021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد کی تقسیم اور ایک بیٹے کا زیادہ مال مانگنا
77614ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

حاجی اسماعیل نے بتایا کہ میرا ایک بیٹا ذاکر ہے۔ میں نے 06 سال جاپان اور 20 سال بحری جہازوں میں نوکری کی ہے۔ اس کے بعد 20 سال KPT میں سروس کی ہے۔ ساری جائیداد بڑی محنت سے بنائی ہے۔ میرا بیٹا ذاکر کچھ عرصہ جاپان میں نوکری کر کے پاکستان آگیا تھا، انہوں نے ٹوٹل 3,000,000 لاکھ رقم کمائی ہے۔ ذاکر سے میں نے کہا ہے آپ اس رقم کا ڈبل لو۔ میں نے ایک بنگلہ سب بچوں کے لیے ایک ساتھ بنایا ہے، ذاکر کہتا ہے یہ بنگلہ مجھے اکیلا دو۔ اب اس وقت بنگلہ کی قیمت 6 کروڑ ہے۔ ذاکر کو میں نے دو دکان بھی دئیے ہیں جن کی قیمت 2 کروڑ ہے، ان کا کرایہ بھی اکیلے کھا رہا ہے۔ اب اس بنگلہ پر دوسرے بچوں کا بھی حق ہے۔ اس وقت اتنی مہنگائی ہے، ان دوسرے بچوں کے لیے مکان کیسے بنالوں؟ میں نے اپنے بچوں کو مشورہ دیا ہے کہ اس بنگلہ کو چار حصے کروں گا، ہر بھائی کو الگ الگ حصہ ملے گا۔ میری دو بیٹیاں بھی ہیں۔ میرے پاس حب چوکی میں 400 گز زمین الگ ہے، اور 300 گز زمین الگ، جس میں پانچ دکانیں ہیں، وہ دوسرے بھائیوں کے نام پر ہیں۔ ایک دکان صدر میں ہے۔ میں نے ایک غلطی کی ہے کہ جائیداد بچوں کے نام پر کی ہے۔ آب آپ شرعی اعتبار سے فیصلہ کریں۔

o

آپ کے سوال میں مختلف باتیں ہیں، ذیل میں ان سب کا الگ الگ جواب دیا جارہا ہے۔  

(1)۔۔۔ آپ کے بیٹے ذاکر کا مذکورہ پورا بنگلہ مانگنا درست نہیں۔ ذاکر شرعا ً صرف اتنی ہی رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے جنتی رقم اس نے کمائی ہے۔ اس سے زیادہ کے مطالبہ کا حق اس کو نہیں۔  

(2)۔۔۔ کوئی چیز صرف کسی کے نام کرنے سے شرعا ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ نے اپنی جو جائیداد صرف کسی بیٹے کے نام پر کی ہے، اسے قبضہ نہیں دیا تو وہ اس کے نام کرنے کے باوجود آپ کی ملکیت ہے۔ البتہ جو جائیداد آپ نے اپنے بیٹوں کو قبضہ کے ساتھ دی ہے، اس کے وہ مالک بن گئے ہیں۔  

(3)۔۔۔ والد اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو یہ شرعًا ہبہ ہوتا ہے،

میراث نہیں۔ اس میں اصل اور بہتر تو یہ ہے کہ تمام اولاد یعنی لڑکوں اور لڑکیوں سب کو برابر برابر  حصہ دے، لیکن اگر میراث کے مطابق یعنی لڑکے کو لڑکی کا دگنا حصہ دے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ کسی ایک یا چند بچوں، بالخصوص بیٹیوں کو بالکل محروم کرنا یا بہت معمولی حصہ دینا جائز نہیں، ایسا کرنے سے وہ سخت گناہ گار ہوں گے۔ اگر والد بغیرکسی معقول وجہ کےکسی بیٹے یا بیٹی کو زیادہ حصہ دے اور باقاعدہ قبضہ بھی دیدے تو ہبہ مکمل ہوجائے گا، اور وہ بیٹا یا بیٹی اس حصے کا مالک بن جائےگا، لیکن والد گناہ گار ہوگا۔ البتہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی خدمت، دینداری یا غربت کی وجہ سے کچھ زیادہ حصہ دیدیں تو اس کی گنجائش ہے۔

سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ذاکر سمیت اپنے دوسرے بیٹوں کو جائیداد میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دیا ہے، لیکن بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا۔ اگر ایسا ہی ہے تو  اب آپ اپنی بقیہ جائیداد ( مذکورہ بنگلہ، دکان، نقدی وغیرہ جو کچھ آپ کے پاس ہے) میں سب سے پہلے اپنی دونوں بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر یا کم از کم ان کا آدھا آدھا حصہ دیدیں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اور آپ وہ بھی بچوں میں تقسیم کرنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنی بقیہ زندگی کے لیے اس میں سے مناسب مال رکھ لیں؛ تاکہ بعد میں آپ کسی کے محتاج نہ ہو۔ اس کے بعد بقیہ جائیداد میں سب بیٹوں اور بیٹیوں کو اتنا اتنا حصہ دیں کہ سب کو مجموعی طور پر ملنے والے حصے برابر ہوجائیں۔ البتہ  اگر ہر بیٹی کا مجموعی حصہ بیٹے کے مجموعی حصے کے مقابلے میں آدھا رکھنا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اسی طرح اگر کسی ایک یا چند بیٹوں کو کسی معقول وجہ سے کچھ زیادہ دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن اگر آپ بیٹیوں کو کچھ نہیں دیں گے، یا بیٹوں کے آدھے سے بھی کم حصہ دیں گے تو سخت گناہ گار ہوں گے۔  

حوالہ جات

.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

    26/محرم الحرام/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔