021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مطالبات منوانے کے لیے احتجاج اور ہڑتال، چند سوالات
77456حکومت امارت اور سیاستدارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل

سوال

محترم جناب مفتی صاحب !

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، امید ہے مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔

مروجہ احتجاج اور اس کے شرعی طریقوں کے جائزہ سے متعلق ایک صدارتی ریفرنس اسلامی نظریاتی کونسل میں اس وقت زیرِ غور ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس نمبر 228 (منعقدہ 19، 18 مئی/ 2022ء) میں طے کیا ہے کہ احتجاج کے بابت مجوزہ مسودہ کو مدلل اور جامع بنانے کے لیے ملک کے مؤقر و مستند دار الافتاؤں سے بھی راہنمائی لی جائے۔ چنانچہ صدرِ مملکت کی طرف سے موصولہ سوالات آنجناب کی خدمت میں مراسلہ ہذا کے ساتھ ارسال کیے جارہے ہیں۔ امید ہے آپ اس بارے میں اپنے ادارے کی وقیع رائے سے کونسل کی راہنمائی فرمائیں گے۔   

مراسلہ ہذا جناب چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری سے جاری کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر انعام اللہ

ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ)

مطالبات منوانے کے لیے احتجاج اور ہڑتال- چند سوالات

  1. کوئی فرد یا گروہ مطالبات منوانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرے ؟
  2. مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کیا جاسکتا ہے؟
  3. مطالبات پورا کرنے کے لیے حکومتِ وقت کی ذمہ داری کیا ہے ؟
  4. اگر از روئے شریعت احتجاج کی اجازت ہے تو اس کا درست طریقۂ کار کیا ہے ؟
  5. احتجاج کے لیے راستوں، سڑکوں، اور گزر گاہوں کو بند کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
  6. احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے از خود ہڑتال کرنا، اور ذمہ داریوں کی انجام دہی اور کام موقوف کرنے کا کیا حکم ہے ؟  
  7. احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ہڑتال کرنے پر دوسرے لوگوں کو مجبور کرنے کا کیا حکم ہے ؟
  8. احتجاج کے لیے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور توڑ پھوڑ کرنے کا کیا حکم ہے ؟ اور اس نقصان کی تلافی کس کی ذمہ داری ہے ؟
  9. احتجاج کے دوران لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کا کیا حکم ہے ؟ اور اس کی تلافی کس کی ذمہ داری ہے ؟
  10. احتجاج کے دوران امن و امان قائم کرنے والے سرکاری ملازمین کو جانی نقصان پہنچانے کا کیا حکم ہے ؟
  11. احتجاج رکوانے کے لیے سیکورٹی فورسز کا احتجاج کرنے والوں پر تشدد کرنے اور ان کو جانی نقصان پہنچانے کا کیا حکم ہے ؟
  12. احتجاج رکوانے کا درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے ؟

o

(1)۔۔۔ کسی ملک کے شہریوں کا ریاست اور حکومت سے اپنے جائز مطالبات منوانے کا اصل اور صحیح طریقہ گفت وشنید اور افہام وتفہیم ہے، جس کے لیے عرف میں رائج کسی بھی جائز طریقے (مثلا حکومت کے پاس نمائندہ وفد یا جرگہ بھیجنے وغیرہ) کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مروجہ احتجاجات اور دھرنوں سے حتی الامکان بچنا چاہیے؛ کیونکہ آج کل کے احتجاجات کے ساتھ کئی شرعی خرابیاں، مثلا راستوں کی بندش، وہاں سے گزرنے والے لوگوں، بالخصوص بیماروں اور مسافروں کی ایذاء رسانی وغیرہ تقریبا لازم و ملزوم ہوگئی ہیں، اور یہ کام شرعا سخت ناجائز اور حرام ہیں، احادیث میں ان پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔  

(2)۔۔۔ اگر ریاست اورحکومت گفت وشنید کے لیے تیار نہ ہو، یا ان کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے  گفت وشنید سے جائز مطالبات حل نہ ہوں تو ایسی صورت میں ان کی غیر منصفانہ اور غلط پالیسیوں کے خلاف، اور اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کرنا جائز، بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہوجاتا ہے۔ کیونکہ احتجاج کا مقصد ظلم، نا انصافی اور حقوق کی عدمِ ادائیگی کے خلاف آواز بلند کرنا ہوتا ہے، چاہے اس کا تعلق ایک فرد یا چند افراد کی ذاتی زندگی اور حقوق سے ہو، یا کسی قبیلہ، قوم، جماعت، تنظیم، اور ادارے سے ہو، یا پھر دین ومذہب سے ہو۔  

لہٰذا اگر اپنے جائز حقوق حاصل کرنے، اسلامی شعائر اور ارکانِ اسلام کی حفاظت اور دفاع اور امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے احتجاج ناگزیر ہو جائے تو ایسی صورت میں احتجاج کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے ناجائز اور حرام کام کا ارتکاب نہ کیا جائے، مثلاً لوگوں کی ایذاء رسانی، ان کی جان اور مال کو نقصان پہنچانا، مرد وزن کا اختلاط، گانے بجانے اور رقص وسرود، غیبت، الزام اور بہتان تراشی، غلط خبریں اور افواہیں پھیلانا، وغیرہ۔ قرآن اور حدیث کی متعدد نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مظلوم اور صاحبِ حق کو بات کرنے اور مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، جب تک وہ جائز حدود سے تجاوز نہ کرے اور ظلم وزیادتی کا ارتکاب نہ کرے۔   

خلاصہ یہ ہے کہ جس احتجاج کا مقصد جائز ہو،  اور اس کا طریقۂ کار بھی ناجائز اور حرام کاموں سے پاک ہو، بوقتِ ضرورت وہ احتجاج جائز ہوگا۔ لیکن جس احتجاج کا مقصد ہی شرعاً جائز نہ ہو، یا مقصد تو جائز ہو لیکن طریقۂ کار درست نہ ہو، بلکہ ناجائز اور حرام کاموں پر مشتمل ہو، وہ احتجاج جائز نہیں ہوگا۔   

القرآن الکریم:

{لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيما} [النساء: 148]

التفسير الکبیر للإمام الرازى (ص: 1582):

 المسألة الخامسة : المظلوم ماذا يفعل ؟

 فيه وجوه : الأول : قال قتادة وابن عباس : لا يحب الله رفع الصوت بما يسوء غيره إلا المظلوم فإن له أن يرفع صوته بالدعاء على من ظلمه. الثاني : قال مجاهد : إلا أن يخبر بظلم ظالمه له. الثالث : لا يجوز إظهار الأحوال المتسورة المكتومة ، لأن ذلك يصير سبباً لوقوع الناس في الغيبة ووقوع ذلك الإنسان في الريبة ، لكن من ظلم فيجوز إظهار ظلمه بأن يذكر أنه سرق أو غصب، وهذا قول الأصم. الرابع : قال الحسن : إلا أن ينتصر من ظالمه.

 أحکام القرآن للتهانوی (2/364):

قوله تعالیٰ {لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ } الآیةیجوز للمظلوم الدعاء علی الظالم وإظهار ظلمه:

مسألة : یجوز للمظلوم أن یدعو علی الظالم ویتظلم منه، وکذلك الشتم إن رد علیه مثله فلا حرج علیه. عن أبي هریرة رضی اللہ عنه أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال : " المستبان ما قالا فعلی البادئ ما لم یعتد المظلوم" رواه مسلم ( المظهري : 2/267).

إذا نزل بقوم فلم یُقْرُوه فله أن یشکوهم:

مسألة :  إذا نزل بقومٍ فلم یُقْرُوه ولم یحسنوا ضیافته فله أن یشکو ویذکر ما صنع به، قاله مجاهد   (المظهري:2/354). وقال الجصاص: هذا في من لایجد ما یأکل فیستضیف غیره،

فلایضیفه، فهذا مذموم یجوز أن یشتکي ( 2/356).

صحيح البخاري (3/ 99):

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم يتقاضاه فأغلظ، فهم به أصحابه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوه ؛ فإن لصاحب الحق مقالا…..... الحدیث

صحيح مسلم (1/ 69):

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا وكيع عن سفيان ح وحدثنا محمد بن المثنى حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة كلاهما عن قيس بن مسلم عن  طارق بن شهاب وهذا حديث أبي بكر، قال: أول من بدأ بالخطبة يوم العيد قبل الصلاة مروان، فقام إليه رجل فقال: الصلاة قبل الخطبة، فقال: قد ترك ما هنا لك، فقال أبو سعيد: أما هذا فقد قضى ما عليه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان.

شعب الإيمان - البيهقي (6/ 49):

عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :  إياك و دعوة المظلوم؛ فإنما يسأل الله حقه، و إن الله لا يمنع ذا حق حقه.  

شعب الإيمان - البيهقي (7/ 79):

أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة قال أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج قال نا عبد الله بن عثام بن حفص بن غياث نا علي بن حكم الأودي قال أنا شريك عن أبي عمر عن أبي جحيفة قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو جاره، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اطرح متاعك على الطريق أو في الطريق، فطرحه، فجعل الناس يمرون عليه يلعنونه، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما لقيت من الناس ؟ قال: وما لقيت منهم؟ قال: يلعنوني، قال: فقد لعنك الله عز وجل قبل الناس، قال: فإني لا أعود أبدا يا رسول الله، قال: فجاء الذي شكى إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ارفع متاعك فقد أمنت أو كفيت.  

وقال غيره عن علي بن حكيم: أن لعنة الله فوق لعنتهم.

(3)۔۔۔ قرآن وسنت کی روشنی میں ریاست اور حکومت کا فرض ہےکہ وہ ملک میں قرآن وسنت کا نظام نافذ کرے، کاروبارِ مملکت کو اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کی روشنی میں چلائے، لوگوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کرے، اور ہر ہر شہری کو اس کے جائز حقوق اور انصاف فراہم کرے۔ ان تمام باتوں کی ضمانت آئینِ پاکستان بھی دیتا ہے۔ ریاست اور حکومت کی طرف سے اپنی ان ذمہ داریوں سے انحراف اور روگردانی قرآن وسنت اور آئینِ پاکستان تینوں سے روگردانی شمار ہوگی۔    

اگر ریاست اور حکومت اپنی یہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تو رعایا کو ان سے یہ ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایسی صورت میں حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنی رعایا کی بات سنے، شکایات کا ازالہ کرے، مسائل حل کرے، اور جائز مطالبات پورے کرے، بالخصوص ایسے مطالبات جن کا تعلق دینِ اسلام کے ارکان، شعائر، اور احکام کے تحفظ ودفاع، اور انسانی جان، مال، اور عزت وآبرو سے ہو۔    

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو ! تم میں سے ہر ایک شخص نگران اور ذمہ دار ہے، اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے امام اور حاکم کا ذکر فرمایا کہ: امام جو لوگوں کا حکمران ہو، وہ اپنے ماتحت لوگوں کا ذمہ دار ہے، اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس کے بعد پھر دوسری مختلف ذمہ داریوں والے افراد کا بیان فرمایا۔   

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اللہ نے کچھ لوگوں کا حاکم مقرر کیا ہو، پھر وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کی حالت میں مرے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام فرمادیا ہے۔

اس حدیث کی تشریح میں شراحِ حدیث نے لکھا ہے کہ رعایا کی جان، مال، اور عزت کو نقصان پہنچانا، ان پر ظلم کرنا، ان کے حقوق ادا نہ کرنا، ظالموں اور مفسدوں سے ان کی حفاظت نہ کرنا، ان کے دینی اور دنیوی مصالح سے ان کو باخبر نہ رکھنا اور ان کے درمیان اللہ کی شریعت اور احکام نافذ نہ کرنا، یہ سب کام حدیث میں مذکور " غش " یعنی دھوکہ دہی میں شامل ہیں۔  

صحيح البخاري (9/ 62):

حدثنا إسماعيل حدثني مالك عن عبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته، فالإمام الذي علی الناس راع،  وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته، وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية على أهل بيت زوجها وولده، وهي مسئولة عنهم، وعبد الرجل راع على مال سیده، وهو مسئول عنه، ألا فکلکم راع، وکلکم مسئول عن رعیته.  

صحيح مسلم (1/ 125):

حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا أبو الأشهب عن الحسن قال عاد عبيد الله بن زياد معقل بن يسار المزني في مرضه الذي مات فيه قال معقل: إني محدثك حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لو علمت أن لي حياة ما حدثتك، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:   ما من عبدٍ یسترعیه الله رعیةً یموت یوم یموت وهو غاش لرعیته إلا حرم الله علیه الجنة.

فتح الملهم بشرح صحيح الإمام مسلم (2/ 166):

قوله ( وهو غاش) الخ، وفي الروایة الأخریٰ: " ثم لا یجتهد لهم وینصح ". وحاصل الروایتین أنه أثبت الغش في إحداهما، ونفی النصیحة في الأخری، فکأنه لا واسطة بینهما، ویحصل ذلك بظلمه لهم بأخذ أموالهم، أوسفك دمائهم، أوانتهاك أعراضهم، أوحبس حقوقهم، وترك تعریفهم ما یجب علیهم في أمر دینهم ودنیاهم، وبإهمال إقامة الحدود فیهم وردع المفسدین منهم، وترك حمایتهم، ونحو ذلك.

(4)۔۔۔ احتجاج کے لیے شرعا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں، بلکہ ہر وہ طریقہ جو شرعی مفاسد اور خرابیوں سے پاک ہو، بوقتِ ضرورت اُسے اختیار کرنے کی گنجائش ہے، مثلا واک آؤٹ کرنا، پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرنا، راستوں اور روڈوں سے ہٹ کر کسی ایسی جگہ پر جمع ہوکر اپنے مطالبات ریاست وحکومت کے سامنے رکھنا جہاں کسی کو کوئی تکلیف یا نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔  

(5)۔۔۔ احتجاج کے لیے عام راستوں، سڑکوں، اور گزر گاہوں کو اس طرح بند کرنا جس سے عام لوگوں کو تکلیف ہو، شرعا جائز نہیں۔ احادیث میں راستوں کے بہت زیادہ حقوق بیان ہوئے ہیں، اور ان کا خیال نہ رکھنے پر سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں، مثلاً:

(الف)۔۔۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے اجتناب کرو، صحابہ کرم رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے، یہ ہمارے بیٹھنے کی جگہیں ہیں جن پر بیٹھ کر ہم گفتگو کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دو، صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ راستے کا حق کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا، اور برائی سے روکنا۔    

(ب)۔۔۔ سننِ ابی داؤد میں حضرت معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں فلاں غزوہ میں شریک ہوا، لوگوں نے (اپنی ضرورت سے زیادہ جگہیں گھیر کر) منزلوں کو تنگ کیا، اور راستوں کو بند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس نے (اپنی ضرورت سے زیادہ جگہیں گھیر کر) کسی منزل کو تنگ کیا، یا راستہ بند کیا، اس کا کوئی جہاد نہیں، یعنی لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے اس کو جہاد کا کامل ثواب نہیں ملے گا۔   

لہٰذا احتجاج کے لیے عام راستوں کو بند کرنا شرعا جائز نہیں۔ البتہ اگر احتجاج کے لیے کوئی اور مناسب جگہ نہ ہو، اور انتظامیہ کی مشاورت سے احتجاج کے لیے کوئی خاص روڈ یا شاہراہ اس طرح متعین کی جائے اور اس کا ایسا انتظام کیا جائے جس سے گزرنے والوں کو کوئی تکلیف اور حرج نہ ہو تو پھر اس خاص روڈ اور شاہراہ پر احتجاج کی گنجائش ہوگی۔   

صحيح البخاري (3/ 132):

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إياكم والجلوس على الطرقات ! فقالوا: ما لنا بد، إنما هي مجالسنا نتحدث فيها، قال: فإذا أبيتم إلا المجالس فأعطوا الطريق حقها، قالوا: وما حق الطريق ؟ قال: غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، وأمر بالمعروف، ونهي عن المنكر.   

صحيح مسلم (1/ 226):

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اتقوا اللعانين قالوا وما اللعانان يا رسول الله قال الذي يتخلى في طريق الناس أو في ظلهم.

سنن أبي داود (4/ 268):

عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه، قال: غزوت مع نبى الله -صلى الله عليه وسلم- غزوة كذا وكذا فضيق الناس المنازل، وقطعوا الطريق، فبعث نبي الله -صلى الله عليه وسلم- مناديا ينادي في الناس: أن من ضيق منزلا أو قطع طريقا، فلا جهاد له.

الكاشف عن حقائق السنن المعروف بشرح المشکاة للطیبی (8/ 2689):

الحديث الثالث عشر عن سهل رضي الله عنه: قوله: " فضيق الناس " قيل: التضييق هنا بسبب أخذ منزل لا حاجة له إليه أو فوق حاجته، وقطع الطريق تضييقها علي المارة. " فلا جهاد له "  أي لا كمال ثواب الجهاد؛ لإضراره الناس.

البحر الرائق (2/ 20):

وقيدوا بقولهم "ولم يواجه الطريق"؛ لأن الصلاة في الطريق أي في طريق العامة مكروهة، وعلله في المحيط بما يفيد أنها كراهة تحريم بقوله: لأن فيه منع الناس عن المرور، والطريق حق الناس أعد للمرور فیه، فلایجوز شغله بما لیس له حق الشغل.

(6)۔۔۔ ملازمین کا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور کام موقوف کرنا جائز نہیں، اس سے اجتناب ضروری ہے۔ البتہ اگر ان کے سنجیدہ مسائل اور مطالبات ہوں، اور حکومت، متعلقہ ادارہ یا اتھارٹی احتجاج کے بغیر ان پر توجہ نہ دے رہی ہو اور احتجاج ناگزیر ہو تو وہ احتجاج کی ایسی صورت اختیار کریں جس میں ذمہ داریوں کی انجام دہی کو موقوف کرنا لازم نہ آئے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو، اور وہ ملازمت کے اوقات میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی موقوف کر کے احتجاج کریں تو جتنا وقت احتجاج کی وجہ سے وہ اپنا کام نہیں کریں گے، اتنے وقت کی تنخواہ کے بھی مستحق نہیں ہوں گے۔       

(7)۔۔۔ احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کسی کو مجبور کرنا شرعا ہرگز جائز نہیں، اس سے بچنا ضروری ہے۔   

(8)۔۔۔ احتجاج کے لیے، یا احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور توڑ پھوڑ کرنا ہرگز جائز نہیں، سخت حرام ہے؛ کیونکہ سرکاری املاک حکومت یا کسی ادارے اور محکمے کی نہیں ہوتیں، بلکہ ملک کے تمام باشندوں کی ہوتی ہیں جن کو ضائع کرنے کا وبال بہت سخت ہے۔ احادیث میں اجتماعی املاک میں خیانت کرنے اور ان کو نقصان پہنچانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اگر کوئی فرد، چند افراد، یا کوئی جماعت سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے گی تو اس کا تاوان نقصان پہنچانے والوں سے ہی وصول کیا جائے گا۔  

(9)۔۔۔ احتجاج کے دوران لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانا اور توڑ پھوڑ کرنا بھی جائز نہیں، سخت حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا خون (جان)، مال، اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ لہٰذا احتجاج میں کسی مسلمان یا ذمی شخص کی املاک کو نقصان پہنچانا ہرگز جائز نہیں۔ اگر کسی نے لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا تو اس کا تاوان انہیں سے وصول کیا جائے گا۔   

(10)۔۔۔ احتجاج کے دوران امن وامان قائم کرنے والے سرکاری ملازمین، یا عام لوگوں کو جانی نقصان پہنچانا بھی ہرگز جائز نہیں، سخت حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا خون (جان)، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ اگر کسی نے ناحق دوسرے کی جان یا اعضا کو نقصان پہنچایا، یا اسے کوئی زخم لگایا تو شریعت کی ہدایات کے مطابق اس کا قصاص، دیت، اور تاوان نقصان پہنچانے والوں پر آئے گا۔ البتہ اگر احتجاج کرنے والوں پر ناحق تشدد ہو، یا ان کو کوئی نقصان پہنچائے تو اپنے آپ کو نقصان سے بچانے کی حد تک اپنا دفاع کرنا ان کے لیے جائز ہوگا۔     

(11)۔۔۔ کسی جائز مقصد کے لیے پر امن احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے، اسے رکوانے یا ختم کروانے کے لیے احتجاج کرنے والوں پر تشدد کرنا یا ان کو جانی نقصان پہنچانا جائز نہیں، سیکورٹی فورسز کے لیے  اس سے بچنا لازم ہے۔ البتہ اگر احتجاج کرنے والوں کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر یا عام شہریوں پر تشدد ہو، یا وہ سرکاری یا لوگوں کی نجی املاک کو نقصان پہنچائیں، تو ایسی صورت میں سیکورٹی فورسز کے لیے اپنا دفاع کرنا اور لوگوں کی جان ومال کی حفاظت جائز، بلکہ ضروری ہے، تاہم یہ دفاع بھی حتی الامکان ایسے طریقے سے ہونا چاہیے جس میں نقصان نہ ہو، یا کم سے کم ہو۔   

صحيح البخاري، ط: قدیمی کتب خانه (1/ 432):

 باب الغلول وقول الله تعالى {ومن يغلل يأت بما غل}:

 حدثنا مسدد ثنا يحيى عن أبي حيان ثني أبو زرعة ثني أبو هريرة رضي الله عنه قال: قام فینا النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الغلول فعظمه وعظم أمره، قال: لا ألفين أحدكم يوم القيامة على رقبته شاة لها ثغاء، على رقبته فرس له حمحمة، يقول: يا رسول الله أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئا، قد أبلغتك، وعلى رقبته بعير له رغاء يقول: يا رسول الله أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئا، قد أبلغتك، وعلى رقبته صامت فيقول: يا رسول الله أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئا، قد أبلغتك، و على رقبته رقاع تخفق فيقول: يا رسول الله أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئا، قد أبلغتك.   وقال أيوب الستختیاني عن أبي حيان فرس له حمحمة.

صحيح مسلم (4/ 1986):  

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله، ولا يحقره التقوى هاهنا» ويشير إلى صدره ثلاث مرات «بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام، دمه، وماله، وعرضه».

صحيح مسلم (1/ 124):

عن أبي هريرة قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي؟ قال: فلا تعطه مالك، قال: أرأيت إن قاتلني؟ قال: قاتله، قال: أرأيت إن قتلني؟ قال: فأنت شهيد، قال: أرأيت إن قتلته؟ قال: هو في النار.

سنن الترمذي (4/ 30):

  حدثنا عبد بن حميد قال أخبرني يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثنا أبي عن ابيه عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر عن طلحة بن عبد الله بن عوف عن سعد بن زيد قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: من قتل دون ماله فهو شهيد،  ومن قتل دون دينه فهو شهيد، ومن  قتل دون دمه فهو شهید، ومن قتل دون أهله فهو شهید.

قال: هذا حديث حسن، وهكذا رواه غير واحد عن إبراهيم بن سعد نحو هذا، و يعقوب هو ابن إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري.  

فتح الباري (5/ 124):

وحكى ابن المنذر عن الشافعي قال: من أريد ماله أو نفسه أو حريمه فله الاختيار أن يكلمه أو يستغيث، فإن منع أو امتنع لم يكن له قتاله، وإلا فله أن يدفعه عن ذلك ولو أتى على نفسه، وليس عليه عقل ولا دية ولا كفارة، لكن ليس له عمد قتله. قال ابن المنذر: والذي عليه أهل العلم أن للرجل أن يدفع عما ذكر إذا أريد ظلما بغير تفصيل، إلا أن كل من يحفظ عنه من علماء الحديث كالمجمعين على استثناء السلطان للآثار الواردة بالأمر بالصبر على جوره وترك القیام عليه وفرق الأوزاعي بين الحال التي للناس فيها جماعة وإمام فحمل الحديث عليها وأما في حال الاختلاف والفرقة فليستسلم ولا يقاتل أحدا. ويرد عليه ما وقع في حديث أبي هريرة عند مسلم بلفظ أرأيت أن جاء رجل يريد أخذ مالي قال فلا تعطه قال أرأيت أن قاتلني قال فاقتله قال أرأيت أن قتلني قال فأنت شهيد قال أرأيت أن قتلته قال فهو في النار، قال ابن بطال: إنما أدخل البخاري هذه الترجمة في هذه الأبواب ليبين أن للإنسان أن يدفع عن نفسه وما له ولا شيء عليه، فإنه إذا كان شهيدا إذا قتل في ذلك فلا قود عليه ولا دية إذا كان هو القاتل.  

الموطأ للإمام مالك (2/ 745):

حدثني يحيى عن مالك عن عمرو بن يحيى المازني عن أبيه ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :لا ضرر ولا ضرار.

فيض القدير (6/ 559):

(لا ضرر) أي لا يضر الرجل أخاه فينقصه شيئا من حقه (ولا ضرار) فعال بكسر أوله أي لا يجازي من ضره بإدخال الضرر عليه بل يعفو فالضرر فعل واحد والضرار فعل اثنين، أو الضرر ابتداء الفعل والضرار الجزاء عليه، والأول إلحاق مفسدة بالغير مطلقا، والثاني إلحاقها به على وجه المقابلة، أي كل منهما يقصد ضرر صاحبه بغير جهة الاعتداء بالمثل.... وفيه تحریم سائر أنواع الضرر إلا بدليل؛ لأن النكرة في سياق النفي تعم. وفيه حذف، أصله لا لحوق أو إلحاق، أو لا فعل ضرر أو ضرار بأحد في دیننا، أي لایجوز شرعا إلا لموجب خاص.

الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 105):

القاعدة الخامسة : الضرر يزال. أصلها : قوله عليه الصلاة و السلام : [ لا ضرر ولا ضرار ] وفسره في المغرب بأنه لا يضر الرجل أخاه ابتداء ولا جزاء انتهى. وذكره أصحابنا رحمهم الله في كتاب الغصب والشفعة وغيرهما. ويبنى على هذه القاعدة كثير من أبواب الفقه.

مجلة الأحکام العدلیة مع شرحها للعلامة خالد الأتاسي (1/25-24):

مادة 19:  لا ضرر ولا ضرار.

الشرح: هذه القاعدة مأخوذة من الحدیث الشریف الذي یرویه سیدنا أبو سعید الخدري رضي الله عنه، وهو قوله صلی الله علیه وسلم " لا ضرر ولا ضرار "، وهو من جوامع الکلم. وفي الفرق بین الضرر والضرار أقوال، قیل: الضرر إلحاق مفسدة بالغیر مطلقا، والضرار إلحاق مفسدة بالغیر علی وجه المقابلة، أي کل منهما یقصد إضرار صاحبه من غیر جهة الاعتداء بالمثل والانتصار بالحق، وقیل: الضرر أن یدخل علی غیره ضررا بما ینتفع هو به، والضرار أن یدخل  علی غیره ضررا بما لا منفعة له به، کمن منع ما لایضره ویتضرر به الممنوع…...….. والنفي ب " لا " الاستغراقیة یفید تحریم سائر أنواع الضرر في الشرع؛ لأنه نوع من الظلم، إلا ما خص بدلیل کالحدود والعقوبات (ابن حجر ملخصا).   

(12)۔۔۔ پر امن احتجاج رکوانے اور ختم کروانے کا اصل راستہ تو یہی ہے کہ ان کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں، اگر اربابِ اختیار شریعت اور آئین سے ماوار ہوکر ان کے جائز مطالبات پورے نہیں کریں گے تو وہ عند اللہ مجرم اور گناہ گار ہوں گے۔ اگر مطالبات ایسے ہوں جنہیں فوری طور پر پورا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر افہام و تفہیم اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 4/محرم الحرام/1444ھ

 

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔