021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جماعت المسلمین کے ذریعہ غائب غیر مفقود کی بیوی کے فسخِ نکاح کا حکم
77510طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا نکاح سعودیہ میں ایک شخص سے ہوا، چار ماہ اکٹھے رہنے کے بعد اس شخص کو سعودی حکومت نے گرفتار کر لیا، گرفتار کرنے کی وجہ مجھے معلوم نہیں اور سسرال والے گرفتاری کی وجہ بتا بھی نہیں رہے، شروع میں شوہر نے کہا کہ ڈھائی سال تک میری قید ہے، اس کے بعد میں چھوٹ جاؤں گا، مگر اس عرصہ کے دوران رہائی نہ ہوئی، اس کے بعد بھی وہ مجھے اسی طرح کہتا رہا کہ میں چھوٹ جاؤں گا، مگر اب سات سال مکمل ہونے کو ہیں اور فی الحال اس کی رہائی کے کوئی اسباب نظر نہیں آر ہے۔ میں نے اس سے کئی مرتبہ طلاق اور خلع کا مطالبہ کیا تو اس نے صاف انکار کیا، میرے پاس نان ونفقہ کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے، گرفتاری کے بعد سسرال والوں نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا،شوہر کی طرف سے بھی نان ونفقہ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، میں اپنی بہن کے گھر رہتی ہوں، وہی میرا خرچ برداشت کر رہی ہے۔نیزمجھے اپنی عزت وعصمت کی حفاظت کے سلسلہ میں معصیت میں مبتلا ہونے کا ڈر ہے۔

نیز میرے پاس نکاح کے انداراج کے حکومتی کا غذات بھی نہیں، کیونکہ آپس کے دونوں خاندانوں نے مل بیٹھ کر خود ہی نکاح کیا تھا، حکومت کے ہاں اندراج نہیں کیا گیا تھا، اس لیے میں عدالت کی طرف رجوع بھی نہیں کرسکتی۔ لہذا برائے مہربانی آپ حضرات شریعت کی روشنی میں مجھے میرے مسئلہ کا حل بتایے۔

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ میرے شوہر کو منشیات کے ناجائز کام کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے، یہ پہلے بھی گرفتار ہوئے ہیں، سعودیہ کے قانون کے مطابق پہلی مرتبہ پندرہ سال سزا ہوتی ہے اور دوسری مرتبہ پکڑے جانے پر سزائے موت ہوتی ہے اور یہ دوسری مرتبہ پکڑے گئے ہیں، اس لیے اب چھوٹنے کی صورت بظاہر مشکل ہے۔سائلہ نے یہ بھی بتایا کہ میں نے اس سے کئی مرتبہ نفقہ کی بات کی تو وہ یہی کہتے ہیں کہ میں کیا کروں، کچھ نہیں کر پا رہا ہوں۔   

o

صورتِ مسئولہ میں چونکہ شوہر عرصہٴ دراز سے جیل میں قید ہے اور اس نے نان ونفقہ کا کوئی انتظام نہیں کیا اور آپ نے اس کو نفقہ معاف بھی نہیں کیا، نان ونفقہ عورت کا بنیادی حق ہے، جس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ بہر صورت لازم ہے، خصوصاً جبکہ آپ کے پاس بھی نان ونفقہ کا کوئی انتظام نہیں ہے، اس لیے سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق آپ کے شوہر پر غائب غیرمفقود اور معسر (تنگدست) ہونے کا حکم لگے گا اور ان دونوں وجوہ کی بنیاد پر عورت کو عدالت سے فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوتا ہے، البتہ اگر نکاح کا حکومتی کاغذات میں اندارج نہ ہونے کی وجہ سے آپ عدالت کے ذریعہ نکاح نہیں فسخ کروا سکتیں تو اس  صورت میں حل یہ ہے کہ آپ  اپنےعلاقے کے چار پانچ  نیک اور صالح آدمیوں (یہ مسئلہ چونکہ مالکی مسلک سے لیا گیا ہے،لہذا مالکی مسلک پر عمل کرتے ہوئے اس جماعت کے تمام اراکین کا صالح ہونا ضروری ہے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک  شرعی فیصلہ کے لیے قاضی کا صالح ہونا شرط ہے، لہذا فاسق جیسے ڈاڑھی منڈوانے والا اور دیگر کبائر کا مرتکب شخص اس جماعت کا رکن نہیں بن سکتا  کذا فی الحیلة الناجزة:صفحہ:39) کو فیصلہ کے لیے نامزد کرلیا جائے، جن میں کم از کم ایک یا دو آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، خاتون ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرے اور فیصلے کی مجلس میں گواہوں کے ذریعہ ثابت کردے کہ یہ  شوہر نان ونفقہ نہیں دیتا، يہ حضرات دعوی سننے کے بعد شوہر کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کانوٹس بھیجیں، اگر وہ حاضر نہ ہوسكے تو یہ چار یا پانچ رکنی جماعت  اس گواہی کی بنیاد پر اتفاقِ رائے سے  عورت پرایک طلاق واقع کردیں اور یہ طلاق رجعی شمار ہو گی، لیکن اس فیصلہ کے لیے جماعت کے تمام اراکین کا اتفاق ضروری ہے، کثرتِ رائے سے کیا گیا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا ،اس کے بعد اِس فیصلہ کی تاریخ سے آپ  کی عدت شروع ہو  جائے گی، عدت مکمل ہونے پر آپ شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ اگر بالفرض شوہر عدت کے اندر رہا ہو جائے اور وہ نان ونفقہ دینے پر بھی آمادہ ہو تو اس کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہو گا، اگر اس نے عدت کےدوران رجوع نہ کیا تو عدت ختم ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا۔ البتہ اگر شوہر عدت کے دوران رہا نہ ہوا، بلکہ بعد میں رہا ہوا تو پھر اگر اس نے آپ کے دعوی کے خلاف کوئی بات مثلا نان ونفقہ دینا یا آپ کا نفقہ معاف کر دینا ثابت کر دیا تو تب بھی شوہراول کا نکاح باقی سمجھا جائے گا اور بغیر تجدیدِ نکاح اور تجدیدِ مہر کے دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز ہو گا۔البتہ ایسی صورت میں اگر آپ دوسری جگہ نکاح کر چکی ہوں اور شوہرِ ثانی سے خلوتِ صحیحہ بھی ہو چکی ہو تو شوہرثانی کی عدت گزارنے سے قبل شوہراول کے لیے جماع اور دواعی جماع وغیرہ کا ارتکاب کرنا جائز نہیں ہو گا۔  اور اگر اس نے آپ کے دعوی کے خلاف کوئی بات ثابت نہ کی تو اس صورت میں شرعاً نکاح ختم ہونے کی وجہ سے اس کو آپ پر کسی قسم کے دعوی کا حق حاصل نہیں ہو گا۔( مستفاد من الحیلة الناجزة:78)

حوالہ جات

     الحيلة الناجزة  ، الرواية الثالثة من الفتاوى  المالكية: ص:128)، دارالإشاعت كراتشي:
       ومثل المفقود من  علم موضعہ وشکت زوجتہ عدم النفقة یرسل إلیہ الحاکم إما أن تحضر أو ترسل النفقة  أو تطلّقها وإلا طلّقها الحاكم، بل لو كان حاضرا وعدمت النفقة ٖ ثم بعد الطلاق تعتد عدة الطلاق بثلاثةأقراء للحرة وقرئين للأمة وإلا فثلاثة أشهر للحرة وقرئين للأمة في من تحيض وإلا فثلاثة أشهر للحرة  والزوجة لاستوائهما في الأشهر.    
     الحيلة الناجزة  ، الرواية الثانية والعشرون  من الفتاوى  المالكية: ص:149)، دارالإشاعت كراتشي:
قلت: مثلها الزوجة المطلقة في حال غيبة زوجها من الحاكم أو جماعة المسلمين لدعواها عدم النفقة من ماله بأن ادعت أنه لم يدرك لها ماتنفقه ولم يرسله لها ولم يؤكل من ينفق عليها وطلبت الطلاق وحلفت على ذلك فيطلق عليه الحاكم أو يأمرها بتطليق نفسها فيحكم به اھ، و في كتاب جامع أھم مسائل الأحكام في قطع الخصام مما اشتد إليه حاجة الحكام للشيخ إدريس ابن  خالد المالك مانصه: السادس في إعسار الغائب فإذا قامت زوجته عند القاضي كلفها إثبات الزوجيةو إثبات غيبته وإن لم يعلموا أنه ترده شيئا  ولا أحالها به ويؤدون الشهادة في ذلك على عينها ثم يضرب لها أجلا من شهر، وفي تحفة الحكام: وزوجة الغائب حيث أمّلت فراق زوجها بشهر أجلت فإن انصرم الأجل ولم يقدم الرجل حلفت على مثل ما شهدت به الشهود وطلقت نفسها طلقة رجعية فإن قدم موسرا في عدتها فله ارتجاعها وإن قدم عديما لم يكن له عليها سبيل إلا أن ترضى بالمقام معه بدون نفقة، وإن كانت محجورة ورضيت بالمقام معه بدون نفقة على أن تنفق علي نفسها من مالها، فذلك لها ولا كلام لوليها إذلو طلقت لم يكن لها من بد من النفقة على نفسها فمع الزوج الأول لأن فيه صونها۔اھ۔
معين القضاة للشيخ شمس الحق الأفغاني:(ص:31)مير محمدكتب  خانه كراچي:
الأصل أن الشهادة على النفي لا تقبل لأن الشهادة تنبئ عن المشاهدة المترتب عليها العلم بالمشهود إلا أنها تقبل في صور مخصوصة: الأولى إذا كان النفي معلوما بالتواتر مثلا: أن فلانا لم يكن في هذه البلدة وقت كذا وإن زيدا لم يقتل عمرا بالأمس، والثانية أن يكون النفي معلوما بالظن الغالب كالشهادة على التفليس بأنه ليس له مال والشهادة على حصر الورثة وأنه ليس له وارث غيره الثالثة والنفي إذا وقع في الشرط  فيجوز إثباته بالبينة كقول الرجل إن لم أدخل الدار اليوم فهي طالق أو فهو حر فشهدا على نفي الدخول تقبل۔ (معين احكام)
"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 198) دار الفكر للطباعة ، بيروت:
"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل".
الحيلة  الناجزة للحليلة العاجزة:(ص:190):
أن المتعنّت إذا رجع يحتمل إلحاقه بالمعسر وهو الأقرب فله إجزاء فی العدة، لا بعدها ويحتمل أن الطلاق عليه بائن وعليه فلا رجعة له حيث لا نص صريح فی المسئلة كما تقدم والله سبحانه وتعالى أعلم                                                                     الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 254) :
وإذا عجز الزوج عما وجب عليه من النفقة على التفصيل السابق ، وطلبت الزوجة التفريق بينها وبين زوجها بسبب ذلك ، فعند المالكية والشافعية والحنابلة يفرق بينهما. وذهب الحنفية إلى أنه لا يفرق بينهما بذلك ، بل تستدين عليه ، ويؤمر بالأداء من تجب عليه نفقتها لولا الزوج .
المغني لابن قدامة(9/ 244) دار الفكر ، بيروت:
وجملته أن الرجل إذا منع امرأته النفقة لعسرته وعدم ما ينفقه فالمرأة مخيرة بين الصبر عليه وبين فراقه وروي ذلك عن عمر وعلي وأبي هريرة وبه قال سعيد بن المسيب و الحسن وعمر بن عبد العزيز و حماد و مالك و يحيى القطان و عبد الرحمن بن مهدي و الشافعي و إسحاق و أبو عبيد و أبو ثور وذهب عطاء و الزهري و ابن شبرمة و أبو حنيفة وصاحباه إلى أنها لا تملك فراقه بذلك۔
الذخيرة (11/ 21) دار الغرب،بيروت:
قاعدة شاع بين الفقهاء أن الشهادة على النفي غير مقبولة وفيه تفصيل مجمع عليه وهو أن النفي المحصور تقبل الشهادة فيه كالشهادة على هذا البيت ليس قبلي فإنه معلوم النفي بالضرورة وكذلك غير المحصور إذا علم بالضرورة أو النظر كالشهادة على نفي الشريك لله تعالى ونفي زوجية الخمسة فهذه ثلاثة أقسام تقبل الشهادة فيها على النفي إجماعاً۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

11/محرم الحرام 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔