| 77571 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
مؤدبانہ گزارش ہے کہ عرض دار کے والد جناب سید محمد عتیق کا مورخہ 17-12-2007کو انتقال ہوا، ان کے انتقال کے وقت مندرجہ ذیل ورثاء تھے:
(1) کشورسلطانہ(پہلی بیوہ) ان سے پیدا ہونے والی اولاد:(2) حنا(بیٹی) (3) سید محمدجاوید(بیٹا) (4) سید محمد فہیم(بیٹا) (5) سید محمد نعمان(بیٹا) (6) سید محمد فرحان (بیٹا) (7) سید محمد عدنان(بیٹا)
(8) فرزانہ(دوسری بیوہ) اولا: (9) سید محمد فیضان( بیٹا)
مرحوم سید محمد عتیق کے والدین ان کی زندگی ہی میں انتقال کرچکے تھے، لہذا ہمارے مرحوم والد کے اہل وعیال میں دو بیوائیں، ایک بیٹی اور چھ بیٹے ہیں، دوسری بیوہ مسماۃ فرزانہ کا اپنے سابق شوہر سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، جن کے نام(ثناء، انم اور محمد فیصل ولدیت مرحوم محمد شفیق) ہیں۔ جبکہ ہمارے مرحوم والد سید محمد عتیق کے ترکہ میں مکان نمبرC-24/1579،اراضی 870-0 مربع فٹ ہے جس میں ایک بھائی سید محمد فرحان نے سال 2019 میں بارہ لاکھ روپے بالائی منزل کی تعمیرات میں اپنے جیب سے خرچ کئے ۔
اب مذکورہ مکان فروخت کرکے رقم ورثاء میں تقسیم کرنا درکار ہے برائے مہربانی قرآن وسنت( فقہ اہلسنت والجماعت حنفی) کے مطابق ان کے شرعی حقدار اور ان کے حصے بتادیئے جائیں، بہت بہت عین نوازش ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں آپ کے والد مرحوم نے ترکہ میں جو مکان چھوڑا ہے، اس کو سب سے پہلے 208 حصوں میں تقسیم کیا جائے، جس میں سے 26 حصے(13+13) ان کی دونوں بیواؤں کو،28 حصے ان کے ہر بیٹے کو، اور بیٹی کو 14 حصے دیئے جائیں۔
فیصدی اعتبار سے تقسیم یوں ہوگی کہ مکان میں سے دونوں بیواؤں کو12.5%فیصد(6.25%+6.25%)، ہر بیٹے کو 13.4615%فیصد،اور بیٹی کو 6.7307%فیصد دیا جائے۔
لہذا اب جو مکان آپ تمام ورثہ آپس کی رضامندی سے بیچنے جارہے ہیں، اسے فروخت کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہو اسے مندرجہ بالا فیصدی شرح کے اعتبار سے تمام ورثہ کے درمیان تقسیم کریں۔
واضح رہے دوسری بیوہ کی ان اولاد کو- جو ان کے پہلے والے شوہر سے پیدا ہوئے ہیں-مرحوم سید محمد عتیق کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
باقی آپ کے بھائی محمدفرحان نے بارہ لاکھ روپے خرچ کرکے بالائی منزل میں جو تعمیراتی کام کروایا ہے،چونکہ سوالنامے میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ آیا محمد فرحان نے وہ تعمیراتی کام دیگر ورثاء کی اجازت سے کروایا ہے یا ان کی اجازت کے بغیر کروایا ہے، نیز اس نے یہ تعمیراتی کام صرف اپنےلئے کروایا ہے یا دیگر ورثاء کیلئے بھی کروایا ہے؟ اس لئے آپ کے سوال کا جواب ان باتوں کی وضاحت پر موقوف ہے، جو بھی صورت ہو دوبارہ لکھ ارسال فرمادیں تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جائے۔
حوالہ جات
....
محمدنصیر
دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی
٢٢،محرم الحرام،١٤٤٤ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نصیر ولد عبد الرؤوف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


