021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی اور بہن کے درمیان وراثت کی تقسیم
77506میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے تایا کی کوئی اولاد نہیں ہے، صرف ایک بھائی اور ایک بہن ہے، ان کی جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟

o

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالنے، اس کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کرنے اور ایک تہائی(1/3) کی حد تک  اس کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تركہ باقی بچے  وہ دونوں بہن بھائی کے درمیان تقسیم ہو گا اور تقسیم کا طریقہٴ کار یہ ہو گا کہ بھائی کو بہن کی بنست دوگنا دیا جائے گا، یعنی کل ترکہ کے تین حصے کرکے دو حصے بھائی کو اور ایک حصہ بہن کو دے دیاجائے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119) دار الكتب العلمية، بيروت:
 (ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا۔
تحفة الفقهاء (3/ 161) دار الكتب العلمية، بيروت:
ومنها أن تكون الهبة مقسومة إذا كان يحتمل القسمة وتجوز إذا كان مشاعا لا يحتمل القسمة سواء كانت الهبة للشريك أو غيره۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" وقال الشافعي: تجوز في الوجهين؛ لأنه عقد تمليك فيصح في المشاع وغيره كالبيع بأنواعه، وهذا؛ لأن المشاع قابل لحكمه، وهو الملك فيكون محلا له، وكونه تبرعا لا يبطله الشيوع كالقرض والوصية. ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه ولأن في تجويزه إلزامه شيئا لم يلتزمه وهو مؤنة القسمة، ولهذا امتنع جوازه قبل القبض لئلا يلزمه التسليم، بخلاف ما لا يقسم؛ لأن القبض القاصر هو الممكن فيكتفى به؛ ولأنه لا تلزمه مؤنة القسمة. والمهايأة تلزمه فيما لم يتبرع به وهو المنفعة، والهبة لاقت العين ۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/محرم الحرام 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔