021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنے اور لے پالک کے حج کے لیے کمپنی کو دی گئی رقم ترکہ میں شامل ہوگی یا نہیں؟
77063میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری ساس نجم اقبال صاحبہ ہر سال اپنے لے پالک بیٹے کو لے کر حج پر جاتی تھی۔ ہماری چونکہ اپنی حج کمپنی ہے ، اس لیے وہ ہر سال ہمارے ساتھ جاتی تھی، اور ہر سال جب کمپنی ایڈوانس مانگتی وہ ایڈوانس رقم دیتی تھی۔ ساس اور اس کے لے پالک دونوں کی طرف سے حج ڈاکومینٹیشن ہمیشہ میں ہی مکمل کرتا تھا۔  

 ڈھائی سال پہلے انہوں نے مجھے بارہ لاکھ روپے دئیے کہ یہ حج کمپنی کے پاس ایڈوانس جمع کرادیں؛ چھ لاکھ ان کے لیے، اور چھ لاکھ لے پالک کے لیے، ڈاکومینٹیشن بھی ہوگئی تھی،  جب انہوں نے یہ رقم دی تھی تو حج قریب آچکا تھا تو اس میں کافی رقمیں آگے ٹرانسفر ہوگئی تھیں، یعنی بسوں کے لیے، یا بلڈنگ کے لیے، یا ائیر لائن کے لیے ایڈوانسز دئیے جاچکے تھے۔ لیکن پھر کورونا کی وجہ سے دو سال حج نہ ہوسکا، اور یہ رقم کمپنی کے پاس ہی پڑی رہی کہ اگلے سال حج پر جائیں گے، اگلے سال بھی حج نہ ہوسکا تو اس سے اگلے سال۔ یہ رقم کمپنی کے پاس ان دونوں نجم اقبال اور عمر فاروق (لے پالک) کے نام سے پڑی رہی، اور ان دونوں کے نام میں لکھی ہوئی ہے کہ یہ ان کے حج کا ایڈوانس آیا ہوا ہے، اتنی رقم آگئی ہے اور اتنی باقی ہے۔ 

اب نجم اقبال صاحبہ کا 22 مارچ کو انتقال ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کا کیا حکم ہے؟  

o

صورتِ مسئولہ میں جب حج پر جانے سے پہلے ہی نجم اقبال صاحبہ کا انتقال ہوا تو مرحومہ کے حج کے چھ لاکھ روپے ان کی میراث بن گئی، جو مرحومہ کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ واضح رہے کہ لے پالک شرعا صرف لے پالک ہونے کی وجہ سے وارث شمار نہیں ہوتا۔

جہاں تک لے پالک کے نام سے جمع شدہ چھ لاکھ روپے کا تعلق ہے تو جب کمپنی کے پاس یہ چھ لاکھ روپے لے پالک ہی کے نام سے جمع ہوئے تھے، اور کمپنی نے اس میں سے کافی رقم لے پالک کے لیے حج کی خدمات حاصل کرنے کے واسطے آگے مختلف کمپنیوں کو دی تھی تو اب یہ رقم لے پالک کی ملکیت سمجھی جائے گی، کیونکہ حج پر جانے کا عقد لے پالک کا تھا تو اس کی اجرت بھی لے پالک پر واجب تھی جو اس کی طرف سے والدہ نے ادا کی، اس ایڈوانس رقم کی حیثیت اجرتِ معجلہ (پیشگی دی گئی اجرت) کی تھی، گویا مرحومہ نے یہ رقم لے پالک کو ہبہ کی جس پر آپ نے لے پالک کے وکیل ( آپ کا لے پالک کے حق میں وکیل ہونے کی دلیل ہر سال اس کی ساری ڈاکومینٹیشن وغیرہ کرنا ہے) کی حیثیت سے قبضہ کیا، اور ہبہ تام یعنی مکمل ہوگیا، پھر آپ نے وہ رقم لے پالک کی طرف سے کمپنی کو دئیے، اور کمپنی نے اس کے لیے حج کی خدمات حاصل کرنے کے واسطے آگے دئیے۔ چونکہ یہ سارے معاملات لے پالک کے لیے ہورہے تھے، جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ رقم والدہ کی طرف سے لے پالک کو ہبہ کی گئی تھی جس پر موہوب لہ کے وکیل نے مرحومہ کی زندگی ہی میں قبضہ کرلیا تھا؛ اس لیے اب یہ چھ لاکھ روپے مرحومہ کے ترکہ میں شامل نہیں ہوں گے، بلکہ لے پالک کو ملیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب   

حوالہ جات

الدر المختار (5/ 688-687):
( وركنها ) هو ( الإيجاب والقبول ). ……... ( وتصح بإيجاب كوهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام…... ( وأعمرتك هذا الشيء وحملتك على هذه الدابة ) ناويا بالحمل الهبة، كما مر.  
رد المحتار (5/ 688-687):  
قوله ( هو الإيجاب ) وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالًا فتصرف فيه الابن يكون للأب، إلا إذا دلت دلالة التمليك، بيري. 
 قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك، كمن دفع لفقير شيئا وقبضه ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه، ومثله ما يدفعه لزوجته أو غيرها وقال: وهبت منك هذه العين فقبضها الموهوب له بحضرة الواهب ولم يقل قبلت صح؛ لأن القبض في باب الهبة جار مجرى الركن فصار كالقبول، ولوالجية. وفي شرح المجمع لابن ملك عن المحيط: لو كان أمره بالقبض حين وهب، لا يتقيد بالمجلس، ويجوز قبضه بعده.
قوله ( والقبول ) فيه خلاف: ففي القهستاني: وتصح الهبة بكوهبت، وفيه دلالة على أن القبول ليس بركن كما أشار إليه في الخلاصة وغيرها، وذكر الكرماني أن الإيجاب في الهبة عقد تام، وفي المبسوط: أن القبض كالقبول في البيع؛ ولذا لو وهب الدين من الغريم لم يفتقر إلى القبول كما في الكرماني، لكن في الكافي والتحفة: أنه ركن، وذكر في الكرماني أنها تفتقر إلى الإيجاب؛ لأن ملك الإنسان لا ينقل إلى الغير بدون تمليكه، وإلى القبول؛ لأنه إلزام الملك على الغير، وإنما يحنث إذا حلف أن لا يهب فوهب ولم يقبل؛ لأن الغرض عدم إظهار الجود، وقد وجد الإظهار، ولعل الحق الأول؛ فإن في التأويلات التصريح بأنه غير لازم، ولذا قال أصحابنا: لو وضع ماله في طريق لكون ملكا للرافع جاز، اه، وسيأتي تمامه قريبا………..…. الخ 
أعطى لزوجته دنانير لتتخذ بها ثيابا وتلبسها عنده، فدفعتها معاملة، فهي لها، قنية.
شرح المجلة للعلامة الأتاسي (3/349):
ویظهر لي  من مجموع هذه النقول أن الهبة کما تنعقد بالألفاظ الدالة علی التملیك مجانًا لغةً أو عرفًا، تنعقد أیضًا بالفعل بطریق التعاطي، کما ستأتي في المادة الآتیة، لکن مع قرینة لفظیة أوحالیة، ومنها العرف والعادة، تعین أن ذلك الفعل أرید به التملیك……. الخ  

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   6/ذو القعدۃ/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔