021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کروانا
77051طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

ایک شخص سےعدالت کی طرف سے جاری طلاق فارم پر زبردستی دستخط کرواکے طلاق لے لی گئی،بیوی کہہ رہی ہے کہ زبردستی طلاق واقع نہیں ہوتی اور دوسری طرف اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس نے حلالہ کروالیا ہے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ(۱) طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟(۲)عورت سے حلالہ کا ثبوت مانگا جائے گا یا نہیں؟(۳)حلالے کی جائز شرعی صورت کیا ہے؟

o

جواب سے پہلے یہ بات بطور تمہید سمجھ لینی چاہیے کہ دار الافتاء سے جو جواب تحریری یا زبانی  طور پردیا جاتا ہے وہ سوال کے مطابق ہوتا ہے، سوال کے درست یا غلط ہونے کی صورت میں جواب کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے نیز اگر سوال مطلق ہو اور کوئی ایک صورت واضح نہ کی گئی ہو جبکہ جواب میں ایک سے زیادہ صورتوں میں الگ الگ جواب کا امکان ہو  اور تنقیح سے بھی صورت حال واضح نہ ہو تو جواب میں اصول بتا دیا جاتا ہے جس کے اپنی صورت حال پر اطلاق کی ذمہ داری بھی سائل کی ہوتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا معاملہ ہے، اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کا اطلاق اپنی خواہش کے مطابق کرنے  سے کوئی شخص عند اللہ گناہ سے بچ نہیں سکتا، لہٰذا ایسے کسی فعل سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب یوں ہیں:

(۱)اکراہ کی عام فہم تعریف یہ ہے کہ کسی شخص کو غیر معمولی نتائج کی دھمکی دے کر کسی  کام پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ دھمکی دینے والا اس دھمکی کو واقع کرنے پر قادر بھی ہو اور جس شخص کو دھمکی دی جائے اسے بات نہ ماننے کی صورت میں اس غیر معمولی صورت حال سے دوچار ہونے ہونے کا غالب گمان یا یقین بھی ہو۔ وہ یہ کام نہ کرنا چاہتا ہو لیکن دھمکی دینے والے شخص کو اپنی دھمکی پر قادر سمجھ کر کر لے۔ اس  کی دو قسمیں ہیں:

  1. اکراہ تام: جس میں جبر کرنے والا کسی ایسی چیز کی دھمکی دے جس سے ڈر کر انسان طبعی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے جیسے قتل، عضو کاٹنے یا اس طرح مارنے کی دھمکی دینا جس سے کوئی عضو ضائع ہو جائے۔
  2. اکراہ ناقص: جس میں دھمکی مذکورہ بالا صورت سے کم درجے کی ہو لیکن اس قدر  غیر معمولی ہو کہ انسان اپنی رضامندی کے بغیر کوئی کام کرنے پر خود کو مجبور سمجھے اور کام نہ کرنے پر نتائج کو اپنی برداشت سے باہر سمجھے۔ اس قسم کے اکراہ کے تحقق کے لیے جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دینا ضروری نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ایسے معمولی نتیجے کی دھمکی نہ ہو جسے عموماً برداشت کے قابل سمجھا جاتا ہو۔

اکراہ کے ثابت ہونے کے لیے چار شرائط ہیں:

  1. مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس پر وہ مجبور کر رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔
  2. جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ  دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔
  3. دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔
  4. جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر درج بالا تفصیل کے مطابق اکراہ ثابت ہوچکا تھا اور شوہر نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہ کر طلاق دی تھی تو طلاق واقع ہوچکی ہے اور اگر زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہے بلکہ صرف طلاق نامے پر دستخط کیے تھے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی،اور اگر درج بالا تفصیل کے مطابق اکراہ ثابت نہیں ہواتھا بلکہ محض اخلاقی دباؤ کی وجہ سے طلاق نامے پر دستخط کیے تھے تو بھی طلاق واقع ہوجائے  گی۔

 (۲)جواب نمبر ایک میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر طلا ق واقع ہوگئی ہے اور شوہر نے تین طلاق والے طلاق نامے پر دستخط کیے ہیں تو اس صورت میں اس خاتون کا نکاح سابقہ شوہر سے اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ پہلے شوہر کی عدت گزرجانے کے بعد اس عورت کا کسی دوسری جگہ نکاح نہ ہوجائے اور وہ دوسرا شوہر حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے یا اس شوہر کا نتقال ہوجائے پھر اس دوسرے شوہر کی عدت بھی گزر جائے تو اب سابقہ شوہر سے اس خاتو ن کا نکاح جائز ہے،رہی بات عورت سے حلالہ کاثبوت طلب کرنے کی تو اس حوالے سے یہ دیکھ لیا جائے کہ اگر اتنی مدت گزر چکی ہے جس میں دونوں عدتیں مکمل ہوسکتی ہوں اور دیگر قرائن بھی دوسرے شوہر سے نکاح وغیرہ کے موجود ہوں تو عورت کے دعویٰ کے ثبوت کے لیے یہ کافی ہے الا یہ کہ اس کے دعویٰ کے خلاف کوئی صریح بات ثابت ہوجائے۔

(۳)وہ عورت جسے تین طلاقیں ہوچکی ہوں،عدت گزارنے کے بعد اگر وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور وہ شخص ہم بستری کے بعد کسی وقت اپنی مرضی سے اس عورت کو طلاق دے دے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد یہ عورت سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 247)
كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 236)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية.
(الفتاوی الھندیۃ) (35/5)
(وأما) (أنواعه) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 236)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187)
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230].
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 258)
وشرط أن يطأها الزوج الثاني؛ لأنه ثبت بإشارة الكتاب وبالسنة المشهورة والإجماع
الفتاوى الهندية (1/ 473)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۰۴ /ذو القعدۃ ۱۴۴۳ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔