021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبردستی طلاق نامہ پر دستخط کروانے کا حکم
77752طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

 مجھے میرے والد نے مجبور کیا کہ میں اپنے بیوی، بچوں اور والدین میں سے کسی ایک کو اختیار کروں۔ انہوں نے مجھ پر یہ دباو ڈالا کہ میں زبردستی پیپرز پر دستخط کروں، ورنہ وہ مجھ سے رشتہ ختم کردیں گے اور جائیداد اور ہر چیز سے بے دخل کردیں گے، اور نہ ہی مجھے گھر آنے دیں گے۔ اُس وقت میرے اور میرے بچوں کے کفیل میرے والد تھے۔ میں سعودیہ میں تھا، اُس وقت میری نوکری اچھی نہیں تھی اور میرے اور میرے بچوں کا سارا خرچ میرے والد اٹھاتے تھے۔

میری والدہ نے مجھ سے کہا تھا کہ تم طلاق نامہ پر دستخط کردو، تمہارے والد پیپر دیکھ کر پھاڑ دیں گے۔ میں نے اُن پیپرز کو پڑھے بغیر دستخط کردیا۔ میں نے اپنی بیوی سے رابطہ کرکے کہا کہ نہ تو میں نے اِن پیپرز کو پڑھا تھا اور نہ ہی میں زبان سے تمہیں یہ بول سکتا ہوں۔ اِس کے بعد میری بیوی کو عدالت نے طلاق دے دی۔ اب میں خود کفیل ہوگیا ہوں اور اپنے بچوں کا خرچہ خود اٹھاتا ہوں اور والدین کا بھی خیال رکھتا ہوں۔ اِس وقت میں، میری بیوی اور میرے بچے بہت مشکل میں ہیں۔ میری نہ ہی نیت تھی اور نہ ہی ارادہ تھا اور نہ ہی میں اِس بات کا کبھی اقرار کیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ جواب عنایت فرمائیں۔

تنقیح سوال: طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں۔

o

جس وقت طلاق نامہ پر شوہر سے دستخط لیے گئے تھے، اُن دنوں شوہر اور اُس کے بچوں کا خرچہ شوہر کے والد اٹھا رہے تھے۔ اور اُن ہی دنوں انہوں نے اپنے بیٹے سے طلاق کا مطالبہ کرتے ہوئے اُسے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر تم نے دستخط نہیں کیے تو ہم تم سے رشتہ ختم کردیں گے اور جائیداد وغیرہ سے بھی تمہیں بے دخل کردیں گے (جیسا کہ سوال میں ذکرکردہ تفصیل سے واضح ہے)۔ لہذا اِس دباؤ میں آکر جب شوہر نے طلاق نامہ پر دستخط کیے تو ظاہری حالات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے اِسی بات سے مجبور ہوکر دستخط کیے تھے کہ دستخط نہ کرنے صورت میں تمام خرچوں اور جائیداد وغیرہ سے محروم ہونا پڑے گا۔ اور اِس دباؤ اور مجبوری میں شوہر کی رضا بظاہر فوت ہوگئی تھی۔ لہذا  طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

فی رد المحتار: 3/236
"وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته، فكتب لاتطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية".

طارق مسعود

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

11، صفرالمظفر، 1444

n

مجیب

طارق مسعود

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔