021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امانت میں رکھی کلاشنکوف مالک کی اجازت کے بغیر کسی اورکو دینا
77505امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

2009ء میں جنوبی وزیرستان میں حکومت پاکستان اورطالبان کی درمیان بہت سخت جنگ شروع ہوگئی حکومتِ پاکستان نے وزیرستان کی عوام کے لیے اعلان کیا کہ 9مئی 2009تک وزیرستان خالی کرکے عوام ہجرت کریں، اس موقع پر سامان بھیڑ،بکریاں گائے وغیرہ سب کچھ چھوڑ کرلوگوں نے جانا شروع کیا اس موقع پر ایک شخص موسی ولی خان نے میرے بیٹے سے کہا کہ آپ نے کلاشنکوف کو کیا کرناہے؟  یہ تو پولیٹیکل ایریا میں  آپ لیکرنہیں جاسکتے ،میرے بیٹے نے جواب میں بولا کہ اس کو گریس لگاکر،زمین میں کھڈہ  کھود کردبادوں گا،  اس موقع پر موسی ولی خان نے کہا کہ کلاشنکوف زمین میں نہ دباؤبلکہ مجھے بطورامانت دیدو،میں ہجرت نہیں کرتا، میرے بیٹے نے موسی ولی کو کلاشنکوف بطورامانت دیدی اس پربھروسہ کرکے اوراعتبارکرکے کلاشنکوف اس کے حوالہ کردی، جب ہم جنگ  ختم ہونے کے بعد واپس اپنے گاؤں اورعلاقہ پہنچ گئے اورموسی ولی کو کہا کہ ہمارا کلاشنکوف جوبطورامانت ہم نے آپ کو دیاتھا بھروسہ کرکے اوراعتبارکرکے وہ امانت اب ہمیں  دیدوتو  اس نے کہا کہ کلاشنکوف میں نے کسی اورکو دیا ہے ،کلاشنکوف کی امید نہ رکھو، کیونکہ کلاشکوف میرے پاس نہیں ہے اورجس کو دیاہے وہ لاپتہ ہے معلوم نہیں کہ افغانستان میں ہے یا پاکستان میں،اس دوران موسی ولی خان مرگیا اورابھی موسی ولی خان کی بیوی ہے، ماں باپ دونوں زندہ ہیں،بالغ بیٹے ہیں ،بالغ بھائی ہیں اوربالغ بہنیں بھی ہیں اور میرا دل کلاشنکوف بخشنا  نہیں چاہتا نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں، لہذا آپ سے عرض  یہ  کرناہے کہ آپ مجھے قرآن اورحدیث کی رو سے جواب دیں کہ میں اس کلاشنکوف کی قیمت یا کلاشنکوف موسی خان کی ماں باپ بیٹے اوربہن بھائیوں سے مانگ سکتاہوں یا نہیں؟ جبکہ اس کی ماں باپ اورخاندان والوں کوخوب معلوم ہے کہ کلاشنکوف موسی ولی نے بطورامانت رکھ تھی اورموسی ولی خان نے امانت میں خیانت کرکے کلاشنکوف دوسرے آدمی کو دی ہے، یہ بات موسی ولی خان کے سب خاندان والوں کو معلوم ہے ۔

o

      امانت رکھی ہوئی چیزمالک کی اجازت کے بغیر کسی اورکو دینا شرعاً جائز نہیں،ایسا کرنا خیانت اورسخت گناہ کے زمرے میں آتاہے اوراس سے دینے والے پر ضمان آتاہے،لہذامذکورہ صورت میں موسی خان کےلیے ہرگزجائز نہیں تھاکہ وہ کلاشنکوف کسی اورکو دیتا ایسا کرکےانہوں نے خیانت کاارتکاب کیاتھاجس  کی وجہ سے ان پر استغفارکے ساتھ ساتھ متعلقہ شخص  ڈھونڈ کر اس سے کلاشنکوف لیکرواپس کرنالازم تھا اورنہ ملنے کی صورت میں مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس کا ضمان بھرنالازم تھا،تاہم جب انہوں نے اپنی زندگی میں ایسانہیں کیا تواب اس کے ورثہ پرلازم ہے کہ اولاًتو وہ متعلقہ شخص کو تلاش کرکے اس سے کلاشنکوف حاصل کرکے مالک کو دیں اوراگروہ ایسا نہ کرسکیں توپھر موسی ولی خان کے ترکہ سے اس کاضمان ادا کریں۔

        لیکن اگرموسی خان کے ورثہ مذکورہ امانت کے معاملے کا اعتراف نہیں کرتے اوراس سے انکارکرتےہیں توپھر پر سائل پراس امانت کو گواہوں کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی :
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھلِہَا۔ [النساء: ۵۸]
وقال اللہ فی مقام آخر:
فَلْیُؤَدِّ الَّذِیْ اؤْتُمِنَ أَمَانَتَہُ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہ (بقرة: ۲۸۳(
وفی تفسیر القرطبی:
وأجمعوا علی أن الأمانات مردودۃ إلی أربابھا الأبرار منھم والفجار (۵/ ۲۵۶)
وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَھدَ لَہ“(سنن بیہقی-۱۲۶۹۰(
وفی المرقاةشرح المشکاة :
حق الأمانۃ أن تؤدی إلی أھلہا، فالخیانۃ مخالفۃ لھا (مرقاۃ المفاتیح، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۱/ ۱۲۶)
وفی الفتاوی الھندیة:
الودیعۃ لا تودع، ولا تعار، ولا تؤاجر، ولا ترھن، وإن فعل شیئا منہا ضمن (هندیۃ، کتاب الودیعۃ، الباب الأول، زکریا قدیم ۴/ ۳۳۸، جدید ۴/ ۳۴۹، کذا فی خلاصۃ الفتاوی، کتاب العاریۃ، الفصل الأول، أشرفیہ دیوبند ۴/ ۲۹۱، البحرالرائق، کوئٹہ ۷/ ۲۷۵، زکریا ۷/ ۴۶۷)
المبسوط للسرخسي - (ج 18 / ص 222)
وأما للثاني فلإقراره بأنه كان أمينا من جهته وقد دفع الأمانة إلى غيره وبإقراره صار ضامنا له.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 22 / ص 340)
ومن جحد أمانة في يده ضمنها وصار كالمودع إذا قال ليس عندي ، ثم قال كان عندي ضمن فكذا هذا .
المبسوط للسرخسي - (ج 19 / ص 123)
فإن جحد الغريم الدين فقد بينا أن عند أبي حنيفة رحمه الله الوكيل بالتقاضي والقبض وكيل بالخصومة فيثبت الدين بالبينة وعندهما لا يكون وكيلا بالخصومة فيتوقف الأمر حتى يحضر الطالب.
 

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

12/1/1444ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔