021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دادا کی جائیداد میں پوتے کے اس حصے کا حکم جو پوتی کے نام کروایا گیا ہو
77394ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ایک آدمی کا بیٹا فوت ہوگیا ہے،لیکن فوت ہونے والے بیٹے کی اولاد موجود ہے،دادا نے اپنے پوتے اور پوتیوں میں جائیداد تقسیم کی ہے،لیکن پوتے کا کچھ حصہ پوتی کے نام انتقال کرادیا تھا،اب دادا کا انتقال ہوگیا ہے اور پوتی کو معلوم ہے کہ یہ میرا حصہ نہیں ہے،بلکہ میرے بھائی کا حصہ ہے،کیا شرعا وہ یہ حصہ اپنے بھائی کو واپس کرسکتی ہے؟

o

زندگی میں اپنی جائیداد میں سے کسی کو حصہ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور ہبہ کے تام ہونے کے لئے قبضہ شرط ہے،قبضہ دیئے بغیرمحض کاغذات کسی کے نام کروانے سے ہبہ تام نہیں ہوتا،لہذا اگر دادا نے اپنی جائیداد پوتوں اور پوتیوں کے درمیان تقسیم کرکے ان کے قبضے میں بھی دے دیدی تھی تو یہ لوگ اس کے مالک بن گئے تھے اور پوتے کو دیا گیا جو حصہ پوتی کے نام کروایا گیا ہے وہ اسی پوتے کی ملکیت ہے جسے ہبہ کرکے اس کے حوالے کیا گیا تھا،اگرچہ کاغذات میں پوتی کے نام پر منتقل کیا گیا ہو۔

لیکن اگر دادا نے اپنی زندگی میں صرف زبانی ہبہ کیا ہو،باقاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک کا حصہ اس کے حوالے نہ کیا ہو تو پھر یہ ہبہ تام نہیں ہوا اور پوتے،پوتیوں کے نام کی گئی جائیداد مرتے دم تک بدستور دادا کی ملکیت رہی جسے اب ان کی وفات کے بعد ان کے شرعی ورثہ میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (5/ 688):
"(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

26/ذی الحجہ1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔