021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں سے چھوٹی ہوئی چیز کا آگ سے نہ جلنے والی حدیث کی تحقیق
77472حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک واقعہ مشہورہے کہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہانے روٹیاں لگائیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دو روٹیاں بناکردیں،کافی دیر کے بعد جب سب پک گئیں تو فاطمہ رضی اللہ عنہاحیران ہوئی کہ کیونکہ اس میں سے ایک دو روٹیاں پک ہی نہیں رہی ہیں اسی طرح آٹے کا آٹا موجودہے،نبی کریم صلی للہ علیہ وسلم نے پوچھا بیٹا کیاہوا ؟ عرض کیا حضور!دو تین روٹیاں روٹیاں ایسی ہیں کہ جوپک نہیں رہیں،فرمایا کہ ہاں یہ وہی روٹیاں ہوں گی جن پر تیرے والد کےہاتھ لگ گئے ہیں، اب آگ اس آٹے پر اثر نہیں  کرسکتی ،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو چھولیتے تھے اس پر یوں اثرات ہوجاتےتھے ، اس کی تحقیق  مطلوب ہے اوریہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف  اس کومنسوب کرناکیسا ہے؟

o

تلاش ِبسیار کے باوجود یہ روایت ہمیں نہیں ملی ، لہذا اس روایت کو بیان نہ کیاجائے،البتہ تاریخِ بغداد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے  رومال نہ جلنے کا ذکر ہے، مگر وہ بھی شدید ضعیف ہے،  ذیل میں یہ روایت ذکر کی جاتی ہے،  لیکن اس کا بیان کرنا درست نہیں ہے، عبارت یوں ہے:

حوالہ جات

وأخبرنا الحسن حدثنا عبد الرحمن حدثنا أبو عمير الإنسي بمصر حدثنا دينار مولى أنس قال: صنع أنس لأصحابه طعامًا فلما طعموا قال: يا جارية هاتي المنديل، فجاءت بمنديل درن فقال: اسجري التنور واطرحيه فيه ففعلت، فأبيض فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه و سلم، وإن النار لاتحرق شيئًا مسته أيدي الأنبياء". (تاریخ بغداد، ذکر من اسمه عبدالرحمن: ۱۰/۲۹۱، ط: دارالکتاب العربي)
اس روایت  میں دینار راوی شدید ضعیف ہے، ان کے بارے  میں ائمہ کے اقوال درج ذیل ہیں:
-1  قال ابن عدي: منکر الحدیث، ذاهبه، شبه مجهول.
-2 قلت: یغلب علی ظني أنه کذاب، مالحق أنسًا أبدًا". (سیر أعلام النبلاء : ۱۰/۳۷۶)
-3 قال ابن حبان: یروی عن أنس أشیاء موضوعة". (المغنی في الضعفاء: ۱/۳۴۰،ط: مکتبه عباس)
-4 قال ابن عدي: ضعیف ذاهب". 
- 5قال الحاکم: روی عن أنس قریبًا من مائة حدیث موضوعة". (لسان المیزان : ۳/۲۶، ط: دارالبشائر )

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

6/1/1443ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔