021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک وارث کا مشترکہ ترکہ سے اپنی ذات کے لیے مکان خریدنے کا حکم
77346میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری ایک کزن ہیں جو ڈنمارک میں رہتی ہیں، انہوں نے میرے والد صاحب کو کچھ رقم دی، تاکہ وہ کراچی میں ایک زمین خرید کر اس پر ان کا گھر بنا سکیں۔ کیونکہ وہ پاکستان میں نہیں رہتی تھیں، میرے والد نے اپنے نام پر ان کی رقم سے ایک زمین خریدی اور گھر بنایا. یہاں میں یہ بیان کر دوں کہ میرے والد صاحب کنسٹرکشن کے بزنس میں تھے اور وہ گھر بنا کے بیچا کرتے تھے.  جیسا کہ یہ میری کزن کا گھر میرے والد کے نام پر تھا تو کورٹ نے اس گھر کو بھی میرے اور میری بہن کے نام پر میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد منتقل کردیا۔ لیکن ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ یہ گھر ہماری کزن کا ہے اور اس کی اصل مالک وہی ہیں۔ تقریبا چھ سات سال پہلے میری کزن نے ہمیں کہا کہ وہ گھر بیچنا چاہتی ہیں اور چونکہ یہ گھر ہمارے والد صاحب نے بنایا ہے تو اگر ہم اس گھر کو خریدنا چاہتے ہوں تو خرید لیں۔

اس وقت اس گھر کی قیمت 43 لاکھ روپے تھی. میں اس گھر کو اپنے لیے رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تھا، چنانچہ میں نے اپنی بہن سے پوچھا کہ کیا وہ اس گھر میں دلچسپی رکھتی ہے؟ اس وقت میرے والد کی کل جائیداد کی مالیت کے حساب سے میری بہن کا حصہ تقریبا 45-40 لاکھ روپے کے آس پاس بنتا تھا۔ میں نے یہ سوچا تھا کہ اگر وراثت کی تقسیم کے وقت کچھ پیسے گھر کی قیمت میں کم پڑے تو میں اپنے حصے سے دو سے چار لاکھ روپے بہن کو دے دوں گا تاکہ یہ گھر ان کا ہو سکے۔

کیونکہ میری بہن اس گھر میں دلچسپی رکھتی تھی، ہم نے کزن کو 43 لاکھ روپے دیے اور دو لاکھ روپے سے میری بہن نے گھر میں کچھ کام وغیرہ کروائے۔  میں یہاں یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ یہ رقم جس سے ہم نے یہ گھر خریدا تھا اور کام کروایا تھا، ہم نے اپنے والد کی کچھ دوسری جائیداد کو بیچ کے حاصل کی تھی۔ جس وقت ہم نے یہ گھر خریدا تھا اس وقت ہم اپنے والد صاحب کے ایک دوسرے گھر میں رہتے تھے۔ وہاں پر میری فیملی اور میری بہن بہنوئی بھی ساتھ رہتے تھے۔ چونکہ ہمیں اس گھر کی مرمت وغیرہ کر کے اس گھر کو بیچنا تھا تو مجبورا میں اپنی فیملی اور بہن بہنوئی کے ساتھ اس چھوٹے گھر میں شفٹ ہو گیا۔ ہم یہاں پر2 سال رہے اور پھر میں ایک کرائے کا گھر لے کر اپنی فیملی کے ساتھ وہاں منتقل ہو گیا اور میری بہن اسی گھر میں آج بھی رہ رہی ہیں.

اس گھر کو خریدے تقریبا چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور جو گھر ہم نے 43 لاکھ کا خریدا تھا اب اس کی قیمت تقریبا ایک کروڑ تیس لاکھ روپے ہے۔ ہم اب والد کی کل جائیداد کا حساب کرتے ہوئے اس بات  پر الجھاؤ کا شکار ہیں کہ ہمیں اس گھر کی کونسی قیمت لگانی چاہیے؟ وہ جو قیمت اس وقت ہے یعنی ایک کروڑ تیس لاکھ روپے یا وہ قیمت جس پر ہم نے یہ گھر آج سے تقریبا چھ سال پہلے خریدا تھا یعنی 43 لاکھ روپے؟

میری بہن کا موقف:

میری بہن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان کا حصہ 43 لاکھ سے زیادہ ہی بنتا، جس وقت گھر خریدا گیا تھا، اس وقت کی قیمت کے لحاظ سے اور انہوں نے یہ نیت کی تھی کہ وہ اپنے حصے میں آنے والی رقم سے یہ پیسے کٹوا لیں گی،لہذا وہ اس گھر کی مالکہ ہیں اور اس گھر کی قیمت میں اگر کوئی بھی اضافہ ہوتا ہے تو وہ ان کا منافع مانا جائے گا. وہ منافع والد کی جائیداد میں شمار نہیں ہوگا۔ اپنے موقف کو تقویت دینے کے لیے وہ یہ بھی کہتی ہیں، " تم نے کاروبار کرنے کی غرض سے 20 لاکھ روپے وراثت کے پیسوں میں سے ليے تھے اس کاروبار میں اگر تمہیں منافع ہوتا تو وہ تمہارا شمار ہوتا اسے ہم والد کی وراثت کا حصہ نہیں بناتے"۔

میرا موقف:

میرا كہنا یہ ہے کہ ہم نے یہ گھر اپنے والد کی کچھ جائیداد بیچ کے لیا تھا اور اس خیال کے ساتھ کہ جب ہم جائیداد کو بانٹیں گے تو اس وقت میری بہن کے حصے میں اتنی رقم آئے گی کہ وہ یہ گھر رکھ سکیں گی۔ یہ گھر خریدتے وقت ہم نے وراثت کی تقسیم نہیں کی تھی۔

لیکن چونکہ گزشتہ سالوں میں نہ صرف اس گھر کی بلکہ والد کی باقی جائیداد کی بھی قیمت بہت بڑھ چکی ہے تو اس وقت صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ لہذا اب اس گھر کی موجودہ قیمت کو والد کی مکمل جائیداد میں شامل ہونا چاہئے اور اگر میری بہن کا حصہ اتنا بنتا ہے کہ وہ یہ گھر لے سکیں تو یہ گھر اپنے نام منتقل کروا لیں (اس وقت یہ گھر ہم دونوں کے نام پر ہے)۔ اور اگر میری بہن کا حصہ نہیں بنتا کہ وہ گھر خرید سکے تو ہم اس گھر کو بیچ کر ان کا حصہ انہیں دے دیں.

میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ میری بہن نے وہ 43 لاکھ روپے اپنے متوقع حصے میں سے ادھار نہیں لیے تھے بلکہ ہم نے یہ والد کی جائیداد میں سے خریدا تھا کہ اگر وراثت کی تقسیم کے وقت ان کا حصہ اتنا بنا کہ وہ یہ گھر لے سکیں تو وہ یہ گھر رکھ سکتی ہیں۔گزشتہ سالوں میں میں نے اپنی بہن سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر میرے کاروبار کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑی تو میں اس گھر کو بیچ دوں گا۔یہاں میں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ جب بھی میں نے اپنے والد صاحب کی جائیداد میں اپنے حصہ کا شمار لگایا تو اس گھر کو بھی والد کی جائیداد میں شامل کیا۔

برائے مہربانی اس صورتحال کا جائزہ لے کر اور ہمارے نقطہ نظر یعنی میرے اور میری بہن کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہوئے اس معاملے میں شریعت کی رو سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔ کیا ہم اس گھر کی موجودہ قیمت کو والد کی جائیداد میں شامل کریں؟ یا اس 43لاکھ کی قیمت کو شامل کریں، جس میں ہم نے یہ گھر تقریبا چھ سال پہلے خریدا تھا؟ اس معاملے کو کیسے سلجھایا جائے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ والد صاحب نے چونکہ یہ مکان زندگی میں اپنے نام کروایا تھا، اس لیے وراثتی طور پر یہ مکان ہم دونوں کے نام منتقل ہو گیا، والد صاحب کا دوسرا مکان جب بیچا تو اس کے پیسے بہن کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے تھے، بہن وہاں سے ہماری کزن کو ادائیگی کرکے اپنے لیے یہ مکان خرید لیا۔ البتہ خریدنے میں زبانی طور پر ہم دونوں کی مشاورت تھی، اگرچہ یہ تصریح کی گئی تھی کہ یہ بہن کا ذاتی ہو گا یا وراثتی شمار ہو گا۔

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ میرے بھائی سعودیہ میں ہوتے تھے، میں پاکستان میں رہتی تھی، وراثتی مال سے متعلق کوئی بھی کام ہوتا تو میں بھائی سے مشورہ کرتی تھی، چنانچہ جب کزن نے مجھ سے کہا کہ میں مکان بیچنا چاہتی ہوں، چونکہ مکان پہلے آپ دونوں کے نام پر ہے، اس لیے سب سے پہلے میں آپ دونوں کو اس مکان کے خریدنے کا حق دیتی ہوں، میں نے بھائی سے بات کی تو بھائی نے کہا میری اس مکان میں دلچسپی نہیں، تم دلچسپی رکھتی ہو؟ میں کہا ہاں مجھے اس مکان میں دلچسپی ہے۔ اس پر بھائی نے کہا اگر آپ اس مکان میں دلچسپی رکھتی ہو تو تم لے لو، اگر دو چار لاکھ روپے کم پڑ گئے تو میں اپنے حصہ میں سے ڈال دوں گا۔ اس پر میں نے وہ مکان اپنے لیے خرید لیا۔

        بعد میں بعض مرتبہ بھائی نے کہا کہ ضرورت پڑی تو میں یہ مکان بیچ دوں گا، مگر میں سمجھتی رہی کہ یہ غصے یا مذاق میں کہہ رہا ہے، لیکن اب سے چار ماہ قبل جب وراثت کی تقسیم کی بات چلی تو پھر انہوں نے سنجیدگی سے کہا یہ مکان بھی وراثتی ہے، پھر ہمارے درمیان اختلاف ہوا تو ہم نے آپ کی طرف رجوع کیا۔

o

صورتِ مسئولہ میں اگرچہ مکان خریدتے وقت فریقین کی طرف سے  کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی کہ یہ مکان وراثت میں شمار ہو گا یا بہن کی ذاتی ملکیت؟ لیکن سوال میں ذکر کیے گئے درج ذیل قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکان بہن کی ملکیت شمار ہو گا:

الف: سوال میں تصریح ہے کہ آپ اس مکان میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، جبکہ آپ کی بہن اس مکان میں دلچسپی رکھتی تھی اور اسی مقصد کےلیے اس نے یہ مکان لیاتھا اور پھر اس نے دو لاکھ روپے کا اس مکان پر اپنی حسبِ منشاء کام بھی کروایا، جس کا آپ کو بخوبی بھی علم تھا اور آپ سے مشورہ بھی ہوا تھا۔

ب: مکان خریدتےوقت بہن کے حصے کا حساب بھی کیا گیا تھا اوریہ مکان اتنی رقم کا ہی خریدا گیا تھا  جتنی رقم اُس وقت بہن کےمشترکہ  حصہ میں سے بنتی تھی۔

مذکورہ بالا قرائن کی روشنی میں  ہماری رائے کے مطابق مذکورہ مکان آپ کی بہن کی ملکیت  شمار ہو گا اور چونکہ مکان خریدتے وقت بہن کے حصے کا باقاعدہ حساب کیا گیا تھا اور آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی رقم کم پڑ گئی تو میں اپنے حصہ سے دے دوں گا، اس لیے اس مکمل صورتِ حال  سے ضمناً ترکہ کی تقسیم ثابت ہوگئی، لہذا بہن نے جو رقم لی ہے وہ ان کا وراثتی حصہ شمار ہو گا اور بقیہ ترکہ میں سے اگر اُس وقت (جس وقت بہن کے حصہ کا حساب کرکے مکان خریدا گیا تھا)کے حساب سے بہن کا کچھ حصہ بنتا ہو تو وہ لینے کی حق دار ہے، ورنہ نہیں۔

نیز وصیت میں خرچ کی جانے والی ایک تہائی رقم کا اندازہ بھی اسی وقت کے حساب سے لگایا جائے گا جس وقت بہن کے حصے کا حساب کرکے مکان خریدا گیا تھا۔

 یہ بات یاد رہے کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں پراپرٹی اور نقدی  وغیرہ سمیت جو چیزیں چھوڑی ہیں اور وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الاداء ہو وہ سب مرحوم کا  ترکہ شمار ہو گا،  لہذا مرحوم کے کفن دفن کے اخراجات نکالنے، مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس سب کی تقسیم کی جائے گی اور اس میں وہ بیس لاکھ روپیہ بھی شامل ہو گا جو آپ نے کاروبار کے لیے لیا تھا۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 210، المادة :1090) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
إذا أخذ الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه فخساره يعود عليه , كما أنه لو ربح لا يأخذ الورثة حصة فيه.
"إذا أخذ الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه فخساره يعود عليه , كما أنه لو ربح لا يأخذ الورثة حصة فيه ) إذا تصرف أحد بلا إذن في مال الغير وربح يكون الربح له , ويتفرع عن ذلك مسائل عديدة : المسألة الأولى ، إذا أخذ أحد الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين أو إذن الوصي إذا كان الورثة صغارا فكما أن الضرر يعود عليه ويأخذ الورثة حصتهم في رأس المال فقط كذلك لو ربح فلا يأخذ الورثة حصة من الربح........مثلا لو أخذ أحد الورثة من تركة مورثه بدون إذنهم مائة دينار وباع واشترى بها فربح خمسين دينارا فتكون الخمسون دينارا له وليس للورثة الآخرين الاشتراك في هذا الربح ويكون ذلك الوارث ضامنا للورثة حصصهم في رأس المال كما أنه لو خسر في البيع والشراء تلك المائة الدينار كلا أو بعضا فيعود الخسار المذكور عليه ويضمن حصص الورثة الآخرين"۔
السراجي في الميراث: (ص:8) مكتبة البشرى:
الحقوق المتعلقة بتركة الميت: قال علمائنا  رحمهم الله: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولاتقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/ذوالحجہ 1443ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔