحاظ سےکنیزفاطمہ کی جائیداد کی تقسیم درج ذیل نقشے کےمطابق ہوگی:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

 فیصدی حصہ

رقم(6,25,000)

سلیم(بیٹا)

2

13.3333%

83,333.3333

خالد(بیٹا)

2

13.3333%

83,333.3333

قاسم(بیٹا)

2

13.3333%

83,333.3333

کامران(بیٹا)

2

13.3333%

83,333.3333

عثمان صدیقی مرحوم (بیٹا)

2

13.3333%

83,333.3333

اسلم صدیقی مرحوم(بیٹا)

2

13.3333%

83,333.3333

خالدہ(بیٹی)

1

6.6666%

41,666.666

شہناز(بیٹی)

1

6.6666%

41,666.666

نسرین مرحومہ(بیٹی)

1

6.6666%

41,666.666

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

3۔عثمان صدیقی(مرحوم) کےورثہ کےدرمیان جائیدادکی تقسیم:

صورت مسؤلہ میں عثمان صدیقی(مرحوم)کی ذاتی جائیداداوران کواپنےوالدکی کل جائیدادسے 11.6666% فیصداوراپنی والدہ (کنیزفاطمہ)سے13.3333%فیصدملنےوالےحصےکو72حصوں میں تقسیم کیا جائےگا،جس میں سے9 حصےان کی بیوہ(رضیہ) کو،14حصےہربیٹےکواور7حصےہربیٹی کوملیں گے۔

عددی اورفیصدی لحاظ سےعثمان صدیقی(مرحوم)کی جائیداداوروالدصاحب سےملنےوالےحصےکی تقسیم ان

کےورثہ کےدرمیان درج ذیل نقشے کےمطابق ہوگی:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

 فیصدی حصہ

رضیہ(بیوہ)

9

12.5%

ارسلان(بیٹا)

14

19.4444%

فیضان(بیٹا)

14

19.4444%

علی (بیٹا)

14

19.4444%

نادرہ (بیٹی)

7

9.7222%

درخشاں(بیٹی)

7

9.7222%

نعیمہ(بیٹی)

7

9.7222%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

4۔اسلم صدیقی(مرحوم) کےورثہ کےدرمیان جائیدادکی تقسیم:

صورت مسؤلہ میں اسلم صدیقی(مرحوم)کی ذاتی جائیداداوران کواپنےوالدکی کل جائیدادسے 11.6666% فیصداوراپنی والدہ (کنیزفاطمہ)سے13.3333%فیصدملنےوالےحصےکو 88حصوں میں تقسیم کیاجائےگا،جس میں سے11حصےبیوہ(شاہدہ اسلم)کو،44حصے بیٹی(ربیعہ)کو،6حصے حیات رہنےوالےبھائیوں میں سےہربھائی کواور 3حصےہربہن کوملیں گے۔

عددی اورفیصدی لحاظ سےاسلم صدیقی(مرحوم)کی جائیداداوروالدصاحب سےملنےوالےحصےکی تقسیم درج ذیل نقشے کےمطابق ہوگی:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

 فیصدی حصہ

شاہدہ اسلم(بیوہ)

11

12.5%

ربیعہ(بیٹی)

44

50%

سلیم(بھائی)

6

6.8181%

خالد(بھائی)

6

6.8181%

قاسم(بھائی)

6

6.8181%

کامران(بھائی)

6

6.8181%

خالدہ(بہن)

3

3.4090%

شہناز(بہن)

3

3.4090%

نسرین مرحومہ(بہن)

3

3.4090%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

5۔نسرین صدیقی(مرحومہ)کےورثہ کےدرمیان جائیدادکی تقسیم:

صورت مسؤلہ میں نسرین صدیقی(مرحومہ)کی ذاتی جائیداداوران کواپنےوالدکی کل جائیدادسے %5.8333فیصد،والدہ سے6.6666%اوربھائی سے%3.4090فیصدملنےوالےحصےکوکل360حصوں میں تقسیم کیاجائےگا،جس میں سےشوہر(محمود)کو90حصے،ہربیٹی کو80حصے،ہربھائی کو6حصےاورہربہن کو3 حصےملیں گے۔

عددی اورفیصدی لحاظ سےنسرین صدیقی(مرحومہ)کی جائیداد،والد،والدہ اوربھائی سےملنےوالےحصےکی تقسیم درج ذیل نقشے کےمطابق ہوگی:

ورثہ کی تفصیل

عددی حصہ

 فیصدی حصہ

محمود(شوہر)

90

25%

مہوش(بیٹی)

80

22.2222%

فبیہ(بیٹی)

80

22.2222%

سدرہ(بیٹی)

80

22.2222%

سلیم(بھائی)

6

1.6666%

خالد(بھائی)

6

1.6666%

قاسم(بھائی)

6

1.6666%

کامران(بھائی)

6

1.6666%

خالدہ(بہن)

3

0.8333%

شہناز(بہن)

3

0.8333%

 

حوالہ جات

محمدعمربن حسین احمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

28شوال المعظم 1443ھ

n

مجیب

محمد عمر ولد حسین احمد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔