021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث اور جائیداد کی تقسیم
76273میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ (ماریہ) نے دو شادیاں کی پہلے شوہر (رمضان) سے ان کا ایک بیٹا (ریاض) ہے اور پھر طلاق کے بعد میرے والد (رفیق) سے شادی کی اور اس سے ہم دو بھائی (مسلم اور جہانگیر) ہیں،شادی کے وقت میری والدہ (ماریہ) کے پاس کچھ نہیں تھا شادی کے بعد جو کچھ تھا وہ میرے والد (رفیق) نے دیا تھا، میری والدہ کا جس گھر میں انتقال ہوا وہ گھر میری والدہ کے نام تھا اور اس کے علاوہ مہاجر کیمپ میں ایک ایک کمرے کے چار گھر دلائے تھے اور وہاں گھر کے کاغذات نہیں ہوتے بلکہ بجلی کا بل جس کے نام ہوتا ہے اس کے نام گھر کھلاتے ہے، اور بجلی کے بل ہم دو بھائی (مسلم اور جہانگیر) کے نام پر ہے۔ میرے والد (رفیق) نے امی (ماریہ) سے شادی کرنے کے بعد یہ کہا تھا پہلے شوہر (رمضان) سے بیٹے (ریاض) کا ہمارے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہمارے جائداد میں اس کا کوئی حصہ ہوگا اور امی ابو نے یہ بھی بتایا کہ یہ بات اخبار میں بھی شائع کی تھی البتہ اس کے صحیح الفاظ معلوم نہیں خالہ اور ماموں اس بات کے گواہ ہیں ان کے سامنے یہ بات ہوئی تھی۔ 1. کیا میری والدہ (ماریہ) کے پہلے شوہر (رمضان) کے بیٹے (ریاض) کا بھی میراث میں بنتا ہے اگر بنتا ہے تو کس کس چیز میں اور کتنا بنتا ہے؟ 2۔ میری خالہ یہ کہہ رہی تھی کہ تمہاری امی نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میری ساری جائیداد اور میرے چھوٹے بیٹے (جہانگیر) کو تم سنبھالنا، چونکہ میرا چھوٹا بھائی (جہانگیر) کی ۲۷ سال عمر ہے اور اور اس کا دماغ پیدائشی طور پر چھوٹا ہے اس لیے خالہ سے کہا کہ میں (مسلم) اپنی بیوی بچوں کے ساتھ الگ گھر میں رہتا ہوں۔ تو کیا یہ ساری وراثت ہم بھائیوں میں تقسیم ہوگی یا اس میں خالہ کا بھی حصہ ہوگا؟ 3. میرے والدہ (ماریہ)کے دو بینک اکاونٹ ہیں ایک امی اور بھائی (جہانگیر) کا جوائنٹ اکاؤنٹ ہے جس میں ایک لاکھ ایک ہزار روپے ہیں، اور دوسرا اکاؤنٹ صرف امی کے نام پر ہے جس کا nominee میرے بھائی (جہانگیر) کو بنایا ہے، لہذا کیا اس اکاؤنٹ میں پیسے وراثت میں تقسیم ہوں گے؟ اگر ہوں گے تو کیسے ہوں گے؟ 4۔ مہاجر کیمپ میں ایک گھر ہے جو گودام بناہوا ہے جو کہ میرے والد کے نام ہے اور چونکہ میں والد نے بھی دو شادیاں کی پہلی بیوی (رحیمہ) سے تین بیٹے ہیں، میرے والد کا انتقال پہلے بیوی (رحیمہ) کے گھر میں ہوا تھا، والد کے انتقال کے بعد پہلے بیوی (رحیمہ) کے تینوں بیٹوں نے یہ کہہ کر ہمیں والد صاحب کے وراثت میں سے کچھ نہیں دیا کہ ابو (رفیق) نے یہ کہا تھا کہ جو کچھ یہاں (پہلی بیوی رحیمہ کے گھر میں) ہے وہ ہمارا ہے اور جو کچھ تم لوگوں کے گھر میں وہ تمہارا (والدہ ماریہ، میں جاوید، اور بھائی جہانگیر) ہے۔ لہذا مہاجر کیمپ میں جو والد صاحب کے نام گھر ہے تو کیا اس میں اس کے پہلی بیوی (رحیمہ) کا اور ان کے بیٹوں کا بھی حصہ ہوگا؟ اور اگر ہو تو کتنا ہوگا۔ براہ مہربانی قرآن اور سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں آپ کی عین نوازش ہوگی ۔

o

مرحوم نے اپنی ملکیت میں سے جوچیزیں اور جائیداد اپنی زندگی میں کسی کو باقاعدہ مالکانہ اختیار دے کر حوالے کی ہوں تو وہ ترکہ میں شامل نہیں ہونگی اور کے علاوہ جو مال یا جائیداد صرف کاغذات میں نام کی ہوں یا صرف زبان سے کہا ہو مالکانہ اختیار کے ساتھ حوالہ نہ کی ہوں یا صرف دینے کا وعدہ کیا ہویا مرنے کے بعد تملیک کی بات کی ہو تو ایسی تمام صورتوں میں ایسی جملہ ملکیتی اموال وجائیداد مرحوم کے ترکہ میں شامل ہو کر اس کے جملہ ورثہ میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہونگی، م

مرحوم کے ورثہ میں اس کی پہلی بیوی اور دوسری بیوی  اور ان دونوں کی وہ اولاد ہے جو مرحوم کی موت کی وقت زندہ تھی،اور ماریہ کا پہلے شوہر سے بیٹا مرحوم کے ورثہ میں شامل نہ ہوگا۔اسی طرح آپ کی والدہ ماریہ کے وراثت اور ورثہ کا حکم ہے اور مرحومہ کی بہن اس صورت میں وارث نہیں بن سکتی۔

اول مرحوم کی  تمام متروکہ(مملوکہ) منقولہ وغیرمنقولہ تمام اموال وجائیداد میں سے اول انکی تجہیز وتکفین کاخرچ( بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے نہ کیا ہو۔) پھر اگر ان پر کوئی قرضہ ہو تو اس کی ادائیگی لازم ہے،اس کے بعداگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ میں سے اسے پورا کرنا ضروری ہے،اس کے بعدکل مال ۸۰ برابرحصوں میں تقسیم ہوگا،جن میں سے ہر ایک زوجہ کو ۵ ،۵ حصے اور اور ہر بیٹے کو ۱۴،۱۴ حصے ملیں گے۔

 اس کے بعد ہر ہر زوجہ کا حصہ اس کے مرنے کے وقت موجود اس کے ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگی، لہذا آپ کی والدہ کی جملہ ملکیت میں مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق ان کی تجہیز وتکفین وغیرہ جملہ حقوق کی ادائیگی کے بعد اس کا مال اس کے دونوں بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۴شعبان۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔