021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کا حکم
77750جائز و ناجائزامور کا بیانٹیسٹ ٹیوب بے بی اورخون کی منتقلی کے احکام

سوال

میری شادی کو نو سال کا عرصہ گزرچکا ہے، اور میں اب تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ ہم دونوں میاں بیوی اب تک سائنسی اور روحانی کافی علاج کرواچکے ہیں، لیکن تاحال کامیابی نہیں ہوسکی۔ ہمیں ایک ڈاکٹر نے جدید طریقہ علاج آئی وی ایف کروانے کا مشورہ دیا۔

 اس طریقہ علاج کے دوران ڈاکٹر میری منی کو میری موجودگی میں میری بیوی کے رحم میں ڈالینگے ، اس دوران بیوی دوائیوں کے زیر اثر بے ہوش ہوگی۔ ڈاکٹر کے مطابق اس طریقہ علاج کے دوران بھی حمل ٹھہرنے کا امکان 40 فیصد ہے۔ اسلام اور شریعت کی رو سے بتائیں کہ کیا یہ طریقہ علاج جائز ہے؟

o

اگر میاں بیوی کی فطری طریقے سے اولاد نہ ہوتی ہو، تو آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کا طریقہ بطورِ علاج اختیار کرنا جائز ہے اِس شرط کے ساتھ کہ جرثومہ کسی غیر مرد کا نہ ہو، بلکہ شوہر ہی کا ہو اور اُسے بیوی کے بیضہ سے جوڑ کر بیوی ہی کے رحم میں رکھا جائے، کسی اور خاتون کے رحم میں نہ رکھا جائے۔ اور علاج کے دوران مندرجہ ذیل دوباتوں کا مزید خیال رکھا جائے:

1۔ شوہر کی منی کا اخراج بیوی کے ذریعے سے ہو۔ بیوی کے ہاتھ کے ذریعہ بھی منی کا اخراج کیا جاسکتا ہے۔

2۔ بیوی کے رحم میں نطفہ پہنچانے کا عمل کسی لیڈی ڈاکٹر کے ذریعے انجام دیا جائے اور جتنا ستر کھولنے کی حاجت ہو، صرف اُس حد تک ستر کھولا جائے، باقی ستر کے حصے کو نہ کھولا جائے۔ اگر کسی لیڈی ڈاکٹر کا انتظام نہ ہوسکتا ہو اور نہ ہی یہ ممکن ہو کہ مرد ڈاکٹر کسی خاتون کو سکھا کر اُس کے ذریعے یہ عمل انجام دے تو پھر ایسی صورت میں مرد ڈاکٹر کے ذریعے بھی یہ عمل انجام دیا جاسکتا ہے، لیکن اِس میں پھر اِس بات کا اور زیادہ اہتمام ہو کہ ضرورت کی جگہ کے علاوہ باقی ستر کو مکمل ڈھانکا جائے، اور اِس کے ساتھ مرد ڈاکٹر کے ساتھ شوہر یا کوئی خاتون موجود ہوں تاکہ خلوت پیش نہ آئے۔

اِسی طرح مرد ڈاکٹر کو ایسی صورت میں اِس بات کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ وہ دورانِ علاج ستر کے حصے کی طرف کم سے کم نظر کرے اور ضرورت کے علاوہ اپنی نظر کو دوسری طرف رکھے۔

حوالہ جات

فی ردالمحتار: 6/371
"وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها، فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء، إلا موضع العلة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع، إلا عن موضع الجرح".
وفیہ أیضا: 2/298
"ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج يجوز تأمل وفي السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ"

طارق مسعود

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

13، صفرالمظفر، 1444

n

مجیب

طارق مسعود

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔