021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک عورت کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا پھینکنے والی روایت کی تحقیق
77473حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک واقعہ مشہورہےکہ کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچرا پھینکتی تھی پھر وہ بیمارہوئی تو بیماری کی وجہ سے،ایک دن اس نےکوڑا نہیں پھینکا۔اس واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے۔

o

صورتِ مسئولہ میں جو واقعہ مشہور ہے وہ بے اصل قصہ ہے، مستند کتبِ احادیث میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا، لہذا رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ بیان کرنے کے لیے ایسے من گھڑت واقعات کا سہارہ لینے کی چنداں ضرورت نہیں، اور مذکورہ قصہ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں۔

اس روایت کے بے اصل  ہونے کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:

اولاً:  اس روایت کی سند مفقود ہے جو کہ اس کے بے اصل ہونے کی دلیل ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

" الاسناد من الدین و لو لا الاسناد لقال من شاء ما شاء "یعنی حدیث کی سند امورِ دین میں سے ہے۔ اگر حدیث کے ثبوت کے لیے اسناد ضروری نہ ہوتیں تو جس کے جی میں جو آتا کہتا۔ ( مقدمہ صحیح مسلم، جلد ۱، صفحہ ۳۱٦ مطبوعہ دارالتاصیل بیروت)

ثانیاً:  اس روایت کے متن میں آثارِ وضع اظہر من الشمس ہیں اور یہ روایت عقلاً و نقلاً مخدوش ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ عزوجل جو سب سے بڑا غیور ہے، وہ کس طرح گوارا فرما سکتا ہے کہ ایک بڑھیا روزانہ حضور ﷺ پر کوڑا پھینکے۔ 

ولید بن مغیرہ نے حضور ﷺ کو معاذاللہ مجنون کہا تو اللہ نے اس کے دس عیوب سورۂ قلم میں بیان فرما دیٕے، ام جمیل اور ابولہب نے گستاخیاں کی تو ان کی مذمت میں سورۂ لہب نازل ہو گئی، بنوتمیم کے وفد نے حضور ﷺ کو حجرہ اقدس کے باہر سے ندا دی تو سورۃ الحجرات میں ان کی سر زنش کی گئی لیکن دوسری جانب ایک بڑھیا روزانہ سرور دو عالم ﷺ پر کوڑا پھینکتی رہی مگر اس کی مذمت نہ قرآن میں کہیں ہے نہ حدیث میں۔ فیاللعجب

ثالثاً :یہ کہ جو جانثار صحابۂ کرام حضور ﷺ کے مائے مستعمل کو زمین پر نہ گرنے دیتے تھے، جن کی شمشیریں حضور ﷺ کی ادنی سی توہین پر میان سے باہر آجاتی تھیں، کیا وہ ایک بڑھیا کو رسول اللہ ﷺ پر معاذاللہ کوڑا ڈالتے خاموشی سے دیکھتے رہتے تھے؟ 

رابعا: یہ کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضور ﷺ یہ جاننے کے باوجود کہ یہاں بڑھیا روزانہ کوڑا پھینکتی ہے، اسی راستے سے روزانہ گزریں جبکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :

" لا ينبغي للمؤمن ان يذل نفسهیعنی مومن کو جائز نہیں کہ خود کو ذلت و رسوائی پر پیش کرے۔ (جامع ترمذی، کتاب الفتن، جلد ۳، صفحہ ۳۲۷ مطبوعہ دارالتاصیل بیروت)

      ان وجوہات کی بنا پر مذکورہ روایت بے اصل ہے۔لہذا اس روایت کو بیان کرنا اور پھیلانا جائزنہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:"  من کذب عليّ متعمداً فلیتبوا مقعدہ من النار "یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، باب اثم من کذب الخ، جلد ۱، صفحہ ۲۷٤ مطبوعہ دارالتاصیل بیروت)

حوالہ جات

.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

6/1/1443ھ
 

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔