021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فلیٹ کی تعمیر سے پہلے اُسے بیچنا
77393خرید و فروخت کے احکامسلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل

سوال

ایک فلیٹ تقریبا 80٪ فیصد تعمیر ہوچکا ہے، ہم وہ فلیٹ خریدنا چارہے ہیں، لیکن بلڈر نے کہا ہے کہ سارے فلیٹ بک چکے ہیں۔ جو لوگ پہلے سے وہ فلیٹ بک کراچکے ہیں، اُن میں سے کچھ لوگ اپنے بک کرائے ہوئے فلیٹ بیچنے کے لیے تیار ہیں، مگر وہ لوگ اپنا فلیٹ پچاس لاکھ روپے اضافہ کے ساتھ بیچ رہے ہیں۔ ہم نے علماء سے پوچھا ہے، انہوں نے کہا کہ قبضہ سے پہلے فلیٹ بیچنا جائز نہیں۔ بلڈر نے اِس معاملہ میں ہمیں ایک آفر یہ دی ہے کہ جتنی قیمت میں وہ لوگ اپنا فلیٹ بیچ رہے ہیں، اگر آپ لوگ اتنی قیمت میں لینے پر راضی ہیں، تو ہم (بلڈر) فلیٹ اُن لوگوں سے واپس لے لیتے ہیں اور پھر وہ چونکہ ہمارے قبضے میں ہوگا تو ہم وہ فلیٹ آپ کو بیچ دیں گے۔ اِس تمام کام کی بلڈر ہم سے مزید پانچ لاکھ بھی لے گا، ٹرانسفر فیس یا سروس چارجز کے طور پر۔ بلڈر ہماری فائل بھی فرسٹ اونر کی بنائے گا اور پیمنٹ بھی ہم ساری بلڈر کو کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اِس طرح ہم بلڈر سے یہ فلیٹ خرید سکتے ہیں؟

o

ایسے فلیٹ کی بکنگ جو ابھی تیار نہ ہوا ہو، اِس کا حکم استصناع کا ہے۔ اِس میں خریدار کے لیے وہ فلیٹ قبضہ آنے سے پہلے آگے بیچنا جائز نہیں۔اِس لیے آپ بکنگ کرانے والوں سے تو یہ فلیٹ ابھی نہیں خرید سکتے۔ البتہ آپ بلڈر سے وہ فلیٹ اِس شرط کے ساتھ خرید سکتے ہیں کہ جس سے بلڈر نے پہلے معاہدہ کیا تھا، بلڈر اُس کی رضامندی سے وہ معاہدہ ختم کرے اور پھر آپ سے نیا معاہدہ کرے اور اِس نئے معاہدے میں جو قیمت دونوں کی رضامندی سے طے ہوجائے وہ درست ہے۔ اگر پہلا خریدار معاہدہ ختم کرنے پر راضی نہ ہو تو بلڈر اُس کے لیے کوئی دوسرا انتظام کرکے بھی اُسے پہلا معاہدہ ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اور اِس صورت میں بلڈر کا آپ کو زیادہ قیمت پر بیچنا اور سروس چارجز کی مد میں پانچ لاکھ روپے لینا جائز ہے۔

حوالہ جات

فی فقہ البیوع: 1/604
"والصورۃ الثانیۃ: أن تکون الأرض ملکا للصانع، ویطلب منہ المستصنع أن یبنی علیھا بیتا، أو مکتبا، أو دکانا. ومنہ ما جری بہ العمل من أن صاحب الأرض الخالیۃ یعمل خطۃ لبناء کبیر یحتوی شقق سکنیۃ، أو مکاتب، أو محلات، ثم یدعو الناس للاکتتاب، فیدفعون إلیہ مبالغ، ثم یسلم إلیھم الشقق بعد اکتمالھا، فھو مخرج علی الاستصناع... فیجوز ذلك بشروط الاستصناع".
وفیہ أیضا: 1/601
"والمصنوع قبل التسلیم ملك للصانع، ولھذا ذکر الفقھاء أنہ یجوز لہ أن یبیعہ من غیرہ... ولکن ینبغی أن یقید جواز البیع من الغیر بشرط أن یتمکن الصانع من تسلیم مثلہ إلی المستصنع فی موعدہ، فإن لم یتمکن لا یجوز لہ بیعہ إلی غیر المستصنع، لا لأنہ لیس ملکا لہ، بل یؤدی إلی عدم التسلیم إلی المستصنع فی موعدہ المعقود علیہ".
وفیہ أیضا: 1/601
" وبما أن المصنوع ملك للصانع، ولیس ملکا للمستصنع قبل التسلیم، فلا یجوز للمستصنع أن یبیعہ قبل أن یسلم إلیہ".

طارق مسعود

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

14،ذوالقعدۃ،1443

n

مجیب

طارق مسعود

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔