021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قبر کوپختہ کیے بغیر حفاظت کاطریقہ
77619جنازے کےمسائلجنازے کے متفرق مسائل

سوال

بخدمت جناب مفتیان کرام حفظکم اللہ تبارک وتعالی!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

قبروں کی پختگی کے حوالے سے درج ذیل امور میں آپ حضرات سے تحقیقی فتوی کی درخواست ہے ،چونکہ ان امور میں ہمارے ہاں عام ابتلاء ہے اور علماء کرام کی آراء مختلف ہونے کی وجہ سے بسااوقات عوام تشویش کا شکارہوجاتے ہیں،اس لیے آپ حضرات سے قرآن سنت کی روشنی میں راہنمائی کی درخواست ہے۔

قبروں کی پختگی ،عدم پختگی اور انہیں ہمیشہ باقی وسالم رکھنے کے حوالے سے شریعت اسلامیہ کا عمومی مزاج اور حدودکیا ہیں کہ قبریں مٹنے سے بھی محفوظ رہیں اور قبروں کو پختہ کرنے کی وعید میں بھی شامل نہ ہوں۔

1۔قبر کو مکمل طور پر سیمنٹ،پختہ اینٹوں ،سنگ مرمر وغیرہ کے ذریعے پختہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

2۔جتنے حصے میں میت دفن ہے  اس کو پختہ کئے بغیر ارد گرد سیمنٹ وغیرہ لگا کر زمین سے ایک آدھا فٹ بلند کرکے پختہ کرنے کا کیاحکم ہے؟

3۔ پتھروں کو خاص انداز میں تاش کر یا تراشے بغیر ان کو قبر کے ارد گرد زمین میں نصب کرنے کا کیا حکم ہے جبکہ اصل قبر جس حصے میں میت دفن ہے کو کچا ہی چھوڑا جائے؟ اس سے قبرکی مٹی بارشوں میں بہنے سے محفوظ بھی رہتی ہے۔

بخدمت جناب مفتیان کرام حفظکم اللہ تبارک وتعالی!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

قبروں کی پختگی کے حوالے سے درج ذیل امور میں آپ حضرات سے تحقیقی فتوی کی درخواست ہے ،چونکہ ان امور میں ہمارے ہاں عام ابتلاء ہے اور علماء کرام کی آراء مختلف ہونے کی وجہ سے بسااوقات عوام تشویش کا شکارہوجاتے ہیں،اس لیے آپ حضرات سے قرآن سنت کی روشنی میں راہنمائی کی درخواست ہے۔

قبروں کی پختگی ،عدم پختگی اور انہیں ہمیشہ باقی وسالم رکھنے کے حوالے سے شریعت اسلامیہ کا عمومی مزاج اور حدود کیا ہیں کہ قبریں مٹنے سے بھی محفوظ رہیں اور قبروں کو پختہ کرنے کی وعید میں بھی شامل نہ ہوں۔

1۔قبر کو مکمل طور پر سیمنٹ،پختہ اینٹوں ،سنگ مرمر وغیرہ کے ذریعے پختہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

2۔جتنے حصے میں میت دفن ہے  اس کو پختہ کئے بغیر ارد گرد سیمنٹ وغیرہ لگا کر زمین سے ایک آدھا فٹ بلند کرکے پختہ کرنے کا کیاحکم ہے؟

3۔ پتھروں کو خاص انداز میں تاش کر یا تراشے بغیر ان کو قبر کے ارد گرد زمین میں نصب کرنے کا کیا حکم ہے جبکہ اصل قبر جس حصے میں میت دفن ہے کو کچا ہی چھوڑا جائے؟ اس سے قبرکی مٹی بارشوں میں بہنے سے محفوظ بھی رہتی ہے۔

o

  پختہ قبر بناناجائز نہیں ہے۔احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے،ان پر لکھنے اور روندنے سے منع فرمایا۔

البتہ اصل قبر  (یعنی جتنے حصے میں میت دفن ہے) کچی مٹی کی ہو، اور اردگرد پتھر، یا بلاک وغیرہ سے منڈیر نما بنا دیا جائے یاایک ایک اینٹ رکھ کر ایک بالشت کے بقدر اونچا احاطہ بنا دیا جائے کہ قبر کا نشان مٹنے نہ پائے،تو اس  کی گنجائش ہے، اس کےلیے بھی  بہتر یہ ہے کہ سادہ پتھر استعمال کیا جائے ، آگ پر پکی ہوئی اینٹیں  نہ لگائی جائیں۔

حوالہ جات

 وفی الصحیح لمسلم ( 1/312):
"عن جابر رضي اللّٰه عنه نهی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم أن یجصص القبر وأن یعقد علیه وأن یبنی علیه‘‘.
وفی زاد المعاد (1/505):
ولم یکن من هدیه صلی اللّٰه علیه وسلم تعلیة القبور ولا بناء ها بآجر، ولا بحجر ولبن، ولا تشییدها، ولا تطیینها، ولا بناء القباب علیها، فکل هذا بدعة مکروهة مخالفة لهدیه صلی اللّٰه علیه وسلم، وقد بعث علي بن أبي طالب إلی الیمن ألا یدع تمثلاً إلا طمسه، ولا قبر مشرفاً إلا سَوَّاه فسنته صلی اللّٰه علیه وسلم تسویة هذه القبور المشرفة کلها، ونهى أن یجصص القبر، وأن یبنی علیه، وأن یکتب علیه، وکانت قبور أصحابه لا مشرفة ولا لاطئة، وهکذا کان قبره الکریم وقبر صاحبیه، فقبره صلی اللّٰه علیه وسلم مُسَنَّمٌ مبطوح ببطحاء العرصة الحمراء لا مبنيَّ ولا مطینَ، وهکذا کان قبر صاحبیه‘‘.
وفی البدائع(1/320):
ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺠﺼﻴﺺ اﻟﻘﺒﺮ ﻭﺗﻄﻴﻴﻨﻪ، ﻭﻛﺮﻩ ﺃﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﺔ اﻟﺒﻨﺎء ﻋﻠﻰ اﻟﻘﺒﺮ ، ﻭﺃﻥ ﻳﻌﻠﻢ ﺑﻌﻼﻣﺔ، ﻭﻛﺮﻩ ﺃﺑﻮ ﻳﻮﺳﻒ اﻟﻜﺘﺎﺑﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﺫﻛﺮﻩ اﻟﻜﺮﺧﻲ؛ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: «ﻻ ﺗﺠﺼﺼﻮا اﻟﻘﺒﻮﺭ، ﻭﻻ ﺗﺒﻨﻮا ﻋﻠﻴﻬﺎ، ﻭﻻ ﺗﻘﻌﺪﻭا، ﻭﻻ ﺗﻜﺘﺒﻮا ﻋﻠﻴﻬﺎ» ؛ ﻭﻷﻥ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﺑﺎﺏ اﻟﺰﻳﻨﺔ ﻭﻻ ﺣﺎﺟﺔ ﺑﺎﻟﻤﻴﺖ ﺇﻟﻴﻬﺎ؛ ﻭﻷﻧﻪ ﺗﻀﻴﻴﻊ اﻟﻤﺎﻝ ﺑﻼ ﻓﺎﺋﺪﺓ، ﻓﻜﺎﻥ ﻣﻜﺮﻭﻫﺎ.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

25/محرم1443ھ

n

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔