021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جہیز کے سامان کی قیمت گرنے سے شوہر پر ضمان لازم ہوگا یا نہیں؟
77539غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی میں اختلافات پیدا ہوئے، بیوی میکے چلی گئی، اور دو سال سے میکے میں ہی ہے۔ ان دو سالوں میں لڑکی والے دو تین دفعہ لڑکے والوں کے گھر گئے؛ تاکہ لڑکی کے جہیز کا سامان واپس گھر لے آئیں جو لڑکی کے والدین نے دیا تھا، لیکن لڑکے والوں نے جہیز کا سامان نہیں دیا۔ اب ان دو سالوں کے دوران لڑکے والے بغیر اجازت کے وہ سامان استعمال بھی کرتے رہیں، اور فرنیچر وغیرہ کھول کر اسٹور میں رکھ دیا۔

سوال یہ ہے کہ جہیز کے سامان کا جو نقصان ہوا ہے اور ان دو سالوں میں اس کی جو قیمت کم ہوئی ہے، اس کی ادائیگی لڑکے والوں پر لازم ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اگر لڑکے والے بر وقت جہیز کا سامان واپس کردیتے تو ہم اسے مارکیٹ میں اچھے داموں فروخت کرسکتے تھے، لیکن اب دو سال پڑے رہنے سے اس کی وہ قیمت باقی نہیں رہی۔  

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ فرنیچر کھولنے سے مراد یہ ہے کہ چونکہ ویسے فرنیچر جگہ گھیرتا ہے، اس لیے اس کے پارٹس الگ الگ کر کے اس کو سٹور میں رکھ دیا۔ جہیز اور سامان کے نقصان سے اس کی قیمت میں آنے والی کمی مراد ہے۔

o

اصولی طور پر جہیز کا سامان شادی کے بعد شوہر کے گھر میں ہی ہوتا ہے، اور چھوٹی موٹی ناراضی پیش آنے پر واپس نہیں کیا جاتا کہ اس سے معاملات مزید بگڑتے ہیں، نہ ہی لڑکی والوں کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر سامان کی واپسی کا مطالبہ کرنا مناسب ہے۔ لیکن اگر معاملات حل ہونے کی کوئی امید باقی نہ رہے، بلکہ بات میاں بیوی کے درمیان جدائی کی طرف بڑھ رہی ہو اور ایسی صورت میں لڑکی والے جہیز کے سامان کی واپسی کا مطالبہ کریں تو پھر لڑکے والوں کے لیے وہ سامان ان کے حوالے نہ کرنا اور ان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جب لڑکی دو سال سے میکے میں تھی اور اس دوران لڑکی والوں نے لڑکے والوں سے دو تین دفعہ جہیز کا سامان واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو ان کے لیے وہ سامان روکنا اور استعمال کرنا جائز نہیں تھا، ایسا کرنا تعدّی ہے جو غصب کے حکم میں داخل ہے، اس کی وجہ سے لڑکے والے گناہ گار ہوئے ہیں۔ تاہم اگر سامان میں کوئی چیز گم یا خراب نہیں ہوئی تو لڑکی والے صرف وقت گزرنے کی وجہ سے قیمت میں آنے والی کمی کا نقصان کا مطالبہ لڑکے والوں سے نہیں کرسکتے۔ البتہ اگر استعمال کرنے کی وجہ سے فرنیچر وغیرہ کا رنگ اتر گیا ہو یا ان پر ایسے نشانات پڑگئے ہوں جن کی وجہ سے ان کی قیمت میں کمی آئی ہو تو یہ نقصان وصول کرسکتے ہیں۔    

حوالہ جات

رد المحتار (6/ 200):
وفي القنية: أخذ أحد الشريكين حمار صاحبه الخاص وطحن به فمات لم يضمن للإذن دلالة. قال: عرف بجوابه هذا أنه لا يضمن فيما يوجد الإذن دلالة وإن لم يوجد صريحا، كما لو فعل بحمار ولده، أو بالعكس، أو أحد الزوجين، أو أرسل جارية زوجته فأبقت اه.
المجلة (ص: 146):
مادة 772 : الإذن دلالة كالإذن صراحة، وأما إذا وجد النهي صراحة فلا عبرة بالإذن دلالة، مثلا إذا دخل شخص دار آخر بإذنه فوجد إناء معدا للشرب فهو مأذون دلالة بالشرب به، فإذا أخذ ذلك الإناء ليشرب به فوقع من يده وهو يشرب فلا ضمان عليه، وأما إذا نهاه صاحب الدار عن الشرب به ثم أخذه ليشرب به فوقع من يده وانكسر ضمن قيمته.
المجلة (ص: 173):
 مادة 900: إذا تناقص سعر المغصوب وقيمته بعد الغصب فليس لصاحبه أن لا يقبله ويطالب بقيمته التي في زمان الغصب، ولكن إذا طرأ على قيمة المغصوب نقصان بسبب استعمال الغاصب فيلزم الضمان، مثلا إذا ضعف الحيوان الذي غصب ورده الغاصب إلى صاحبه فيلزم ضمان نقصان قيمته، كذلك إذا شق الثوب الذي غصب وطرأ بذلك على قيمته نقصان، فإن كان النقصان يسيرا يعني لم يكن بالغا ربع قيمة المغصوب فعلى الغاصب ضمان نقصان قيمته، وإن كان فاحشا أعني إن كان النقصان مساويا لربع قيمته أو أزيد فالمغصوب منه بالخيار إن شاء ضمنه نقصان القيمة وإن شاء تركه للغاصب وأخذ منه تمام قيمته.  
مادة 901: الحال الذي هو مساو للغصب في إزالة التصرف حكمه حكم الغصب، كما أن المستودع إذا أنكر الوديعة يكون في حكم الغاصب، وبعد الإنكار إذا تلفت الوديعة في يده بلا تعد يكون ضامنا.  
شرح المجلة للعلامة الأتاسي(3/433-429):
شرح المادة 900: شروع في بیان أحکام نقص المغصوب في ید الغاصب، بعد الفراغ من بیان أحکام الزیادة علیه وأحکام هلاکه حقیقة أوحکما بانقطاع حق المالك عنه. وقد تضمنت هذه المادة أربع مسائل:
الأولی: إذا تراجع سعر المغصوب فنقص عن سعره یوم الغصب، فإن المالك لیس له إلا أخذ عین المغصوب بلا رجوع علی الغاصب بشیئ. وهذا لأن تراجع السعر بفتور الرغبات لا بفوات جزء من العین………..الخ
الثانیة: إذا نقص المغصوب بفوات وصف مرٖغوب فیه، کما إذا ضعف الحیوان المغصوب أو زال سمعه أو بصره أو حصل له عور أو شلل أو بفوات المعنی المرغوب في العین، کالعبد إذا کان شابا فصار شیخا أو شابة فصارت عجوزا أو نسي الحرفة التي کان یعلمها أوالقرآن أو صار آبقا أوسارقا بعد أن لم یکن کذلك أوجن، فالمالك في جمیع هذه الصور لیس له إلا أخذ عین المغصوب والرجوع بالنقصان، سواء حصل النقص بفعل الغاصب أوبفعل أجنبي أو بلا فعل أحد، کما صرح به مسکین علی الکنز؛ لأنه مضمون علی الغاصب بمجرد الغصب، فلم یتفاوت هلاکه بفعله أو بغیر فعله؛ ولذا وجب علیه قیمته یوم الغصب……… الخ
المسئلة الثالثة: إذا نقص المغصوب بفوات جزء منه وکان النقص یسیرا، کما إذا خرق الثوب خرقا یسیرا، فالحکم فیه کالحکم في سابقه، وهو أن المالك لیس له إلا أخذ العین وتضمین النقصان، ولیس له خیار الترك علی الغاصب؛ وذلك لأن النقص لما کان یسیرا، کانت العین قائمةً من کل وجه……… الخ
المسئلة الرابعة: إذا نقص الثوب بفوات جزء منه وکان النقص فاحشا، کما إذا خرق الثوب خرقا فاحشا، فصاحبه بالخیار: إن شاء ضمن الغاصب کل القیمة ویکون المغصوب للغاصب؛ لأنه حیث کان النقص فاحشا، مستهلك من وجه؛ لأنه لایصلح لجمیع ما کان صالحا له قبله، وإن شاء أخذا المغصوب وضمن النقصان للغاصب؛ لأنه تعیب من وجه وهو قائم في الحقیقة (هندیة).

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  16/محرم الحرام/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔