021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا تواُسےتین طلاق
77062طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک شخص نے تقریبا اٹھائیس سال پہلے ایک عورت سے نکاح کیا جس میں یہ اسٹام ہوا تھا کہ میں نے اگر اس عورت کے ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا تو اس کو جس سے میں نکاح کروں اس کو تین طلاق۔

پھر اس نے تقریبا دس سال پہلے دوسری شادی کرلی،پہلی بیوی سے اولاد نہیں ہے اور دوسری سے اولاد بھی ہے،کچھ عرصہ دونوں اکھٹی رہتی رہیں،اب پہلی بیوی کو طلاق دے دی ہے،اس مسئلے کے بارے میں شرعی طور پر وضاحت فرمائیں کہ کیا دوسری عورت کو بھی طلاق ہوگئی ہے،اسٹام کے بارے میں بہت بعد میں پتہ چلا،اسٹام کے مطابق اس کا نکاح ہوا یا نہیں؟

o

چونکہ اس شخص نے پہلی بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس عورت سے نکاح کیا تھا،اس لئے دوسری بیوی سے نکاح کرتے ہی اس پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں تھیں،جن کے بعد ان دونوں کا ایک  ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا حرام تھا،ان دونوں پر لازم ہے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور اب تک ساتھ رہ جس عظیم اورسنگین گناہ کے مرتکب ہوتے رہے ہیں اس پر شرمندگی،ندامت اور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں۔

نیز چونکہ تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اس لئے اب موجودہ حالت میں اس شخص کا اس عورت سے دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں۔

اسی طرح تین طلاقوں کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کا نسب بھی باپ سے ثابت  نہیں ہوگا،تاہم ان بچوں کے نان نفقہ اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بإعثِ ثواب سمجھ کر پورے اہتمام کے ساتھ  اس عورت اور مرد دونوں کو ادا کرنی چاہیے،کیونکہ ان بچوں کا آپ دونوں کے اس ناجائز تعلق میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

حوالہ جات

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]
"صفوة التفاسير" (1/ 131):
"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .
{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".
"البحر الرائق " (3/ 257):
"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".
"الفتاوى الهندية "(2/ 148):
"والشبهة في الفعل في وطء المطلقة ثلاثا في العدة ولو طلقها ثلاثا ثم راجعها ثم وطئها بعد مضي المدة يحد إجماعا وأم الولد إذا أعتقها سيدها والمختلعة والمطلقة على مال في العدة بمنزلة المطلقة ثلاثا في العدة لثبوت الحرمة إجماعا ووطء أمة أبيه وأمه كذا في الكافي".
"رد المحتار" (3/ 518):
"(قوله: بشبهة) متعلق بقوله وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل.
 وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال ثم وطئها في العدة عالما بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لا يقع فيها طلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اهـ وما قاله الصدر هو ظاهر".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

05/ذی قعدہ1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔