021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع میں مہر کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حکم
77490طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری ہمشیرہ میڈیکل کی طالبہ تھی، ان کا رشتہ چچا زاد بھائی سے طے ہوا۔ منگنی کے وقت یہ بات طے ہوگئی تھی کہ اگر رخصتی لڑکی کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہوتی ہے تو پھر لڑکی شادی کے بعد بھی اپنی تعلیم مکمل کرے گی، اور تعلیمی اخراجات بھی لڑکے والے اٹھائیں گے، اس پر لڑکے والے راضی ہوگئے اور ہماری ہمشیرہ کی رخصتی ہوگئی۔  شادی کے پہلے ہفتے میں ہی شوہر نے بیوی کے سامنے ویڈیو کال پر غیر لڑکی سے باتیں شروع کیں تو ہماری ہمشیرہ گھر آگئی۔ پھر معاملہ رفع دفع کیا اور ہم نے لڑکے کو سمجھایا کہ ایسی حرکتیں نہ کریں، اس نے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی، اور ہم نے اپنی ہمشیرہ کو دوبارہ شوہر کے گھر بھیج دیا۔ لیکن شوہر باز نہ آیا اور اس نے دوبارہ غیر لڑکی سے باتیں شروع کیں، جس پر میاں بیوی میں تلخ کلامی ہوئی اور شوہر نے بیوی پر ہاتھ اٹھایا۔

ہمارے والدین کو جونہی خبر ملی وہ اپنے داماد کے گھر پہنچے اور داماد کو بلایا، لیکن وہ گھر سے باہر نکلا اور ملاقات نہیں کی۔ اس کے بعد میرے والدین اپنی بیٹی کو لڑکے کے والدین کی اجازت سے اپنے گھر لے آئے، لڑکے کے والدین اس وقت گھر پر موجود تھے۔ اور ہمارے گھرانوں میں عام طور پر بڑوں کی اجازت ہی معتبر ہوتی ہے، نیز شوہر بھی کئی بار اپنی بیوی سے یہ کہہ چکا تھا کہ جب کہیں جانا ہو تو امی ابو سے پوچھ کر جایا کریں۔

اب اس واقعہ کو دو سال ہونے کو ہیں۔ اس دوران دو تین دفعہ لڑکے  والے ہمارے گھر آئے، تاکہ اپنی بہو کو لے جائیں، لیکن وہ ساتھ یہ بھی کہتے کہ اگر لڑکی ہمارے ساتھ جائے گی تو اب یہ پڑھنے نہیں جائے گی اور گھر میں ہی رہے گی، اور ہم اس کے تعلیمی اخراجات بھی نہیں اٹھائیں گے۔ ہم نے انہیں یاد دلایا کہ یہ شرائط تو پہلے سے طے ہوچکی ہیں اور آپ حضرات نے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ لڑکی بالکل اپنی تعلیم مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کہا تھا، لیکن اب یہ پڑھنے نہیں جائے گی۔ اس طرح ہمارے اور ان کے درمیان بات آگے نہ بڑھ سکی اور لڑکے نے دوسری شادی کرلی۔ اس دوران

ہماری ہمشیرہ کی تعلیم مکمل ہوگئی اور اس کے اخراجات خود ہم نے اٹھائے۔

وضاحت: لڑکے والے جب بھی لڑکی کو منانے کے لیے لڑکی کے گھر آتے تھے تو شوہر بیوی کو میسج کرتا تھا کہ یہ تو آپ کو لینے آئے ہیں، لیکن آپ نے آنا نہیں ہے،اپنے گھر پر ہی رہیں۔  

اب لڑکی خلع کا مطالبہ کرتی ہے۔ لڑکا کہتا ہے کہ مہر واپس کردیں تو خلع دے دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں لڑکے کا مہر کی واپسی کا مطالبہ درست ہے ؟ جبکہ معاملہ لڑکے کی وجہ سے خراب ہوا، اور شرائط کی خلاف ورزی بھی انہوں نے کی۔ اسی طرح شادی کے بعد لڑکی کی تعلیم پر جو اخراجات آئے ہیں، ان کی ادائیگی حسبِ شرط لڑکے والوں پر لازم ہے یا نہیں ؟

اس مسئلے میں ہماری راہنمائی فرمائیں؛ کیونکہ فریقین شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کرنے کے خواہاں ہیں؛ تاکہ کسی پر زیادتی نہ ہو۔

o

واضح رہے کہ اگر "نشوز" بیوی کی طرف سے پایا جائے تو خلع کے وقت شوہر مہر کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ لیکن اگر "نشوز" شوہر کی طرف سے ہو تو پھر اس کے لیے مہر کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔   

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا تفصیلات درست ہیں تو شوہر کے لیے خلع میں مہر کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ ان تفصیلات کے مطابق "نشوز" شوہر کی طرف سے پایا گیا ہے، بیوی کی طرف سے نہیں۔ شوہر کی طرف سے مندرجہ ذیل تین اسباب پائے گئے ہیں:-

  1. نامحرم لڑکیوں سے بات چیت کرنا، بالخصوص بیوی کے سامنے ویڈیو کال پر بات کرنا، سمجھانے کے باوجود باز نہ آنا، اور معاملہ حل کرنے کے لیے ساس، سسر کے ساتھ نہ بیٹھنا۔
  2. میسجز کے ذریعے بیوی کو گھر واپس آنے سے منع کرنا۔
  3.  شادی کے وقت طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کرنا۔

سوال نامہ کے مطابق چونکہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ بلاوجہ نہیں گئی ہے، بلکہ شوہر کے نامحرم لڑکیوں کے ساتھ باتیں کرنے اور اسے مارنے کی وجہ سے گئی ہے، اور وہ بھی شوہر کا لڑکی کے والدین کے ساتھ بات چیت کے لیے نہ بیٹھنے  کے بعد اپنی ساس اور سسر کی اجازت سے گئی ہے، بعد میں بھی شوہر اس کو واپس آنے سے منع کرتا رہا ہے؛ اس لیے لڑکی کا اپنے والدین کے ساتھ جانا اور وہاں رہنا اس کی طرف سے "نشوز" شمار نہیں ہوگا۔  

جہاں تک تعلیمی اخراجات کا تعلق ہے تو لڑکے والوں پر اپنے وعدہ کی پاسداری لازم تھی، اگر انہوں نے بلاوجہ اس وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے تو وہ گناہ گار ہوں گے۔ تاہم چونکہ لڑکی کی تعلیم پہلے سے چل رہی تھی، اس لیے لڑکی کے گھر والوں نے شادی کے بعد اس کے جو تعلیمی اخراجات اٹھائے ہیں، وہ اب شوہر سے ان کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔   

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (6/ 328):  
ثم الأصل في الخلع: أن النشوز إذا كان من الزوج فلا يحل له أن يأخذ منها شيئا بإزاء الطلاق؛ لقوله تعالى {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج} [النساء: 20] إلى أن قال {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20].  
وإن كان النشوز من قبلها فله أن يأخذ منها بالخلع مقدار ما ساق إليها من الصداق؛ لقوله تعالى: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229].  ولو أراد أن يأخذ منها زيادة على ما ساق إليها فذلك مكروه في رواية الطلاق، وفي الجامع الصغير يقول لا بأس بذلك.  
وجه هذه الرواية ما روي أن جميلة بنت سلول –رضی الله عنها- كانت تحت ثابت بن قيس –رضی الله عنه-، فجاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: لا أعيب على ثابت بن قيس في دين ولا خلق، ولكني أخشى الكفر في الإسلام لشدة بغضي إياه، فقال صلى الله عليه وسلم: "أتردين عليه حديقته؟"، فقالت: نعم وزيادة، فقال صلى الله عليه وسلم: "أما الزيادة فلا"، وروي أنه قال لثابت: "أخلعها بالحديقة ولا تزدد"؛ ولأنه لا يملكها شيئا، إنما يرفع العقد، فيحل له أن يأخذ منها قدر ما ساق إليها بالعقد، ولا يحل له الزيادة على ذلك.
ووجه رواية الجامع الصغير ما روي أن امرأة ناشزة أتى بها عمر رضي الله عنه فحبسها في مزبلة ثلاثة أيام ثم دعاها وقال: كيف وجدت مبيتك؟ فقالت: ما مضت علي ليال هن أقر لعيني من هذه الليالي؛ لأني لم أره، فقال عمر رضي الله عنه: وهل يكون النشوز إلا هكذا؟ إخلعها ولو بقرطها.  وعن ابن عمر رضي الله عنه أن مولاة اختلعت بكل شيء لها، فلم يعب ذلك عليها. وعن ابن عباس رضي الله عنه لو اختلعت بكل شيء لأجزت ذلك. وهذا لأن جواز أخذ المال هنا بطريق الزجر لها عن النشوز؛ ولهذا لا يحل إذا كان النشوز من الزوج، وهذا لا يختص بما ساق إليها من المهر دون غيرهفأما في الحكم الخلع صحيح، والمال واجب في جميع الفصول عندنا، وعند نفاة القياس لا يجب المال إذا کان النشوز من الزوج، ولا تجب الزیادة  إذا کان النشوز منها؛ لقوله تعالی: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا} [البقرة: 229] إلى أن قال: {تلك حدود الله فلا تعتدوها} [البقرة: 229]، وقال بن جريج يعني في الزيادة والاعتداء يكون ظلما، والمال لا يجب بالظلم، ولكنا نستدل بما روينا من الآثار، وتأويل الآية في الحل والحرمة، لا في منع وجوب أصل المال.
بدائع الصنائع (3/ 150):
النشوز إذا كان من قبل الزوج كانت هي مجبورة في دفع المال؛ لأن الظاهر أنها مع رغبتها في الزوج لاتعطي إلا إذا كانت مضطرةً من جهته بأسباب أو مغترةً بأنواع التغرير والتزوير، فكره الأخذ.     
الدر المختار (3/ 445):
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه، فتح. وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى "لا بأس به" يفيد أنها تنزيهية، وبه يحصل التوفيق.
رد المحتار (3/ 445):
قوله ( ويلحق به ) أي بالأخذ ، قوله ( إن نشز ) في المصباح: نشزت المرأة من زوجها نشوزا من باب قعد وضرب عصته، ونشز الرجل من امرأته نشوزا بالوجهين: تركها وجفاها،  وأصله الارتفاع اهـ ملخصا.  
فقه البیوع (1/89):
الذی یتلخص من القرآن والسنة أن الوعد إذا کان جازماً یجب الوفاء به دیانةً، ویأثم الإنسان بالإخلاف فیه، إلا إذا کان لعذر مقبول.أما لزوم الوفاء قضاءً، فالأصل فیه أن مجرد الوعد لایحکم به فی القضاء؛ لأن المواعید متنوعة، ولیس من مهام القضاء أن یتدخل فی کل مایجری بین الناس من کلام….. وکذلك لو وعد أحد آخر أن یعطیه بعض الفلوس تبرعاً، فهذا وعد یجب إیفاءه علی الواعد دیانةً. أما أن یأخذ الموعود له بید الواعد، ویجره إلی المحکمة لإنجاز هذا الوعد، فلا عهد به فی الشریعة.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  11/محرم الحرام/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔