021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق ایک ساتھ دینے کا حکم
77610طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

ذاکر نے اپنے والدین کی موجودگی میں اپنی بیوی کو تین دفعہ پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے۔ آئے دن یہ دونوں میاں بیوی آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اب یہ پوچھنا ہے کہ ان کی علیحدگی ہوگئی ہے یا نہیں؟ لڑکی کہتی ہے مجھے علم نہیں ہے، میں نے آواز نہیں سنی ہے۔ لیکن لڑکا کہتا ہے میں نے دل سے نہیں کہا ہے، اور کئی بار اس طرح کی حرکت ہوئی ہے۔

o

تین طلاق ایک ساتھ دینا جائز نہیں، لیکن اگر کوئی ایسا کرے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ صورتِ مسئولہ میں جب ذاکر نے اپنی بیوی کو "تمہیں طلاق ہے" کے الفاظ تین دفعہ کہے تو اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا، لیکن اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں، اور ان دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی۔ اب نہ  رجوع ہوسکتا ہے، نہ تحلیل کے بغیر ان دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ اگر ذاکر اس سے پہلے تین طلاقیں دے چکا ہو (جیسا کہ سوال میں لکھا ہے کہ کئی بار اس طرح کی حرکت ہوئی ہے) تو پھر حرمتِ مغلظہ اسی وقت سے ثابت سمجھی جائے گی۔  

واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے لڑکی کا سننا ضروری نہیں، اسی طرح لڑکے کی اس بات کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ میں نے یہ الفاظ دل سے نہیں کہے؛ کیونکہ طلاق سنجیدگی سے دی جائے، مذاق میں دی جائے، یا ڈرانے کے لیے دی جائے، ہر صورت میں واقع ہوجاتی ہے۔

اب اگریہ دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صرف ایک صورت ممکن ہے،اور وہ یہ کہ عدت  یعنی طلاق کے بعد تین ماہواریاں گزرنےکےبعد اس خاتون کا  کسی دوسرے شخص  سے گواہوں کی موجودگی میں مقررہ مہر کے بدلے نکاح ہوجائے، دوسرا شوہر ہمبستری کے بعد اپنی مرضی سےاسے طلاق دے یا ہمبستری کے بعد اس کا انتقال ہوجائے، اور اس کی عدت گزرجائے توپھر یہ دونوں باہم رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئےمہر پر دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔  اس کے علاوہ کوئی صورت ممکن نہیں۔  

حوالہ جات

القرآن الکریم:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]
صحيح البخاري (7/ 42):
حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة أخبرته أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إن رفاعة طلقني فبت طلاقي وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسل:م لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة، لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته.
حدثني محمد بن بشار حدثنا يحيى عن عبيد الله قال حدثني القاسم بن محمد عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. 
الدر المختار (3/ 232):
( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين ) في طهر واحد ( لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه ، أو ) واحدة في ( حيض موطوءة ).. الخ
رد المحتار (3/ 232,233):
( قوله والبدعي ) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه، بحر ( قوله ثلاثة متفرقة ) وكذا بكلمة واحدة بالأولى ، وعن الإمامية : لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة ….وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث…….( قوله في طهر واحد ) قيد للثلاث والثنتين ….الخ

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

    26/محرم الحرام/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔