021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ طلاق کی قسم اٹھانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی
77728طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

نکاح کے بعد میں نے کسی بات پر اپنی بیوی سے کہا جو میں پوچھنا چاہتا ہوں وہ بات بتاؤ، اس نے بات بتائی اور کہا یہی سچ ہے، میں نے کہا اس لفظ کی قسم کھاؤ جس سے جدائی ہوتی ہو، اس نے پوچھا طلاق پر؟ میں نے کہا ہاں! اس نے اس لفظ (طلاق) پر قسم اٹھائی کہ سچ کہا ہے، پھر مجھے لگا کہ جھوٹ رہی ہے تو میں نے بار بار اقرار کروایا اور قسم بلوایا کہ آپ نے سچ کہا ہے؟ وہ کہتی میں نے سچ کہا ہے۔ پھر دومہینے کے بعد میں نے کسی بات کے سلسلے میں کہا کہ تین طلاق پر قسم اٹھاؤ، اس نے پھر تین پر قسم اٹھائی اس کے تین ماہ بعد جب ہماری شادی(رخصتی) ہوئی تو اس نے بتایا کہ میں ساری قسمیں جھوٹی کھائی تھیں، سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

وضاحت: سائل اور اس کی اہلیہ نے فون پر بتایا کہ کسی  بھی قسم میں لفظِ طلاق نہیں بولا گیا، بلکہ  شوہر کے جواب میں خاتون نے یہی کہا تھا کہ ہاں اسی لفظ کی قسم اٹھاتی ہوں،جبکہ دل میں طلاق کی نیت نہیں تھی، جب شوہر نے تین پر قسم اتھانے کا کہا تو اس وقت بھی لفظِ طلاق نہیں بولا، بلکہ جب شوہر نے کہا کہ تین پر قسم اٹھاتی ہو؟ تو میں نے کہا کہ ہاں اسی پر اٹھاتی ہوں۔

       شوہر نے بھی بتایا کہ جب میں نے کہا کیا اسی لفظ پر قسم اٹھا رہی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو وہ کہتی ہاں اسی لفظ کی قسم اٹھا رہی ہوں۔

o

صورتَ مسئولہ میں آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ طلاق مرد کی طرف سے واقع ہوتی ہے، عورت کو شرعاً اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار نہیں ہے، لہذا اگر عورت کہہ دے کہ میں طلاق کی قسم اٹھاتی ہوں تو یہ لغو کلام ہے، شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

 یہ بھی یاد رہے کہ قسم صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی اٹھانا جائز ہے، کسی اور لفظ جیسے طلاق وغیرہ کے الفاظ کی قسم اٹھانا جائز نہیں، البتہ اگر طلاق کو معلق کرنا مقصود ہو تو شوہر یوں کہہ سکتا ہے کہ اگر آپ نے فلاں کام کیا تو آپ کو طلاق ہو گی۔ ایسی صورت میں طلاق اس فعل کے ساتھ معلق ہو جائے گی اور عورت کے وہ کام کرنے پر طلاق واقع ہو جائے گی۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 196) دار الفكر،بیروت:                                                                                                 
(ولا يستحلف بالطلاق ولا بالعتاق لما روينا) وهو قوله - عليه الصلاة والسلام - «من كان حالفا فليحلف بالله أو ليذر» (وقيل في زماننا إذا ألح الخصم ساغ للقاضي أن يحلف بذلك) أي بالطلاق أو بالعتاق (لقلة المبالاة باليمين بالله وكثرة الامتناع بسبب الحلف بالطلاق) أقول: يرد عليه أن هذا تعليل في مقابلة النص وهو قوله - عليه الصلاة والسلام - «من كان حالفا فليحلف بالله أو ليذر» فلا يصح على ما عرف في موضعه. وفي فتاوى قاضي خان: وإن أراد المدعي تحليفه بالطلاق والعتاق في ظاهر الرواية لا يجيبه القاضي إلى ذلك لأن التحليف بالطلاق والعتاق ونحو ذلك حرام. وبعضهم جوزوا ذلك في زماننا، والصحيح ظاهر الرواية انتهى. وفي الذخيرة: التحليف بالطلاق والعتاق والأيمان المغلظة لم يجوزه أكثر مشايخنا وأجازه البعض، فيفتى بأنه يجوز إن مسته الضرورة، وإذا بالغ المستفتي في الفتوى يفتي بأن الرأي إلى القاضي انتهى.
تحفة الفقهاء (2/ 292) دار الكتب العلمية، بيروت:
وكذلك على هذا في اليمين بالطلاق والعتاق بأن قال إن لم أشرب هذا الماء اليوم فامرأته طالق أو عبده حر ثم أهريق الماء قبل مضي اليوم لا يحنث عندهما حتى لا يقع الطلاق والعتاق عند مضي اليوم وعنده يحنث عند مضي اليوم.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (5/ 59) دار الفكر،بیروت:
يكره الحلف بالطلاق والعتاق لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من كان حالفا فليحلف بالله» الحديث. والأكثر على أنه لا يكره؛ لأنه لمنع نفسه أو غيره، ومحمل الحديث غير التعليق مما هو بحرف القسم.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/صفرالمظفر 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔