021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وکیل کا ایک کی بجائے تین طلاق لکھنے کاحکم
77043طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

واضح ہوکہ مفتی غیب نہیں  جانتا  ہے  بلکہ سوال کی تحریر کے مطابق ہی  جواب لکھاجاتا ہے ،اس لئے حلال وحرام کی ذمے داری   سائل پر ہی ہوتی ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے بقول ،آپ نے  ایک طلاق  دینے کے ارادہ  سے طلاق  نامہ بنوایا  ہے اور   وکیل نے آپ کو بتائے  بغیراپنی طرف سے  تین طلاقیں  لکھ دیں  ،اورتحریر  آپ کے ہا تھ میں آنے کے بعد آپ نے اس تحریر  کو نہ خود  پڑھا نہ ہی  کسی سے پڑھوایا  ،نہ آپ  کو اس بات کا علم   ہواہے  کہ اس تحریر میں کتنی  طلاقیں  لکھی ہوئی ہیں ،آپ نے  لاعلمی میں  ایک  طلاق  سمجھ کر اس پر  سائین کردیا اور پھر  بیوی کے پاس  بھیجا  اگر سوال میں لکھی ہوئی  ساری باتیں  درست ہیں  توایسی صورت میں آپ کے دعوی  کے مطابق   تو آپ کی  بیوی پرقضاء   ایک طلاق   واقع  ہوئی ہے ۔لیکن چونکہ  خاتون کے پاس  آپ کا دستخط شدہ تین  طلاق  کی تحریر  پہنچ  چکی ہے تو اس پر واجب ہے کہ  اپنے کو مطلقہ مغلظہ سمجھے اور شوہر سے الگ ہوجائےشوہر کو اپنے اوپر ہرگز قابو نہ دے۔عدت گذار کرکہیں دوسری جگہ  نکاح کرسکتی ہے ۔

o

واضح ہوکہ مفتی غیب نہیں  جانتا  ہے  بلکہ سوال کی تحریر کے مطابق ہی  جواب لکھاجاتا ہے ،اس لئے حلال وحرام کی ذمے داری   سائل پر ہی ہوتی ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے بقول ،آپ نے  ایک طلاق  دینے کے ارادہ  سے طلاق  نامہ بنوایا  ہے اور   وکیل نے آپ کو بتائے  بغیراپنی طرف سے  تین طلاقیں  لکھ دیں  ،اورتحریر  آپ کے ہا تھ میں آنے کے بعد آپ نے اس تحریر  کو نہ خود  پڑھا نہ ہی  کسی سے پڑھوایا  ،نہ آپ  کو اس بات کا علم   ہواہے  کہ اس تحریر میں کتنی  طلاقیں  لکھی ہوئی ہیں ،آپ نے  لاعلمی میں  ایک  طلاق  سمجھ کر اس پر  سائین کردیا اور پھر  بیوی کے پاس  بھیجا  اگر سوال میں لکھی ہوئی  ساری باتیں  درست ہیں  توایسی صورت میں آپ کے دعوی  کے مطابق   تو آپ کی  بیوی پرقضاء   ایک طلاق   واقع  ہوئی ہے ۔لیکن چونکہ  خاتون کے پاس  آپ کا دستخط شدہ تین  طلاق  کی تحریر  پہنچ  چکی ہے تو اس پر واجب ہے کہ  اپنے کو مطلقہ مغلظہ سمجھے اور شوہر سے الگ ہوجائےشوہر کو اپنے اوپر ہرگز قابو نہ دے۔عدت گذار کرکہیں دوسری جگہ  نکاح کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 362)
وفي المحيط لو وكل أجنبيا أن يطلق زوجته واحدة فطلقها ثلاثا إن نوى الزوج وقع، وإن لم ينو لا يقع عنده خلافا لهما اهـ.
2۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 304)
قال اعتدي ثلاثا ونوى بالأول طلاقا وبالباقي حيضا صدق)الی ۰۰۰قولہ لو نوى بالكل واحدة
فواحدة ديانة وثلاث قضاء؛
 قال ابن عابدیں  رحمہ اللہ تعالی؛ (قوله وثلاث قضاء) لأنه يكون ناويا بكل لفظ ثلث تطليقة، وهو مما لا يتجزأ فيتكامل فيقع الثلاث بحر عن المحيط. قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.
3۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 251)
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
4۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة.
قال ابن  عابدین رحمہ اللہ  تعالی ؛ولو كتب على وجه الرسالة إلخ فإنه المراد بالمرسوم (قوله مطلقا) المراد به في الموضعين نوى أو لم ينو وقوله ولو على نحو الماء مقابل قوله إن مستبينا (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي.

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲۸شوال  ١۴۴۳ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔