021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد ادا شدہ کرایوں میں اضافہ کا مطالبہ
77207اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

 ہماری فیکٹری ہے جو کہ کرایہ (کی جگہ) پر ہے۔ مالکِ مکان کے ساتھ ہمارا سالانہ کرائے کا معاہدہ ہوتا ہے۔ اکتوبر 2021 میں معاہدہ ختم ہوگیا تھا، اس کے بعد نیا معاہدہ نہیں ہوا، ہم پرانے معاہدے کے حساب سے کرایہ ادا کرتے رہے، جن کی رسیدیں بھی موجود ہیں۔  کل پانچ ماہ کا کرایہ ادا کرنے کے بعد اب مالکِ مکان یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد (سے) پندرہ فیصد اضافہ ادا کردو، جبکہ ان پانچ ماہ کا کرایہ ہم ادا کرچکے ہیں، ان کا پندرہ فیصد اضافی رقم کا مطالبہ بغیر معاہدہ کے ہے۔ ایگریمنٹ ختم ہونے کے بعد مالکِ مکان پرانے حساب سے کرایہ بخوشی وصول کرتا رہا، پھر اچانک پانچ ماہ بعد پندرہ فیصد اضافے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔   

سوال یہ ہے کہ کیا مالکِ مکان کا ادا شدہ کرایوں میں پندرہ فیصد اضافے کا مطالبہ جائز ہے ؟   

o

منسلکہ کرایہ نامہ میں لکھا ہے:-

یہ کرایہ نامہ صرف گیارہ ماہ کے لیے کار آمد ہے جس کا نفاذ بمؤرخہ 2020-12-1 سے ہوگا، اور اختتام مؤرخہ 2021-10-30 کو ہوگا، اور کرایہ نامہ مالک کی رضامندی سے قابلِ تجدید ہوگا، فریقِ اول گیارہ ماہ بعد کرایہ میں ٪15 اضافے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

معاہدہ کی اس شق کی رو سے  اجارہ کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد تجدیدِ معاہدہ کی صورت میں مالک کو کرایہ میں ٪15 اضافہ کرنے کا حق حاصل تھا، لیکن سوال نامہ کے مطابق نہ تجدیدِ معاہدہ ہوا، نہ ہی مالک نے کرایہ میں ٪15 اضافہ نہیں کیا، بلکہ ہر ماہ بخوشی سابقہ کرایہ لیتا رہا۔ اس لیے اس تفصیل کی رو سے اب وہ گزشتہ مہینوں کے وصول کردہ کرایہ جات پر ٪15 اضافہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

البتہ اگر آپ دونوں کرایہ داری کا معاملہ جاری رکھنا چاہتے ہیں تو آئندہ آنے والے مہینوں کا کرایہ ابھی سے باہم رضامندی سے مقرر کرلیں۔  

 

حوالہ جات

المجلة (ص: 84):
مادة 437: وتنعقد الإجارة بالتعاطي أيضا، كالركوب في باخرة المسافرين وزوارق المواني ودواب الكراء من دون مقاولة، فإن كانت الأجرة معلومة أعطيت، وإلا فأجرة المثل.  
مادة 438: السكوت في الإجارة يعد قبولا ورضاء………….….. الخ  
 مادة 439: لو تقاولا بعد العقد على تبديل البدل أو تزييده وتنزيله يعتبر العقد الثاني.  
شرح المجلة للأتاسی (2/504):
شرح المادة 1437: (وإلا فأجرة المثل) بالغةً ما بلغت؛ لعدم التسمیة.
وفی التتارخانیة عن التتمة: سألت أبا یوسف رحمه الله تعالیٰ عن الرجل یدخل السفینة أو یحتجم أو یفتصد أو یدخل الحمام أو یشرب الماء من السقاء ثم یدفع الأجرة وثمن الماء، قال: یجوز استحسانا، ولایحتاج إلی العقد قبل ذلك اھ.
درر الحکام شرح مجلة الأحکام (1/479):
شرح المادة 439: الزیادة : أما الوعد بالزیادة فلیس له حکم، کما لو استأجر دابة من مکار بأجرة من العملة المغشوشة أی المختلطة ثم طلب إلیه المؤجر أن تکون الأجرة من غیر المغشوشة أو طلب إلیه الزیادة فقال له المستأجر: إننی أفعل ما ترید، فلا یلزمه شیئ بهذا الوعد المجرد.  

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 21/ذو القعدۃ/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔