021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کی صورت میں لڑکی کازیورات واپس نہ کرنا
77495نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

محترم مفتی صاحب میری سالی اپنے شوہرسے علیحدگی چاہتی تھی،اس نے طلاق کامطالبہ کیا توشوہرنے طلاق دینے سے انکارکردیا اورکہاکہ طلاق لینی ہے توآپ کورٹ سے خلع لے لیں،چنانچہ کورٹ میں حاضرہوکرشوہرنے کہاکہ یہ خلع مانگ رہی ہے تومیں قبول کرتاہوں اوران کامہران کوواپس کردیا،لڑکا لڑکی سے وہ تحفہ وتحائف جوزیورکی صورت میں دیاگیاہے وہ بھی واپس مانگ رہاہے،جبکہ لڑکی دینانہیں چاہتی،کیایہ زیورلڑکی رکھ سکتی ہے،لڑکی کاسامان لڑکے والوں نے واپس کردیاہے،پوچھنایہ ہے کہ نکاح کے موقع پردیئے گئے تحائف لڑکی کیلئے رکھناجائزہے یانہیں؟

o

میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے مال کے عوض نکاح کے ختم کرنے کوخلع کہاجاتاہے،یعنی خلع میں بیوی شوہرسے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کچھ مال لیکریامہرمعاف کرواکراس کوآزادکرے یاشوہرمال کےعوض عورت کے مطالبہ کو  پوراکرے، شوہراس کی یہ پیشکش قبول کرلیتاہے تو دونوں کی رضامندی سے طلاق وجود میں آتی ہے،مذکورہ صورت میں اگرمردنے اس شرط پرطلاق دی ہے کہ اس کی طرف سے دئیے گئے تحائف واپس کئے جائیں توایسی صورت میں مرد کی طرف سے دئیے گئے تحائف اورزیورات واپس کرناضروری ہے،اوراگراس طرح کی شرط نہیں تھی تو اس کاتعلق عرف سے ہے،اگراس خاندان میں لڑکی کومالک بناکرسسرال کی طرف سے سامان دیاجاتاہے تویہ عورت کی ملک ہے اورمردکیلئے واپسی کامطالبہ کرنادرست نہیں اوراگرمالک بناکرنہیں دیاجاتا،صرف استعمال کیلئے دیاجاتاہے تواس صورت میں سسرال کی طرف سے دیاجانے والاسامان مرد کی ملک  ہے اورمردکاواپسی کامطالبہ کرنادرست ہے اورلڑکی پرزیورات واپس کرناضروری ہے۔

حوالہ جات

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي  (ج 8 / ص 201):
الخلع بالضم، وهو استعارة من خلع اللباس ،لان كل واحد منهما لباس للآخر فإذا فعلا ذلك فكان كل واحد نزع لباسه عنه، كذا في المصباح. وشرعا على ما اخترناه إزالة ملك النكاح المتوقفة على
  قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه
فی رد المحتار (ج 3 / ص 167):
قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليه قبل الزفاف في الاعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس، ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر
وفی الفتاوى الهندية (ج 7 / ص 332):
وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك ، كذا في الفصول العمادية .
وفی شرح الوقاية (ج 4 / ص 276):
وفي «الذَّخِيرَة»: جَهَّزَ بنته وزوَّجها، ثم زَعَمَ أنّ الذي دفعه إليها ماله وكان على وجه العَارِيَّة عِنْدَها، وقالت: هو ملكي جهَّزني به، أو قال الزَّوج ذلك بعد موتها، فالقول قولهما دون الأب، لأن الظاهر شاهد بملك البنت، إذ العادة دفع ذلك إليها بطريق الملك. وحُكِي عن عليّ السُفدِيّ: أنّ القول قول الأب، لأن ذلك يُسْتَفَادُ من جهته . وذكر شمس الأئمة السَّرْخَسِيّ في «السِّيَر الكبير» نحو ذلك. وقال قاضيخان: إن كان الأب من الأشراف والكرام، لا يُقْبَلُ قوله أنَّه عَارِيَّة، وإن كان ممن لا يجهز البنات بمثل ذلك، قُبِلَ قوله. وقال الصدر الشهيد: المختار للفتوى إن كان الأب يدفع جِهَازاً لا عَارِيَّة كما في ديارنا، فالقول قول الزَّوج، وإن كان العُرْف مشتركاً، فالقول قول الأب.

محمد اویس بن عبدالکریم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

12/01/1444

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔