021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جھوٹے ریپ کیس کی دھمکی دے کر طلاق نامے پر دستخط کروانا
77032طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

: جناب مفتی صاحب میرے شوہر کے ساتھ میری شادی 3 ماہ پہلے ہوئی تھی،دونوں خاندان کی رضامندی کے ساتھ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے،3 بچے تھے،لیکن بیوی سے پریشان تھے، وہ بیوی بچوں کے ساتھ Uk میں رہتے ہیں،لیکن ان کی پہلی بیوی نے شرط لگائی، گھر سے نکال دیا بچوں سے دور کر دیا کہ جو شادی کر کے آئے ہو طلاق دو اس کو،وہ نہیں مانے تو اس بیوی نے جھوٹا ریپ کیس لگا دیا،جس کی سزا اس ملک  Uk میں بہت سخت ہے،ملزم کو سولہ گھنٹے بند کوٹھری میں رکھا ان کی سا نس لینے کا مسئلہ ہو گیا تو ضمانت پہ باہر نکالا،لیکن کیس نہیں اٹھایا۔

دوسرا پولیس نے دوران کیس بچوں سے ملنے پر پابندی لگادی،بچے باپ کے بغیر رہنے کے عادی نہیں تھے،بچوں کی صحت پہ برا اثر ہو گیا،ملزم جتنے سال جیل میں یا کیس میں رہتا 5,7سال لگ جاتے،لہذا انہیں جیل جانے کا خوف،بچوں کے چھن جانے کےخوف،ان کی صحت اور دماغی حالت کے بگڑ جانے کے خوف نے پریشان کئے رکھا،تیس دن گھر سے بے دخل رہے  اور روزانہ یہ دھمکی دیتے رہے کہ وہ مجھے طلاق دے،ایک ماہ کے بعد بیوی کا بھائی اور ان کا فیملی دوست بچوں کو بری حالت میں ان کے پاس لے آیا، بچوں کی دماغی اور جسمانی حالت کافی کمزور ہو چکی تھی،بیوی کے بھائی ساتھ قرآن پاک لے کر آئے تھے کہ اس پہ ہاتھ رکھ کر اس بیوی کو یعنی مجھے طلاق دے دو،انہوں نے ایک بار مجھے طلاق بول دی،اس کے  ساتھ ایک پیپر کی تحریر دی کہ اس پہ طلاق ثلاثہ واقع ہے،اس پہ دستخط کرو،آصف میرے شوہر کا نام ہے،اس نےدباؤ میں آ کر اس پیپر پہ دستخط کر دیئے،لیکن اپنی زبان سے کوئی بھی لفظ یا تلفظ ادا نہیں کیا۔

 شوہر کا ماننا یہ ہے کہ میں نے قرآن پہ ہاتھ رکھ کر جو زبان سےایک بار ادا کیا ہے وہ بھی دل سے نہیں کیا،لیکن تحریر کے لئے بھی مجھے مجبورکیا گیا ہے،میں نہ راضی تھا،نہ میں نے ادا کیا ہے،اس معاملے میں راہنمائی فرمائیں۔

وضاحت: مفتی صاحب میں اپنی پچھلی میل میں یہ واضح طور پہ لکھ نہیں سکی کہ جبر کی نوعیت کیا تھی،اس وقت دراصل وہ بچوں کے ذہنی طور پہ ٹھیک نہ رہنے اور ان کے چھن جانے کا خوف انہیں دامن گیر تھا،وہ بچوں کو اکیلے کماکر کھلانے والے تھے،اسی طرح کیس جاری رہنے کی صورت میں۵ سال جیل ہوجانے کا خوف بھی تھا،جبکہ جیل میں انہیں سولہ گھنٹوں میں ہی سانس کا مسئلہ ہوگیا تھا، گھر سے ایک ماہ سے پہلے ہی نکالے جا چکے تھے،ان سب چیزوں کی وجہ سے وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار تھے،شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے زبان سے ایک بار کہا تھا اور میں رجوع کرنا چاہتا ہوں،نہ میں نے خود لکھا تھا،جب انہوں نے مجھے بتایا تو نہ میں نے زبان سے اقرار کیا اور نہ طلاق کے الفاظ بولے۔

o

جبراً دلوائی گئی تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی اور طلاق واقع نہ ہونے کے لیے قتل ،یا ایسی مارپیٹ کی دھمکی ضروری نہیں جس سے کسی عضو کے تلف ہونے یا معذور ہونے کا اندیشہ ہو،جسے فقہ کی اصطلاح میں اکراہِ تام یا ملجئ کہا جاتا ہے،بلکہ اس حوالے سے اکراہِ ناقص بھی کافی ہے،جیسا کہ درج ذیل جزئیہ سے معلوم ہوتا ہے جس میں اس کی تصریح ہے کہ اگر کسی کو ضرب و حبس کے ذریعے کتابتِ طلاق پر مجبور کیا گیا تو طلاق واقع نہ ہوگی،کیونکہ ضرب وحبس سے  فقہاءکرام  اکراہ ناقص مراد لیتے ہیں،اکراہ تام کے لیے قتل یا قطع کے الفاظ استعمال کرتے ہیں:

"الفتاوى الهندية" (1/ 379):

"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

"رد المحتار" (6/ 128):

"(قوله: وهو نوعان) أي الإكراه، وكل منهما معدم للرضا لكن الملجئ، وهو الكامل يوجب الإلجاء، ويفسد الاختيار فنفي الرضا أعم من إفساد الاختيار والرضا بإزاء الكراهة، والاختيار بإزاء الجبر ففي الإكراه بحبس أو ضرب لا شك في وجود الكراهة وعدم الرضا وإن تحقق الاختيار الصحيح إذ فساده إنما هو بالتخويف بإتلاف النفس، أو العضو  ".

اور اکراہِ ناقص کے تحقق کے لیے ضرب و حبس یعنی مارپیٹ اور قید کی دھمکی ضروری نہیں،بلکہ اس کے علاوہ بھی کسی پر ایسے طریقے سے دباؤ ڈالنے سے اکراہِ ناقص کا تحقق ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ شخص بادلِ ناخواستہ اس کام پر مجبور ہوجائے،جیسا کہ درج ذیل عبارات سے معلوم ہوتا ہے:

"الدر المختار " (6/ 129):

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال".

"الدر المختار " (6/ 141):

"(خوفها الزوج بالضرب حتى وهبته مهرها لم تصح) الهبة (إن قدر الزوج على الضرب) وإن هددها بطلاق أو تزوج عليها أو تسر فليس بإكراه خانية وفي مجمع الفتاوى: منع امرأته المريضة عن المسير إلى أبويها إلا أن تهبه مهرها فوهبته بعض المهر فالهبة باطلة، لأنها كالمكره.

قلت: ويؤخذ منه جواب حادثة الفتوى: وهي زوج بنته البكر من رجل فلما أرادت الزفاف منعها الأب إلا أن يشهد عليها أنها استوفت منه ميراث أمها فأقرت ثم أذن لها بالزفاف فلا يصح إقرارها لكونها في معنى المكرهة وبه أفتى أبو السعود مفتي الروم قاله المصنف في شرح منظومته تحفة الأقران في بحث الهبة".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ  :"(قوله: فليس بإكراه) لأن كل فعل من هذه الأفعال جائز شرعا والأفعال الشرعية لا توصف بالإكراه ط. قلت: نعم ولكن يدخل عليها غما يفسد صبرها، ويظهر عذرها وقد مر أن البيع ونحوه يفسد بما يوجب غما بعدم هذه الرضا، ويدل عليه ما يذكره بعده، فإن منع المريضة عن أبويها ومنع البكر عن الزفاف لا يغمها أكثر من الأفعال ولكن لا مدخل للعقل مع النقل. هذا وقدمنا أن ظاهر قولهم " الزوج سلطان زوجته " أنه يكفي فيه مجرد الأمر حيث كانت تخشى منه الأذى والله تعالى أعلم. (قوله: وبه أفتى أبو السعود) وكذلك الرملي وغيره ونظمه في فتاواه بقوله: ومانع زوجته عن أهلها ... لتهب المهر يكون مكرها

كذاك منع والد لبنته ... خروجها لبعلها من بيته

ثم قال: وأنت تعلم أن البيع والشراء والإجارة كالإقرار والهبة وأن كل من يقدر على المنع من الأولياء كالأب للعلة الشاملة فليس قيدا، وكذلك البكارة ليست قيدا كما هو مشاهد في ديارنا من أخذ مهورهن كرها عليهن حتى من ابن ابن العم وإن بعد وإن منعت أضر بها أو قتلها اهـ".

چونکہ مذکورہ صورت میں طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں شوہر کو یہ خوف تھا کہ اگر وہ اس طلاق نامے پر دستخط نہ کرتا تو اس کی بیوی اس پر ریپ کیس چلاتی،جس کے نتیجے میں اسے پانچ سے سات  سال تک جیل ہونے کا اندیشہ اور غالب گمان تھا،اس لئے زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر مجبوراً محض طلاق نامے پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

البتہ جو ایک طلاق انہوں نے زبانی دی ہے وہ واقع ہوچکی ہے،اس لئے کہ زبانی دی گئی طلاق حالتِ اکراہ میں بھی واقع ہوجاتی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ عدت گزرنے سے پہلے شوہر کو عملی یا زبانی طور پر اس طلاق سے رجوع کا حق حاصل ہے،نئے نکاح کی ضرورت نہیں اور رجوع کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار"(3/ 235):
"(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله فإن طلاقه صحيح) أي طلاق المكره وشمل ما إذا أكره على التوكيل بالطلاق فوكل فطلق الوكيل فإنه يقع بحر".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

04/ذی قعدہ 1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔