021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کئی مرتبہ چوری ہونے والا کوئلہ خریدنے کا حکم
77727خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

سمندری جہازوں میں باہر سے جو کوئلہ آتا ہے، اس میں سب سے پہلے جہازوں کے ورکرز چوری کرکے کچھ کوئلہ چرا لیتے ہیں اور ڈمپروں میں مقرر شدہ وزن سے زیادہ ڈال لیتے ہیں، پھر ڈمپر والے وہی چوری کیا ہو کوئلہ جو زیادہ مقدار میں ڈالا گیا تھا اور اس کے ساتھ کچھ مزید کوئلہ بیچ دیتے ہیں اور پھر کوئلے پر پانی ڈال کر مقررہ وزن پورا کر لیتے ہیں، اس کے بعد یہ کوئلہ چھوٹے چھوٹے دکاندار خریدتے ہیں، ان سے بڑے ڈیلر کوئلہ خرید کر گوداموں میں جمع کر لیتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ پاکستانی کوئلہ ملا کربیچتے ہیں، سوال یہ ہے کہ چار مرتبہ ملکیت کی تبدیلی اور مختلف ہاتھوں میں جانے کی بعد اس کوئلے کی خریدوفروخت جائز ہے یا نہیں؟ بعض علمائے کرام تبدل ملک اور تناول مالکین کی بناء پر جواز کا فتوی دیتے ہیں۔

o

 بطور تمہید جاننا چاہیے کہ تبدلِ ملک سے تبدلِ عین کا اصول عام نہیں، بلکہ یہ اصول صرف اس وقت جاری ہوتا ہے جب اصل مالک کے پاس وہ چیز حلال اور جائز طریقے سے آئی ہو اور پھر وہ شخص کسی کو اس کا مالک بنا دے تو وہ چیز دوسرے شخص کے لیے جائز ہو جاتی ہے، جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو گوشت صدقہ کیا گیا، جو کہ ان کے لیے حلال تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال منع تھا، لیکن جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے وہ گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تو آپ کے لیے تبدلِ ملک کی وجہ سے حلال اور جائز ہو گیا۔لیکن اگر کوئی چیز پہلے شخص کے پاس حرام اور ناجائز طریقے سے پہنچی ہو تو وہ تناول الایدی یعنی یکے بعد دیگرے مختلف ہاتھوں میں منتقل ہونے سے حلال نہیں ہو گی، بلکہ بدستور حرام ہی رہے گی اور ہرشخص کے لیے اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہو گا۔ البتہ اگر کسی شخص کو اس کے حرام ذریعہ سے منتقل ہونے کا علم نہ ہوتو وہ عند اللہ معذور سمجھا جائے گااور اس کے حق میں اس کا استعمال جائز ہو گا۔

اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ باہر سے آنے والےکوئلے میں سب سے پہلے ورکرزڈمپروں میں مقررہ مقدار سے زیادہ وزن ڈال کر  چوری کا ارتکاب کرتے ہیں، پھر ڈمپر والے مزید چوری کرکے غیر مملوک چیز کو آگے بیچتے ہیں، اس طرح چوری کیا ہوا کوئلہ آگے منتقل ہوتا رہتا ہے ، جبکہ شرعی اعتبار سے یہ کوئلہ اسی شخص کی ملکیت شمار ہوتا ہے جس نے اس کی قیمت ادا کر کے باہر سے کوئلہ امپورٹ کیا ہے، مختلف ہاتھوں میں منتقل ہونے سے شرعاً کوئلے کی ملکیت منتقل نہیں ہوئی، بلکہ یہ حرام  اور غیر مملوک چیز ہی ایک دوسرے کی طرف منتقل ہو تی رہی اور غیر مملوک چیز کی خریدوفروخت کو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے باطل قرار دیا ہے، لہذا مذکورہ چوری شدہ  کوئلے کی خریدوفروخت قطعاً جائز اور درست نہیں، اس لیے جس شخص کو علم ہو کہ یہ کوئلہ چوری کرکے آگے فروخت کیا جا رہا ہے تو اس کے لیے اس کوئلے کی خریدوفروخت ہرگز جائز نہیں، البتہ اگر کسی شخص کو چوری کا علم نہ ہو اور وہ لاعلمی میں ایسا کوئلہ خرید لے تو اس کے لیے اس کا استعمال جائز ہو گا، اگرچہ بیچنے والے کو اس کا گناہ ہو گا، کیونکہ اس نے چوری شدہ غیر مملوک چیز آگے بیچی ہے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي (5/ 547، رقم الحديث: 10826) دار الكتب العلمية، بيروت:
وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ , ثنا محمد بن صالح بن هانئ , وإبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد , قالا: ثنا الحسن بن عبد الصمد بن عبد الله بن رزين السلمي , ثنا [ص:548] يحيى بن يحيى , أنا مسلم بن خالد الزنجي , عن مصعب بن محمد المدني , عن شرحبيل مولى الأنصار , عن أبي هريرة , عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها "
الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (5/ 98) دار الفكر-بيروت:
 وفيه: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه، بخلاف البيع الفاسد فإنه لا يطيب له لفساد عقده ويطيب للمشتري منه لصحة عقده. وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال.
حاشية ابن عابدين (5/ 98) دار الفكر-بيروت:
(قوله الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا (قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه.
فقه البيوع (ج:2ص1007) مكتبة معارف القرآن كراتشي:
وماورد في كلام بعض الفقهاء الحنفية أن الحرمة لاتتعدى إلى ذمتين، فهو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أي إذا لم يعلم الآخذ أن هذا المال حرام غير مملوك للمعطي وكذلك الصحيح أنه لايحل للورثة إذا علموا أنه حرام، سواء أعلموا أربابه، أم لم يعلموا، فإن علموا ردوه إلى أربابه، وإن لم يعلموا تصدقوه.
 

  محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/صفرالمظفر 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔