021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مورِث کے بعد وفات پانے والا وارث بھی وراثت میں سے حق دار ہو گا
77400میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

والد صاحب مرحوم کی دو عدد جائیدادیں ہیں، ان کے ورثاء میں چھ بیٹے،جن میں سے تین شادی شدہ اور تین غیر شادی شدہ تھے، ایک بہن غیر شادی شدہ اور والدہ صاحبہ تھیں، ان ورثاء میں بعض فوت ہو چکے ہیں، ان کی وفات کی ترتیب حسبِ ذیل ہے:

والد كا انتقال2004ء ميں،  بہن کا 2005ء میں، والدہ کا 2008ء میں، طاہر بھائی کا 2019ء میں اور شفیق بھائی کا 2020ء میں ہوا، بھائی شفیق کی کوئی اولاد نہیں ہے اور دوسرا بھائی غیر شادی شدہ تھا۔ یہ جائیداد ان ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم ہو گی؟

o

آپ کے والدمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ آپ کے والدمرحوم نے بوقت ِانتقال مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ  واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ  میں سے ایک تہائی(3/1) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے   اس کواسی (104) حصوں میں  برابرتقسیم کرکے  مرحوم کی بیوی کو تیرہ 

(13) حصے، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کوسات(7) حصے دیے جائیں، فيصدی لحاظ سے ہر وارث كے حصہ کی تفصیل ذیل کے  نقشہ میں  ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

فيصدی حصہ

1

بیوی

13

12.5%

2

بیٹا

14

13.461%

 

 

 

 

3

بیٹا

14

13.461%

4

بیٹا

14

13.461%

5

بیٹا

14

13.461%

6

بیٹا

14

13.461%

7

بیٹا

14

13.461%

8

بیٹی

7

6.73%

 

 

 

                                                                                                    

 

واضح رہے کہ جن ورثاء کا آپ کے والد مرحوم کی وفات کے بعد انتقال ہوا ہے وہ بھی اپنے والد مرحوم کی وراثت میں برابر کے حق دار ہیں، البتہ ان کو ملنے والا شرعی حصہ ان کے ورثاء کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔ اگر ہر ایک کا حصہ کی تفصیل معلوم کرنا تو ہر ایک کے ورثاء کی تفصیل بتا کر دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

 القرآن الکریم : [النساء: 12]
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
 السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراتشی

26/ذوالحجہ 1443ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔