021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فون پر کیے گئے نکاح کا حکم
77160نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں ﴿ایس﴾ ایک  شادی شدہ مرد ہوں اور میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ﴿اے﴾ سے نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن کچھ ناگوار وجوہات کی وجہ سے نہ کر سکا۔ میں اس لڑکی ﴿اے﴾ سے بات تو کرتا تھا لیکن کبھی بھی چھوا تک نہیں تھا۔ میرا مقصد اس کے ساتھ غلط تعلق قائم کرنا نہیں تھا بلکہ اپنی بیوی بنانا تھا اور وہ میری دوسری بیوی بننے کو تیار تھی۔ وہ ﴿اے﴾ مجھے ہر وقت یہی طعنہ دیتی تھی کہ تم مجھے چھوڑ جاؤ گے لیکن میرا ارادہ یہ نہیں تھا۔ میں ﴿ایس﴾ ایک صاحب حیثیت، صاحب اولاد اور صاحب جائیداد ہوں۔ہم دونوں نے اپنی مرضی سے یہ بڑا فیصلہ کیا کہ ہم دونوں نکاح کر لیتے ہیں۔ ہم دونوں نے گواہوں کی موجودگی میں تین مرتبہ ایجاب و قبول کیا۔ حق مہر ایک لاکھ  decide کیا اور ہم نے یہ سب فون کال پر کیا ہے۔ میں ﴿ایس﴾ والد ﴿ایم زیڈ﴾ ایک لاکھ حق مہر کے ساتھ آپ ﴿اے﴾کو قبول ہوں۔ یہ تین مرتبہ دہرانے کے بعد انہوں نے مجھے قبول کیا اور اسی طرح ﴿اے﴾ والد ﴿اے کیو﴾ آپ سے نکاح کرتی ہوں، ایک لاکھ مہر کے عوض۔آپ کو قبول ہے۔ اسی طرح یہ تین مرتبہ ایجاب و قبول ہوا ہے جسے ہم دونوں نے قبول کیاہے۔ اس عمل کے بعد میں﴿ایس﴾ نے ﴿اے﴾ کو ایک موبائل گفٹ کیا اور اس پر ہم دونوں بات کیا کرتے تھے۔ جو میں نے اپنی بیوی کو بتا دیا کہ میں ﴿اے﴾ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میری بیوی نے بڑی عقل مندی سے سب باتیں مجھ سے پوچھ کر میرے گھر والوں اور اس کے بھائیوں تک شائد غلط انداز میں پہنچا دیں جب کہ مجھے میری بیوی نے کہا تھا کہ میں تمہاری شادی کو آؤں گی۔ ہم دونوں کے درمیان دو سال سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ﴿اے﴾ کے بھائیوں نے اس سے موبائل لے لیا ہے۔ میں نے دو بار نکاح کی غرض سے آدمی بھیجے لیکن انہوں نے ہمیں  No Interestکہہ کر واپس بھیج دیا۔میں ﴿ایس﴾ اہل سنت و جماعت دیوبند سے ہوں اور ﴿اے﴾ اہل حدیث مکتب فکر سے ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اہل حدیث کے نزدیک ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور دیوبند کے نزدیک ہو جاتا ہے۔جب میں نکاح کر رہا تھا تو میں نے ﴿اے﴾ سے یہ بات کہی تھی کہ اہل حدیث کے نزدیک نکاح نہیں ہوتا ہے تو اس نے مجھے کہا کہ اس مرتبہ ولی میں خود ہوں گی۔ میں ولی اور دلہن کے بطور آپ کو کہتی ہوں آپ مجھ سے نکاح کریں اور میں ﴿اے﴾ بطور ولی اور دلہن آپ کو اجازت دیتی ہوں۔ وہ ﴿اے﴾ شائد اپنے بھائیوں کو میرے اور اپنے متعلق نہیں بتا سکتی ۔ میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ اس طرح میرا ﴿ایس﴾ اور ﴿اے﴾ کا نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو میں اس کے بھائیوں کو کیسے راضی کروں؟ اگر نکاح قائم ہو چکا ہے تو میں اسے پانے کی کوشش کروں ورنہ اپنے بیوی  اور بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا ہوں اور اسے بھی اللہ خوش رکھے۔ مہربانی فرما کر مجھے اہل حدیث اور دیوبند دونوں کی نظر میں بتائیں۔

وضاحت: سائل سے فون پر پوچھنے سے معلوم ہوا کہ نکاح کے وقت ایک طرف فون پر لڑکی خود موجود تھی۔دوسری طرف لڑکا اور دو گواہ موجود تھے۔ گواہوں نے لڑکی اور لڑکے کی طرف سے کیے گئے ایجاب و قبول کو سنا۔ اس سے پہلے لڑکے نے لڑکی کا نام اور اس کے والد کا نام گواہوں کو بتایا تھا اور یہ بھی کہ یہ فلاں جگہ رہتی ہے اور میری کلاس فیلو ہے۔گواہوں کی کبھی لڑکی سے ملاقات نہیں ہوئی اس لیے وہ اس کی آواز کو بھی نہیں پہچانتے تھے۔

o

نکاح سے متعلق شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ یہ چھپ کر نہ کیا جائے بلکہ اس کا اعلان کیا جائے۔

جمہور اہل علم کے نزدیک فون پر کیا گیا نکاح درست نہیں۔ البتہ بعض اہل علم فون پر کیے گئے نکاح کوشرائط کے ساتھ نافذ قرار دیتے ہیں لیکن یہ رائے راجح نہیں۔ اس لیے راجح قول کے مطابق سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کا نکاح مسماۃ ’’اے‘‘ سے منعقد نہیں ہوا۔

  • اوراگر میاں بیوی کے طور پر  نہیں رہنا چاہتے ہیں تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ لڑکی کو طلاق دے دیں تا کہ وہ کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو نکاح کر سکے اور دوسرا نکاح متفقہ طور پر درست ہو۔

حوالہ جات

(سنن الترمذي ت شاكر (3/ 390)، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر)
  • عن محمد بن حاطب الجمحي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فصل ما بين الحرام والحلال، الدف والصوت».
(دورة المؤتمر السادس بجدة في المملكة العربية السعودية من 17-23 شعبان 1410۔)
  • أقرَّ مجمَعُ الفقهِ الإسلاميِّ التابع لمنظَّمة المؤتمر الإسلامي إجراءَ العقودِ بآلاتِ الاتِّصالِ الحديثةِ في عددٍ مِن المعاملاتِ، ثم قال: (القواعِدُ السابقةُ لا تشمَلُ النِّكاحَ؛ لاشتراطِ الإشهادِ فيه).  
((فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى)) (18/91)
  • جاء في فتاوى اللجنة: (نظرًا إلى عنايةِ الشَّريعةِ الإسلاميةِ بحِفظِ الفُروجِ والأعراضِ، والاحتياطِ لذلك أكثَرَ مِن الاحتياطِ لِغَيرِها من عقود المعاملات- رأت اللجنةُ أنَّه ينبغي ألَّا يُعتمَدَ في عقود النِّكاح في الإيجابِ والقَبولِ والتوكيل على المحادثات التليفونيَّة؛ تحقيقًا لمقاصِدِ الشريعةِ، ومزيدَ عنايةٍ في حفظِ الفُروجِ والأعراضِ؛ حتى لا يعبَثَ أهلُ الأهواء ومن تحَدِّثُهم أنفسُهم بالغِشِّ والخداعِ. وبالله التوفيقُ، وصلَّى الله على نبينا محمَّدٍ وآله وصَحبِه وسلم).
(المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 29)، دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)
  • في «فتاوى أبي الليث» رحمه الله: رجل قال لقوم: اشهدوا أني تزوجت هذه المرأة التي في هذا البيت فقالت المرأة: قبلت، فسمع الشهود مقالتها ولم يروا شخصها،فإن كانت في البيت وحدها جاز النكاح؛ لأنه لا جهالة، وإن كانت معها في البيت أخرى لم يجز؛ لأن الجهالة ممكنة، وكذلك لو وكّلت المرأة رجلاً فسمع الشهود قولها ولم يروا شخصها فهو على ما ذكرنا من الوجهين۔
(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 183))
  • (ويفتى) في غير الكفء) بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ۔

نفیس الحق ثاقب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18 ذیقعدہ 1443ھ

n

مجیب

نفیس الحق ثاقب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔