021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچوں میں میراث کی تقسیم، اور تقسیم سے پہلے کسی وارث کی وفات کا حکم
77059میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

(1)۔۔۔ محمد بخش نامی شخص 1995ء میں فوت ہوا۔ اس نے دو بیٹے (1) عبد الرشید (2) عبد الحمید، اور تین بیٹیاں (1) زلیخا (2) شمشاد (3) یاسمین اختر چھوڑیں۔ محمد بخش کے والدین، دادا، دادی، نانی، اور بیوی کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا۔

(2)۔۔۔ اس کے بعد زلیخا 2006ء میں فوت ہوئی۔ زلیخا نے ورثا میں شوہر شمس الدین، دو بیٹے (1) محمد شعیب (2) محمد اعظم، اور دو بیٹیاں (1) میمونہ (2) تمکین چھوڑیں۔ زلیخا کے والدین، دادا، دادی، اور نانی کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ از روئے شرع مذکورہ اشخاص کا متحرک اور غیر متحرک ملکیت میں کیا حصہ ہوگا ؟

o

(1)۔۔۔ محمد بخش مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں نقدی، سونا، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ یعنی میراث ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر اس کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو کل سات (7) حصوں میں تقسیم کر کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو، دو (2، 2) حصے، اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ دیدیں۔  

(2)۔۔۔ زلیخا نے انتقال کے وقت اپنے والد کی میراث سے ملنے والے مذکورہ بالا ایک (1) حصہ سمیت جو کچھ چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے جواب نمبر (1) کے تحت بیان کردہ حقوق یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات، قرض، اور وصیت اسی ترتیب اور تفصیل کے ساتھ ادا کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ کے شوہر کو دو (2) حصے، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو بھی دو، دو (2، 2) حصے، اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ دیدیں۔  

حوالہ جات

القرآن الکریم، [النساء: 11]:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ}.  
السراجی فی المیراث (17):
وأما للزوج فحالتان: النصف عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل، والربع مع الولد أوولد الابن وإن سفل.  

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  6 /ذو القعدۃ/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔