021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صیغہ مستقبل سے طلاق کا حکم
77371طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درجہ ذیل معاملے کے بارےمیں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان گاڑی میں کچھ معمولی باتوں پر بحث ہوگئی اور پھر بات چلتے چلتے ہمیشہ کی طرح بیوی نافرمانی اور بدتمیزی پر اتر آئی جس وجہ سے شوہر کافی جذبات اور غصّےمیں آگئے اور بیوی کو کہا کے تم میرے ساتھ کسی عالم دین یا مفتی کے پاس چلو پھر وہ بتائیں گے واضح کہ کون صحیح یا غلط (انصاف کی نیت سے) (جبکہ کچھ عرصہ پہلے ان معاملوں اور جھگڑوں کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کے درمیان یہ طے بھی ہو چکا تھی کہ وہ اپنے معاملے کسی عالم دین کے پاس رہنمائی کے حوالے سے لے جائیں گے تاکہ صحیح يا غلط ثابت ہوجائے اور اختلافات سب ختم ہوجائیں) ۔ بہر حال پھر جواب میں بیوی نے کہا ”میں نہیں چلوں گی“. جس پر شوہر مزید غصے اور جذبات میں آگئے اور کہا ”میں اگر جائزنا جائز جہاں بھی چلوں تم میرے ساتھ چلوگی اور میرے پیچھے چلنے کی پابند ہو یہ فرض ہے تمہارا“ جس پر بیوی نے بدتمیزی کی اور پھر جواب دیا کہ ”میں پابند نہیں ! اور نہ میرا فرض ! میں نہیں چلونگی“ (انتہائی بدتمیزی کے لہجے میں). جس پر شوہر بھڑک اُٹھے اور شدید ترین غصّے اور انتہائی جنون سے تیز لہجے میں بولا ”میں اگر کچھ دنوں میں عالم دین یا مفتی کے پاس جاؤں اور اگر تم میرے ساتھ نہ چلتی ہو تو میں اسی وقت بول دونگا کے  طلاق دے دوں گا۔ میں یہ بول دونگا کہ طلاق دیتا ہوں“ (تصدیقی طور پر پہلی ہی بات کو بولا گیا) (ا ُس حالت میں دھمکی دے دى) (اس صورتحال میں شوہر کا ایسے الفاظ کے ساتھ کسی بھی حالت میں کوئی نیت ، ارادہ یا سوچ نہ تھی).اور پھر ا ُسى وقت معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا.پھر اسی شام میاں بیوی راستے میں تھے اور بیوی نے شوہر سے پوچھا کہ”آپ نے مجھے صبح کیا لفظ بولے تھے“ جس پر شوہر نے کہا کونسے الفاظ !؟ اور پھر بات یاد آنے پر بولا کہ”ہاں! شاید یہ بولا تھا کہ طلاق دے دوں گا“(بےخیالی میں صرف سوال کا جواب دیا)اور پھر اس ہی دن کے بعد میاں بیوی کے درمیان سب نارمل ہو گیا (اس معاملے کو زیادہ نہ لیا گیا) 10 سے 15 دن گزر گئے اور اس درمیان طلاق کے معاملے سے کچھ علم ملا اور تحقیق کی ذاتی طور پر جس کے بعد دماغ میں کچھ الجھاؤ ہو گیا اور پھر اس حوالے سے ارادہ بھی کیا ہم نے کسی رہنمائی کا مگر بالکل بھی وقت نہ مل سکا،کیونکہ ابھی مصروفیات عام طور سے کہیں زیادہ چل رہی ہیں (اس درمیان شوہر نے اپنی بیوی کو عالم دین کے پاس چلنے یا اس معاملے کو لے کر کوئی بهى بات نہیں کی)اس معاملے میں آیا مشروط طلاق لاگو ہوگی یا نہیں؟ اور جنون میں ایسی شرط کی بھی کیا نوعیت ہے؟ اس معاملے میں عالم دین کیا رہنمائی فرماتے ہیں؟

{ شوہر پورے وثوق کے ساتھ حلفیہ کہتے ہیں کہ اُسے طلاق کے حوالے سے درست اور پورا علم نہیں تھا کہ آیا طلاق ایک ہی وقت میں ایک بار بولنے سے بھی ہو جاتی ہے اور جو علم تھا وہ یہ تھا کہ ایک ہی وقت میں تین بار طلاق بولنے سے صرف ایک ہی طلاق ہوتی ہے اور پھر رجوع کرنے کا وقت ، طریقہ وغیرہ اور دوسرے کسی بھی طلاق کے معاملات میں پہلے کوئی درست علم نہ تھا۔ جو کہ اب معلومات کے بعد سب واضح ہو چکا ہے اور نیت اور ارادے کے لحاظ سے بھی کبھی طلاق دینے یا ايسے کسی عمل کی سوچ یا نیت نہیں رکھی ہے اور نا ہی اس معاملے میں طلاق کے حوالے سے کوئی نیت یا ارادہ تھا}

o

سؤال میں جو الفاظ لکھے گئے ہیں ان سے طلاق نہیں ہوتی،لہذا اگر شوہر نے واقعۃ  صرف یہی الفاظ استعمال کئے تھے تو کوئی طلاق نہیں ہوئی البتہ اس بارے میں آئندہ سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۲۶ ذی الحجہ۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔