021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مزارات پر عرس منانے کا حکم
77404ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

مزارات  پر  عرس  منانے کا کیا حکم ہے ؟

o

بزرگان دین کے مزارات  پر عرس منانا  کہ  سال اور دن مقرر کرکے  لوگوں کا  اس  مقام  پر   اجتماع   اور اس اجتماع اتنا   اہتمام   کہ اس کو   فرائض  اور  واجبات  طرح  سمجھاجائے ،اس کے ساتھ  سوال  میں مذکور  دیگر منکرات  شامل نہ بھی ہوں  تب بھی   بدعت اور ناجائز  ہے ، کیونکہ  یہ عمل  قرآن وسنت اور صحابہ  تابعین  سے ثابت نہیں ہے لہذا ان میلوں میں  شرکت  جائز نہیں  ہے ۔ عرس کے موقع پر سوال میں مذکورمنکراٹ  کی وجہ سے اس کا گناہ  اور بھی بڑھ جاتا ہے  ۔عرس کے علاوہ  عام  دنوں میں لوگ  مزارات میں جاکر  اس  قسم  کے  منکرات کا ارتکاب  کرتے ہیں ،اس لئے  عرس کے علاوہ  عام دنوں میں  بھی ان منکرا ت  سے  لوگوں  روکنے کا اہتمام  ہونا چائے۔

حوالہ جات

وفی  البریقہ  شرح الطریقة  المحمدیہ ج1ص122
العروس المعروف علی قبور مشائخ من البدعات  المخترعہ  فی  الدین  لم  یجوز  احد من  الفقہا ولم من احد  من الصحابة  والتابعین  واتباعھم ثم من  بعدھم الی  مدة  مدیدة ما یشاکلہ  او یشابھہ وھو ان کان خالیا  عن منکرات اخر  بدعة  وضلالة  فکیف  اذا  قارنھا  منکرات  لاتعد ومعاصی  لاتحد ۔

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

یکم  محرم  الحرام  ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔